مشال کیس۔۔۔ عدالت میں عبداللہ کا بیان

بعدالت جناب محب الرحمٰن جوڈیشنل مجسٹریٹ درجہ اول.
عبداللہ ولد غوث الرحمٰن عمر 23/24 سال سکنہ براوال اپر دیر کا عدالتی بیان..
میں حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کا طالب علم ہوں اوراس وقت چھٹے سمسٹر میں ہوں۔ میرے والدین میرے جیب خرچ کے ساتھ ساتھ سارے اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔ میں پیدائشی مسلمان ہوں ، میرا سارا خاندان مذہبی اور سنی العقیدہ مسلمان ہے۔ میرا مذہب اسلام پر غیر متزلزل اور اندھا اعتقاد ہے اور میرا عقیدہ ہے کہ حضرت محمدؐ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ میرا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہ ہے اور میں ابلاغ عامہ کا منفرد طالب علم ہوں اس کی تصدیق میرے امتحانی نتائج سے کی جا سکتی ہے۔ میری ذہانت اور اچھی کارکردگی کے پیش نظر عبدالولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ مجھے بین الاقوامی تربیت لینے کے لئے وظیفہ پر،چین اور ہانگ کانگ بھیجنے کے لیے بھی تیار تھی۔ مرحوم مشال خان سکنہ صوابی میرا ہم جماعت تھا اور ہم دونوں ابلاغ عامہ کے شعبہ کے طالب علم تھے۔ گو کہ ہم ایک دوسرے کو پہلے سمسٹر سے جانتے تھے مگر ہماری دوستی کچھ ماہ پہلے ہوئی تھی کیونکہ مشعال میری طرح ایک ذہین اور نرم دل انسان تھا۔ اس نے ہر سمسٹر کے امتحانات میں اپنی جماعت میں پہلی پوزیشن لی تھی۔ مشال خان کی انگریزی بہت اچھی تھی اور میرے علم کے مطابق وہ روس میں بھی رہا تھا۔ وہ ایک کثیر الجہتی ,پر امید , اور کھلے ذہن کا مالک انسان تھا۔میری طرح وہ بھی کٹر مسلمان تھا۔
13 اپریل 2017 کو تقریباً گیارہ بجے میرے دوستوں میں سے ایک محمد عباس نے مجھے موبائل فون پر کال کی اور مجھے ابلاغِ عامہ کے شعبہ میں آنے کو کہا ، مذکورہ عباس ایک سازشی تھا۔ میں ابلاغ عامہ کے شعبہ میں پہنچا اور دیکھا کہ مدثر بشیر (جماعت کا نمائندہ) اصل مجرم اور باقی لوگ ، جنہوں نے وہاں اور بعد میں مجھ پر اور مشال پر توہین کا الزام عائد کیا اور یہ الزام بھی لگایا کہ ہم زبیر کے ساتھ صحیح راستے سے ہٹ گئے ہیں۔ میں نے ایک دم ان مذموم الزامات کی تردید کی اور اُن کے سامنے کلمہ پڑھا اور کلمے کااردو اور پشتو میں ترجمہ کیا۔ میرے منہ سے کلمہ سننے کے بعد انہوں نے مجھے مجبور کیاکہ میں یہ گواہی دوں کہ مشال خان نے گستاخی کی ہے اور وہ مذہب اسلام کے لیے مذموم مقاصد رکھتا ہے مگر میں نے انکار کیا کیونکہ میں نے کبھی اسکے منہ سے غیر پارلیمانی اور گستاخانه الفاظ نہیں سنے تھے۔ اس وقوعے کے دوران مجھے اساتذہ جن کے نام محمد فاروق، محمد ادریس اور ضیا اللہ ہمدرد ہیں نے طلبہ کے جسمانی حملے سے بچنے کے پیش نظر صدر شعبہ کے دفتر کے بیت الخلاء میں بند کر دیا۔ اس سے پہلے مجھے کلرک کے دفتر میں بھی بند کیا گیا تھا۔ مذکورہ اساتذہ صدر شعبہ کے دفتر میں جمع ہو گئے اور ہمارے تنازع کو حل کروانے کی کوشش کرنے لگے مگر اس عمل سے ہجوم جمع ہوا۔ اس وقت مشال مبینہ طور پر ہاسٹل میں تھا اور میں ذاتی طور پر اس کی صورت حال سے بے خبر تھا۔ تیرہ اپریل دو ہزار سترہ کے اس دردناک سانحے سے پہلے یونیورسٹی انتظامیہ مشال کے سخت خلاف تھی کیونکہ مشال خان نے یونیورسٹی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اے وی ٹی خیبر کو انٹرویو دیتے ہوئے یونیورسٹی کی طلباء دشمنی اور جارحیت کو بے نقاب کیا تھا اور وہ وڈیو دستیاب ہیں۔ مشعال خان نے انتظامیہ کے اختیارات کو غلط استعمال کرنے پر تنقید کی تھی کہ انتظامیہ طلباء کو بہترین خدمات نہیں باہم پہنچا رہی اور انتظامیہ غریب دشمنی کر رہی ہے۔ اس نے پہلے ان طلباء کے حق میں امتحان کا بائیکاٹ کیا تھا جو معاشی استظاعت نہ ہونے کی وجہ سے فیس نہیں ادا کر سکتے تھے اور فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے انتظامیہ انہیں امتحان میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دے رہی تھی، ہمارا وہ پرچہ منسوخ ہو گیا تھا اور کسی اور تاریخ کو دوبارہ لیا گیا تھا۔ جب میں صدرِ شعبہ کے دفتر کے بیت الخلاء میں تھا، غصے میں غضبناک ہجوم دروازہ اور کھڑکی کو توڑتے ہوئے اندر داخل ہوا اور مجھے دبوچ کر مکوں اور لاتوں سے پیٹنا شروع کر دیا۔ جب وہ مجھ پر بے رحمی سے حملہ آور تھے مقامی پولیس بچانے کے لئے آئی۔ میری بائیں آنکھ اور کمر پر چوٹیں آئیں۔ کچھ طلباء جو مجھے قریب سے جانتے تھے اور مطمئن تھے کہ میں بے گناہ ہوں وہ بھی مجھے بچانے کے لئے آئے۔ میں پولیس کی تحویل میں اسپتال میں تھا تو مجھے اسی دن یہ خبر ملی کہ مشعال خان طلباء کے ہجوم اور انتظامیہ کے اہلکاروں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہوگیا ہے۔ میں نے CCTV اور موبائل کی وڈیو دیکھی۔ میں ان لوگوں کو پہچان سکتا ہوں جنہوں نے مشال خان پر تشدد کیا اور جسمانی طور پر حملہ کیا۔ جب میں ہوش میں تھا اور ہجوم مجھے پیٹ رہا تھا میں نے دیکھا کہ اظہار اور فرحان جو ابلاغِ عامہ کے طالب علم ہیں اور ہم سے ایک جماعت پیچھے ہیں نے مجھے ہجوم کی طرف دھکیلا تاکہ وہ مجھے پیٹ سکے۔ وقوعه سے ایک دن پہلے بارہ اپریل کو میں مشال خان سے ملا تھا ، وقوعے کے دن میں اس سے نہیں ملا۔ میں نے یونیورسٹی کے طلباء اورانتظامیہ کے ہاتھوں مشال خان کی ظالمانہ موت کے متعلق وڈیو دیکھی۔ جنہیں میں جانتا ہوں انہیں پہچان سکتا ہوں۔ بچت کے بعد جب مجھے ایم ایم سی مردان طبی امداد دی گئی اور مردان پولیس نے مجھے میرے رشتہ داروں کے حوالے کیا اور اطمینان کیا کہ جب اور جہاں میری ضرورت پڑے گی میں تفتیش کا حصہ بنوں گا۔ میں نے آج رضا کارانہ طور پر پولیس سے رابطہ کیا، مجھے نہ صرف اپنے لئے بلکہ مشال خان کے لئے انصاف چاہے کیونکہ ہم بے گناہ تھے۔ یہ میرا بیان ہے۔
عبداللہ بن غوث الرحمٰن
شناختی کارڈ نمبر 15704-9732991-5
محب الرحمٰن
جوڈیشنل مجسٹریٹ درجہ اول مردان.

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *