کالم    ( صفحہ نمبر 3 )

پولیس تشدد کے بھیانک عفریت سے بچنے کا کوئی طریقہ ہے کیا؟۔۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

آج سے 24،25 سال پرانی بات ہے کہ تھانہ مسلم ٹاؤن لاہور کے اہلکاروں نے انسپکٹر ارشاد اختر گلاب کی سربراہی میں راقم کے ایک دوست فیاض حیدری کو نام کی مماثلت کی وجہ سے اس کی دکان واقع بادامی←  مزید پڑھیے

جنگ کی طرف بڑھتے قدم۔۔۔اسلم اعوان

یہ سوئے اتفاق ہے یا تقدیر کا جبر کہ سنہ 1971 کی طرح آج بھی روایتی دشمن بھارت کے ساتھ عین اس وقت کشیدگی انتہاؤں کو چھونے لگی ہے جب قوم کی اجتماعی قوت منتشر اور ریاستی نظام بتدریج ڈھلوان←  مزید پڑھیے

اَڑیل ہے ٹٹو۔۔۔۔سہیل وڑائچ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و دنیا بیچ اس مسئلے کے؟ پہیہ سست سے سست ہو کر رکنے والا ہے نہ معیشت چلتی نظر آ رہی ہے اور نہ انتظامی ڈھانچہ روبہ عمل ہے۔ 2ب یعنی بزنس مین اور بیورو←  مزید پڑھیے

کشمیر کا مقتل اور یہ ’ ملنگ لوگ‘۔۔۔۔۔آصف محمود

کشمیر میں کرفیو کا عذاب اترا ہوا ہے اور آسام میں 19 لاکھ مسلمانوں کو شہریت سے محروم کر دیا گیاہے۔سوال یہ ہے روشن خیالی کے وہ’ ملنگ لوگـ‘ کہاں ہیں ، رعونت کے تکیے پر حقارت کی بھنگ پی←  مزید پڑھیے

میدانِ حشر اور حسینی ہونے کے دعویدار۔۔۔۔محمد اظہار الحق

صور جب پھونکا گیا ہے تو میں ہڑ بڑا کر اُٹھا۔ سر کے اوپر بہت بڑا شگاف تھا۔ باہر نکل کر دیکھا تو لاکھوں قبروں سے انسان باہر نکل رہے تھے۔ مرد‘ عورتیں‘ بوڑھے ‘ بچے ،جوان! سب نے ایک←  مزید پڑھیے

کیا موجودہ حکومت اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے سنجیدہ ہے ۔۔سلمیٰ اعوان

ڈاکٹر انعام الحق جاوید فون پر تھے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود لاہور کے ادیبوں،دانشوروں سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ہفتہ کی شام ایوان اقبال میں نشست ہوگی ۔کچھ تو وہ لاہوری ادیبوں کی سُننا چاہتے ہیں اور یقیناً وہ کچھ←  مزید پڑھیے

کیا پاکستان اور اسرائیل مل بیٹھنے والے ہیں؟۔۔۔آصف خان بنگش

اسرائیلی خبر رساں ایجسنی Haaretz میں آج ایک مضمون چھپا کہ کیا پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہا ہے۔ زیر نظر تصویر یکم ستمبر 2005 کی ہے جب پاکستان بننے کے بعد پہلی بار مشرف کے دور میں پاکستان←  مزید پڑھیے

وزیراعظم کا ٹویٹ ،ٹیلیفون جہاد اور تحریک کشمیر۔۔۔۔ارشد بٹ

نئے پاکستان کے نئے حکمرانوں نے کشمیر کی آزادی کے نت نئے طریقے دریافت کرنا شروع کر دیے ہیں۔ نہ بیرونی دوروں کی ضرورت، نہ سفر کی تھکان سے چور ہونے کا اندیشہ، نہ سرکاری خزانے پر بوجھ۔ ۔ عالمی←  مزید پڑھیے

کشمیر کی بدلتی صورتحال۔۔طارق احمد

امریکہ نے پاکستان سے کہا,آپ طالبان سے بات چیت کریں۔ ان پر اپنا اثر استعمال کریں  اور ہمیں محفوظ راستہ لے کر دیں۔ اس کے بدلے آپ افغانستان میں ایک پولیس مین کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان سمجھا۔۔←  مزید پڑھیے

پاکستان کیا کرے۔۔۔۔طاہر علی خان

مسلم ممالک نے پہلے پاکستان کے احتجاج اور بائیکاٹ کے باوجود انڈیا کو او آئی سی اجلاس میں بٹھایا اور اب کشمیر پر پاکستان کا ساتھ دینے کے بجائے وزیراعظم مودی کو انعام سے نوازا۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ←  مزید پڑھیے

آثار کچھ بہار کے پیدا ہوئے تو ہیں۔۔۔انعام رانا

تین سال قبل جب مکالمہ شروع ہوا تو ایک دھن تھی کہ یہ چلنا چاہیے۔ الحمداللہ یہ چلا اور کامیاب ہوا۔ اللہ کے بے شمار احسانات میں ایک احسان یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ مجھے مخلص دوستوں سے ملوا←  مزید پڑھیے

کیا نازی حراستی مراکز دوبارہ کھولے جا رہے ہیں ؟۔۔۔منور حیات سرگانہ

(detention center)ایسے حراستی مراکز کو کہا جاتا ہے جہاں ایک ریاست کسی بھی جرم کے مرتکب افراد کو سزا کے طور پر رکھتی ہے،یا کسی بھی ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کو ایک مقررہ میعاد←  مزید پڑھیے

دنیا کا ڈرائنگ روم۔۔۔یاسر پیرزادہ

موازنہ بنتا تو نہیں مگر کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں۔ پاکستا ن کے پاس سرسبز پہاڑ ہیں، سوئٹزر لینڈ کے پاس بھی دنیا کے بہترین پہاڑ ہیں، پاکستان میں دریا بہتے ہیں سوئٹزر لینڈ کے شہروں میں بھی دریا←  مزید پڑھیے

بیمار ایئر لائن ۔ واحد حل نجکاری۔۔۔۔محمد اظہار الحق

حکومت پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ کام کرنے کے بجائے کام کی تشہیر زیادہ کی جاتی ہے۔ دنیا نے صدیوں کے تجربے کے بعد یہ اصول وضع کیا ہے کہ کام خاموشی سے کیا جاتا ہے۔ ڈھنڈورا نہیں←  مزید پڑھیے

نتھو رام کا بھارت۔۔۔روبینہ فیصل

جب گلاب سنگھ نے عہد نامہ امرتسر کے تحت 16مارچ 1846کو انگریزوں سے کشمیر خریدا تو ریاست کا کل رقبہ 84,471 مر بع میل تھا یعنی مہاراجہ کو زمین 155روپے فی مربع میل اور ایک انسان سات یا سوا سات←  مزید پڑھیے

جلتا کشمیر اور حکومت پاکستان کی پھونکیں۔۔۔محمد منیب خان

“مسئلہ کشمیر” آج کا مسئلہ نہیں یہ بہتّر سال پرانا مسئلہ ہے اور کشمیر کے باسی گزشتہ بہتّر سال سے اپنے حق خود ارادیت کے لیے اقوام عالم کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی آواز←  مزید پڑھیے

ہم آہستہ آہستہ مرتے ہیں۔۔۔آصف محمود

گائوں میں اپنے خاندان کے قبرستان میں کھڑا تھا اور کچھ یاد نہیں آ رہا تھا کون کہاں دفن ہے۔ صرف دو قبروں پر کتبے لگے تھے ۔مٹی کی کچھ ڈھیریاں تھیں اور یادوں کا ہجوم۔ان ڈھیریوں میں میرے اپنے←  مزید پڑھیے

ایسی فضا میں ’’ادبی میلے‘‘ کیوں؟۔۔۔۔محمد اظہار الحق

’’2002ء کے قتل عام پر ایک نظر ڈالیے۔ اس سال 27فروری کو گجرات میں گودھرا ریلوے سٹیشن پر ایک ٹرین کو آگ لگ گئی اس میں ہندو زائرین سوار تھے۔ فی الفور اور ذرہ بھر ثبوت کے بغیر مودی نے←  مزید پڑھیے

دیکھنے ہم بھی گئے تھے واں ۔۔۔سید عارف مصطفیٰ

آج بروز جمعہ 30 اگست یوم یکجہتیء کشمیر منایا گیا اور حکومت پاکستان کی جانب سے دن 12 سے ساڑھے 12 بجے تک ٹریفک روک کر گویا کشمیریوں پہ بھارتی مظالم کی ٹریفک روکنے کا اہتمام کیا گیا اور یوں←  مزید پڑھیے

کشمیر کے حالاتِ حاضرہ اور کشمیری پنڈتوں کا کردار۔۔افتخار گیلانی

کشمیری قوم پر اس وقت جو اُفتاد آن پڑی ہے اور جس طرح مودی حکومت نے ان کے تشخص و انفرادیت پر کاری وار کیا ہے، ہونا تو چاہیے تھا کہ مذہبی عناد سے اُوپر اٹھ کر اس کا مقابلہ←  مزید پڑھیے