کالم    ( صفحہ نمبر 2 )

اور پھر ایک دن ۔۔رؤف کلاسرا

تھرڈ ورلڈ ملکوں کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے کہ ان کو ایسے لیڈر ملیں گے جو انہیں آسانی سے بیوقوف بنائیں گے۔ ان ملکوں کی قیادت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ نئی نئی←  مزید پڑھیے

حکومتی ’’رولز آف بزنس‘‘ کی زد میں آئے یوٹیوبز۔۔نصرت جاوید

بدھ کی رات سے اکیلا بیٹھا دیوانوں کی طرح ہنسے چلاجارہا ہوں۔بہت دنوں سے میرے چند بہت ہی پُرخلوص چاہنے والے اصرار کئے چلے جارہے تھے کہ دیگر کئی صحافیوں کی طرح میں بھی اپنا یوٹیوب چینل شروع کردوں۔میں بڑھاپے←  مزید پڑھیے

پوٹھوہاری تہذیب کی نمائندہ کتاب۔۔۔طاہر یاسین طاہر

کسی زبان کا حسن اس کا روز مرہ ، محاورے اور اس کا ادب ہوتا ہے۔یہ بحث کا مقام نہیں کہ پوٹھوہاری زبان ہے یا بولی،نیزبولی اور زبان میں کیا فرق ہے؟ یا کوئی مقامی بولی کن مراحل سے گزرتےہوئےزبان←  مزید پڑھیے

یہاں ناپنے،تولنے،جانچنے اور پرکھنے کے پیمانے ہی نہیں ہیں۔۔اسد مفتی

سائنسدانوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی کا طوفان اور پھیلتی آلودگی کے باعث جنگوں کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔جرمنی کے پروفیسر ولیم ہاگن نے کہا ہے کہ ہم تیل پر جنگیں لڑ چکے←  مزید پڑھیے

کیا اب برقع پر بحث بند ہونی چاہیے؟۔۔ابھے کمار

سپریم کورٹ کے سابق جج اور پریس کونسل آف انڈیا کے سابق چیئرمین مرکنڈے کاٹجو نے ایک بار پھر متنازع بیان دیا ہے اور اقلیت مسلمانوں کے مذہب اور ثقافت کے متعلق غیر سنجید گی کا اظہار کیا ہے۔ اس←  مزید پڑھیے

کس میں جرات ہے۔۔جاوید چوہدری

میرے بچپن کی بات ہے‘ ہماری گلی میں ایک دکان دار ہوتا تھا‘ اس نے زندگی میں بے شمار کام کیے لیکن کوئی بھی کام نہ چل سکا‘ وہ ایک مکمل فیل بزنس مین تھا مگر پھراس نے کریانے کی←  مزید پڑھیے

آرڈیننس فیکٹری سے موہٹہ پیلس تک۔۔امجد اسلام امجد

شاعری ایک ایسی باکمال روایت ہے کہ اس کے دامن میں ایسی ایسی چیزیں بھی ایک جگہ پر جمع ہوجاتی ہیں جن میں بظاہردور بلکہ دُور دراز کا رشتہ بھی نہیں ہوتا اس کا ایک مظاہرہ گزشتہ ہفتے کے دوران←  مزید پڑھیے

’’توہین عمران‘‘ کا ’’توہین بلاول‘‘ سے بدلہ ۔۔نصرت جاوید

بنا کسی بحث کے مراد سعید صاحب کی کہی تمام باتیں مان لیتے ہیں۔منگل کے روز قومی اسمبلی میں ایک دھواں دھار خطاب کے ذریعے جواں سال وزیر مواصلات نے ہمیں یہ بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین درحقیقت←  مزید پڑھیے

عمر کٹ جائے آنے جانے میں ۔۔محمد اظہار الحق

یہ میری آنکھیں مُند کیوں رہی ہیں؟ یہ خون میں لرزش سی کیوں ہے؟ یہ رگوں میں لہو ہے یا مشعلیں جل رہی ہیں؟ یہ راستہ جس پر گاڑی دوڑ رہی ہے، کیا وہی ہے جس پر اونٹنی اِس کائنات←  مزید پڑھیے

ہمیں صرف آنسو نہیں بہانے۔۔حامد میر

وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا۔ عاصمہ جہانگیر کو یہ دنیا چھوڑے دو سال گزر بھی گئے۔ گیارہ فروری کو اُن کی دوسری برسی پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد میں عاصمہ جہانگیر میموریل لیکچر کا←  مزید پڑھیے

پھر کچھ کالے قول۔۔حسن نثار

کالے قول اسی لئے سنبھال رکھے ہیں کہ جب باقی ہر شے سے بے زاری اور اکتاہٹ عروج پر پہنچ جائے تو خاکسار خاموشی سے کالے قولوں کی ’’پناہ گاہ‘‘ یا ’’گناہ گاہ‘‘ میں عافیت تلاش کرے۔ ٭ …..مہنگائی مصنوعی←  مزید پڑھیے

عمران خان ایماندار تو ہے۔۔آصف محمود

تبدیلی سے جو امیدیں اور خوش گمانیاں لپٹی تھیں وہ پہلے پت جھڑ میں ہی سوکھ گئیں۔خواب اب پتوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں۔خزاں کے قاصد کا مگر آج بھی یہی دعوی ہے اگلے ساون میں شہر کی ساری گلیاں←  مزید پڑھیے

جیسا بیج ویسا پھل۔۔روبینہ فیصل

درخت کاٹ کر کاغذ بنا کر جب اس پر لکھا جاتا ہے کہ درختوں کی حفاظت کریں تو کیسا لگتا ہے؟ بالکل ویسا ہی نا جیسے بچوں کو مادیت پرستی، جھوٹ، بغض، مقابلے بازی اور کینہ سکھا کر معاشرے سے←  مزید پڑھیے

سعید غنی کے آنسو۔۔رؤف کلاسرا

سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کو کراچی میں اپنے سکول کی تقریب میں آنکھوں میں آنسو بھرے دیکھ کر بہت کچھ یاد آیا۔ ان سے بولا نہ گیا‘ لفظوں نے ساتھ چھوڑ دیا‘ وہ صرف اتنا بول پائے:←  مزید پڑھیے

کتاب میلے تو ہیں، پڑھنے والے کہاں ہیں؟۔۔یاسر پیرزادہ

چند دن پہلے لاہور میں کتاب میلہ ہوا، ہم بھی دوستوں کے ہمراہ وہاں گئے، گاڑی لگانے کی جگہ نہیں تھی، کھوے سے کھوا چھل رہا تھا، لوگ بال بچوں سمیت پہنچے ہوئے تھے، دھڑا دھڑ کتابیں خرید رہے تھے۔←  مزید پڑھیے

وہ مائیں ہی نہیں جو عمران جیسے بچے پیدا کریں۔۔حبیب اللہ خان

25سال پہلے وہ دن کتنا شاندار تھا۔ لاہور شہر میں ایک ایسا ہسپتال بنانے کی بنیاد رکھی جانے والی تھی، جس میں کینسر جیسے موذی مرض کا غریبوں کے لئے مفت علاج ہونا تھا۔ ایک کرکٹ کے کھلاڑی کا اپنی←  مزید پڑھیے

’’دال دلیہ‘‘ چلانے کی حقیقت ۔۔نصرت جاوید

اسلام آباد وطنِ عزیز کے لئے ’’ماڈل‘‘ شہر تسلیم ہوتا ہے۔ 1960کی دہائی سے آباد ہونا شروع ہوا تھا۔ میں اس شہر میں 1975کے برس وارد ہوا تھا۔لاہور کی تنگ وتاریک گلیوں کے مقابلے میں یہ شہر بے پناہ اُجلادکھائی←  مزید پڑھیے

لنڈا فروش کا اکلوتا بیٹا۔۔حسن نثار

تقریباً ایک سو دس پندرہ سال پہلے یہ مفلوک الحال لٹا پٹا خاندان روس سے آیا اور غریب نواز قسم کے شہر نیویارک میں آباد ہو گیا۔ تب کا نیویارک اب کے کراچی سے ملتا جلتا شہر تھا۔ خاندان کے←  مزید پڑھیے

اینٹی لائبریری۔۔محمد عامر خاکوانی

ممکن ہے آپ کے ساتھ کئی بار ایسا ہوا ہو کہ کسی کتاب میلے ، ادبی کانفرنس سے کتابیں خریدی ہوں مگر انہیں پڑھنے کا وقت نہ ملا ہو۔ یہ کتابیں بغیر چھوئے پڑی ہوں اور آپ کہیں اور سے←  مزید پڑھیے

غبارے پھاڑنے کے علاوہ۔۔جاوید چوہدری

ہم اسحاق ڈار کی تازہ سیاسی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں‘ پہلے حصے میں 2013ءسے 2017ءتک چار سال آتے ہیں اور دوسرادوراکتوبر2017ءسے آج تک پر محیط ہے‘ مجھے آج یہ اعتراف کرتے ہوئے شرمندگی ہو رہی←  مزید پڑھیے