کیسا شکنجہ ہے یہ کس تَوسنِ برق رفتار پر کاٹھیاں کَس رہے ہو یہ پھر کون سے معرکے کا ارادہ تمہاری نسوں میں یہ پھر کیسی وحشت کا جادہ کُھلا ہے فصیلوں پہ اک پرچمِ خُوں چَکاں گاڑ دینے کی← مزید پڑھیے
’’ اب یہ نہ کہنا کہ تم تہجّد کے لئے اُٹھے تھے ۔ اس واسطے کہ دارالافتاٗ کے مطابق صبح صادق کے بعد سے اشراق تک ، عصر کے بعد غروب آفتاب تک اور نصف النہار کے دوران کوئی بھی← مزید پڑھیے
مقدونیہ کے شہر سیلونیکا میں علی رضا اور زبیدہ کے ہاں 1881 میں پیدا ہونے والے مصطفیٰ نے ترک قوم کو بیرونی عالمی طاقتوں کے تسلط سے ملک آزاد کروا کے دیا، خلافت کے نام پر بادشاہت جو برائے نام← مزید پڑھیے
اس کو ہسپتال میں داخل ہوئے آج تیسرا دن تھا اور میں ہر روز دفتر سے چھٹی کے بعد ملیر ہالٹ اس کی عیادت کرنے ہسپتال جاتا تھا۔ اس کے بوڑھے ماں باپ اپنی بیٹی کے سرہانے بیٹھے ملتے اور← مزید پڑھیے
“دیپ جلتے رہے”کراچی میں مقیم محترمہ عفت نوید صاحبہ کی خود نوشت سوانح عمری یا سرگزشت ہے ۔ عفت سے مری دوستی کی وجہ میری ایک تحریر تھی جو ایک میگزین میں شائع ہوئی اور انہوں نے اس پر مجھے← مزید پڑھیے
کُن فیاکُن کے بعد سے میں بڑا پریشان تھا – جتنوں کو زندگی دی گئی تھی سارے مردار تھے ، سب کی آنکھیں بند تھیں، کان بند ،منہ بھی بند۔۔۔ ہاں مگر بڑے بڑے نتھنوں والی ناک زندہ تھیں، جو← مزید پڑھیے
شاعری ایک فطری صلاحیت اور لگاؤ کا نام ہے جس میں شاعر اپنے احساسات و جذبات کو صفحہ قرطاس پر بکھیرتا ہے۔اسے فطرت کی طرف سے شعور وآگاہی ملتی ہے۔ قدرت اسے کچھ سوچنے ، کہنے ، اکسانے اور لکھنے← مزید پڑھیے
میں تمام دنیا اور کیفیات سے خالی الذہن ہو کر بنچ پر بیٹھی اِدھر اُدھر دیکھ رہی ہوں۔ ریل کی پٹڑیوں کی چمک کے ساتھ ساتھ دوڑتی ہوئی نگاہیں دور کہیں اندھیرے میں کھو جاتی ہیں تو پھر مڑ کر← مزید پڑھیے
یک قدم وحشت سے درس ِ دفتر ِ امکاں کھلا جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طالبعلم -ایک یک قدم وحشت؟ فقط اک ہی قدم کیا ؟ اک قدم ہی سرحد ِ قائم مزاجی سے پرے؟ اک← مزید پڑھیے
مرزا اسد اللہ خان غالب ( آمد۔1797 ۔ رخصت 1869) اردو کے ادب کی تاریخ میں ایک بلند پایہ شاعر ہیں۔ جن کے اشعار لوگوں کو سب سے زیادہ یاد ہیں۔ ان کے زندگی کے واقعات رنج، اداسی اور انبساط← مزید پڑھیے
میں شیشے کے سامنے کھڑا حسرت سے اس شخص کو تک رہا تھا جو آئینے میں نظر آرہا تھا…اس کی آنکھوں میں بے خوابی کے ہلکے سرخ ڈورے تھے اور چہرے پر درماندگی کے نقوش…میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ در آئی…ایک← مزید پڑھیے
افسانہ ازل سے کہانی کے دامن سے کچھ اچھوتے پل لیتا ہے اور تجسس بھرےاختتام سے چونکا دینے کا ہنر ہی اسے منفرد بناتا ہے۔ ورنہ کہانی تو داستان میں بھی ہے،ناول کی جان ہے،شاعری کی بنیاد ہے،سوانح عمری کہانی← مزید پڑھیے
زندگی ایک سفر ہے،پانی اور سائے کی طرح ہے ،آبی بخارات کی طرح ہے،پھول کی طرح ہے،انسان جو عورت سے پیدا ہوتا ہے تھوڑے دنوں کا ہے۔دکھ سے بھرا ہے۔وہ پھول کی طرح نکلتا اور کملا جاتا ہے۔زندگی کے مختصر← مزید پڑھیے
اپنے حجرے میں پڑا حالتِ بے دماغی میں, خوابِ فنا کی وادیوں میں پھسلنے کو ہوا۔خوش جمال پریاں اپنے نازک رنگین پروں کی پھریریوں سے نورِ جمال بکھیرتی جاتیں۔ پُرکیف تھی صدا, عجب چتون تھی, غضب تھی ادا، لیکن وائے← مزید پڑھیے
کس طرح مَیں سمیٹوں مرے بازوؤں کا یہ حلقہ بہت تنگ ہے پُھول ہی پُھول ہیں میرے چاروں طرف طشت ہی طشت ہیں جن میں لعل و جواہر کے انبار ہیں کیا خزانے ہیں یہ کیسی دُنیا کے آثار ہیں← مزید پڑھیے
عجیب حادثہ ہوا علیل ماں جو ہسپتال میں پڑی کئی دنوں سے چھٹپٹا رہی تھی ایکاایک جیسے سوگئی توآسماں کی سمت دیکھ کر یتیم طفل چیخ چیخ اٹھے خدایا رحم کر ہماری کم سنی پہ رحم کر دعا نے پھڑپھڑائے← مزید پڑھیے
سوشل میڈیا کی نئی دنیا میں جن چند لکھاریوں نے اپنا نام بنایا یا کہہ لیں خود کو برانڈ بنایا ان میں انعام رانا کا نام شامل ہے۔ رانا کی تحریریں پڑھتے ہوئے مجھے احساس ہوا اس سیلف میڈ انسان← مزید پڑھیے
علم روشنی ہے جو تاریکی میں چمکتا ہے اور تاریکی کو ختم کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔جبکہ ادب زندگی کا عکاس ہے۔دونوں کی اپنی اپنی جگہ فضیلت و مقام ہے۔دونوں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی قربت رکھتے ہیں۔ لکھنا پڑھنا← مزید پڑھیے
عاقبت منزل ما وادی خاموشاں است حالیہ غلغلہ د ر گنبد افلاک انداز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکیروں کے چکر میں محبوس اک د ائرہ ہے لکیریں بہت تیز رفتار سے گھومتی ہیں مدار اپنا لیکن نہیں بھولتیں اس سفر میں کہاں سے← مزید پڑھیے
مولانا ابو الکلام آزاد نے اپنے ایک خط میں امامِ انقلاب عبیداللّٰلہ سندھی کی بے مثل خدمات اور وفات حسرت آیات کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے ، یہ خط ماہنامہ الرحیم حیدر آباد ماہ جولائی اگست 1968ء میں مطبوعہ← مزید پڑھیے