ست رنگی خوشبو/سیّد محمد زاہد

میں تمام دنیا اور کیفیات سے خالی الذہن ہو کر بنچ پر بیٹھی اِدھر اُدھر دیکھ رہی ہوں۔ ریل کی پٹڑیوں کی چمک کے ساتھ ساتھ دوڑتی ہوئی نگاہیں دور کہیں اندھیرے میں کھو جاتی ہیں تو پھر مڑ کر پلیٹ فارم کے ہجوم کو تکنا شروع کر دیتی ہوں۔ مجمع کے مد و جذر میں تھپیڑے کھاتا کوئی شخص سامنے آ جاتا ہے، پاس سے گزرتا ہے، تو نظر بھر کر اس کو ضرور دیکھتی ہوں۔ یہ اسٹیشن، یہ شہر ایک مکمل دنیا ہے۔

آگے پیچھے لوگ ہی لوگ۔۔ چلتے پھرتے، بھاگتے لوگ۔ کچھ زندگی کی دھوپ میں جھلسے ہوئے اور کچھ مد مست پروائی میں ٹھٹھرے ہوئے، بے قرار سے۔ نئی ٹرین اور پھر لوگ۔ ایک اور ٹرین، اور کچھ اور لوگ۔ فرش پر سوٹ کیس کے پہیوں کی آواز۔ کوئی کسی کی طرف نہیں دیکھتا۔ سب کو اپنی اپنی پڑی رہتی ہے۔ چلتے چلتے رک جانا، کھڑے کھڑے بیٹھ جانا۔ کبھی ہاتھ میں پکڑی ٹکٹ کو دیکھنا پھر پلیٹ فارم نمبر ڈھونڈنا۔ سائن بورڈ پر ٹکٹکی لگائے رکھنا۔ مسلسل لکھا آ رہا ہوتا ہے کہ ٹرین دس منٹ بعد آئے گی اور اس سے اگلی ایک گھنٹہ بعد لیکن پھر بھی اس سے نظریں نہ ہٹانا۔ بے قراری کی نشانیاں ہر طرف، ہر کسی کی، ہر ادا سے ٹپکتی نظر آتی ہیں۔ مواج سمندر کی طرح سانس لیتے انسان، جن کے سر پر ہمیشہ سفر سوار رہتا ہے۔

ٹرین پلیٹ فارم پر پہنچ رہی ہے۔ پہیوں کی گھسٹنی اور بریکوں کی کریچ۔ لوگوں کی بے قراری بڑھ جاتی ہے۔ بھاگ دوڑ شروع۔ پلیٹ فارم کے نا ہموار فرش پر اونچی ایڑیوں کی ٹھک ٹھک۔ بیگ کھینچتے لوگ لپکتے ہیں۔ ٹرین رکتی ہے۔ آٹو میٹک دروازے کھل جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ایک طرف ہو کر اترنے والوں کو راستہ دیتے ہیں۔ کچھ بے تاب دوسری طرف سے اندر داخل ہونا شروع کر دیتے ہیں۔

ماں اپنی بیٹی کا ہاتھ زور سے تھامے کھڑی رہتی ہے۔ بچی ٹرین کی طرف لپکتی ہے۔ اس کا فراک ٹرین کی ہوا میں اُڑتا ہے۔ ٹیڑھی چوٹیاں لہراتی ہیں۔ موٹی موٹی ٹانگیں، اس کی عمر سے زیادہ کمزور لیکن گول مول۔ ماں اسے کھینچ کر اپنے اندر چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ بچی اچھلتی ہے، اردگرد کے لوگوں سے بے خبر، ساری دنیا سے غافل۔ ماں کی بے انتہا چاہت، بے تحاشا تعلق۔ چہرے سے ٹپکتی ممتا کی چاشنی میں کڑواہٹ گھل جاتی ہے۔ سمندر میں ایک قطرہ گرتا ہے تو ختم ہو جاتا ہے، ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ ماں کی آنکھوں میں خطرہ ابھرتا ہے۔ ماں اپنی بچی کی حفاظت ساری عمر کرے گی؟ اسے ہتھیلی کا پھپھولا بنا کر رکھے گی؟

ادھر سے ایک جوڑا آتا دکھائی دیتا ہے۔ لڑکے کی ابھی ابھی مسیں بھیگی ہیں اور لگتا ہے کہ لڑکی اسی سال سکول سے فارغ ہوئی ہے۔ ایک دوسرے سے الجھتے، کلکاریاں بھرتے، کلیلیں کرتے، جیسے بکری کے بچے پرائے کھیت میں پھدکنے آ جاتے ہیں۔ طائرانہ نگاہ بھی پہچان جاتی تھی کہ ابھی پیار کی پینگیں جھول رہے ہیں، کاغذی بندھن میں نہیں بندھے۔ سب جہاں سے بے نیاز۔ کسی چیز کی جلدی نہیں۔ اتنا اعتماد کہ جیسے ٹرین انہیں لیے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔ ٹرین نے سیٹی بجائی تو متوالا بھاگ کر سوار ہو گیا اور مد کی ماتی وہیں کھڑی رہ گئی۔ کچھ سنبھلی تو اپنے وزن سے بھی بھاری بیگ گھسیٹتے ٹرین کی طرف لپکی۔ آٹومیٹک دروازوں کے بند ہونے کی گڑگڑاہٹ شروع ہوئی تو لڑکا ہاتھ پکڑ کر چلایا

”جلدی کرو۔“

نرم و نازک پیار بھرے چہرے پر مردانہ کرختگی ابھر آئی تھی۔ بند ہوتے دروازے سے اس نے نازک گڑیا کو اندر کھینچ لیا۔

یہ ریلوے اسٹیشن ہے۔ کوئی ادھر نہیں ٹھہرتا، سب آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ کچھ دیر کو رکتے ہیں اپنی سواری کے انتظار میں، اپنی منزل آنکھوں میں سجائے خوشی خوشی یا دکھی دکھی، وقت اور حالات کے بدلنے سے جذبات میں اتار چڑھاؤ بھی عام ہے۔

نظریں اس دنیا کا میلہ دیکھ رہی ہیں۔ اکثر مسافر جا چکے تھے۔ میرے بنچ کے پاس ہی ایک میاں اپنے خاندان کو گھور رہا تھا۔ ادھیڑ عمر کا آدمی اور سفری تھکاوٹ سے مری، تین بچوں کو سنبھالتی عورت۔ سامان بکھرا پڑا تھا۔ کہیں، لمبے سفر سے لوٹے تھے۔ ہینڈ بیگ، شاپنگ بیگ، صندوق، اور کمبل بھی۔ چولہا، ککر اور واٹر کولر بھی۔ ایک بچے کو پکڑتی تو دوسرا بھاگ اٹھتا۔ سامان سنبھالتی تو پلاسٹک بیگ ہوا میں اڑنے لگ جاتا۔ بچوں کو خاموش سی آواز میں سمجھاتی تو کرخت مزاج میاں کی کڑوی بھدی آواز سارے پلیٹ فارم کو لپیٹ میں لے لیتی۔

میری ٹانگوں کے نیچے لوہے کا بنچ اچانک ٹھنڈا پڑ گیا۔ جیسے برف جم گئی ہو۔ میں نے مضبوطی سے اس کے بازو کو پکڑ لیا۔ انگلیاں کالے سیاہ ٹھنڈے لوہے کے ساتھ جڑ گئیں۔ ماں اور بچوں کی حالت کی درہمی اور اس کی برہمی دیکھ کر سر سے پاؤں تک میرا سارا جسم ٹھٹھر گیا۔ خالی پیٹ کے اندر موجود ہوا بھی جم گئی اور گڑگڑاہٹ جو پہلے سماعت کو بنجر بنائے ہوئے تھی، ختم ہو گئی۔ ہمیشہ سے خالی دل کی دھڑکن رک گئی۔ سکول میں پڑھا تھا کہ مطلق صفر درجہ حرارت پر ہر حرکت رک جاتی ہے۔ کائنات بھی تھم جاتی ہے۔ میں نے بھی مطلق صفر کو چھو لیا تھا۔

نئی ٹرین اسٹیشن میں داخل ہوئی۔ گاڑی کا تیز ہارن اور پہیوں کی دھمک مجھے اس بنچ سے توڑ کر علیحدہ نہ کر دیتی تو میں صدیوں ادھر ہی جمی رہتی۔

ٹرین سامنے آ کر رک جاتی ہے۔ میں نے اس بنچ کو چھوڑ دیا۔ پاؤں میں کچھ جان واپس آئی تو چل پڑی۔ میں جس کے انتظار میں بیٹھی ہوں وہ مسافر اس میں بھی نہیں تھا۔

آہستہ آہستہ میں نے خود کو سنبھال لیا۔ انتظار کے لمحات ابھی باقی تھے۔ اس نے کہا تھا وہ شام کی گاڑی سے آ رہا ہے۔ وہ ایسے ہی کرتا تھا۔ مجھے پتا تھا کہ شام رات میں ڈھل جائے گی اور یہ بھی ممکن ہے سحر ہی طلوع ہو جائے۔ وہ آئے گا تو مجھے ہی ڈانٹے گا۔ ”کیا ضرورت تھی اسٹیشن پر آنے کی؟ میں اتنی دور سے آ گیا تھا تو گھر پہنچ ہی جانا تھا۔“

اس کو کیا پتا برہا کی اگنی کی جلن کتنی ہوتی ہے؟ پیار کو ترستے ہونٹ کتنے ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ جلن اور ٹھنڈک کے اس اندوہ بے قیاس کے ساتھ جینا جوانی اور پارسائی کے ملاپ کی طرح ناممکن ہے۔

لوگ ہی لوگ کس کس سے پوچھوں؟ کس کس کی شکل میں اسے تلاش کروں؟ کس حلیے میں وہ ملے گا؟
ہر طرف دیکھ رہی تھی۔ ٹرین سے رنگ برنگے لوگ اتر رہے تھے۔

ان دونوں نے میری نظروں کو قید کر لیا تھا۔ ایک دوسرے میں مکمل طور پر گم۔ تھوڑا سا سامان، ہر دو کی کوشش تھی کہ وہ اٹھائے۔ ایک دوسرے پر واری صدقے۔ اس نے منہ اوپر کیا اور اس کے رخسار پر اپنے ہونٹ ثبت کر دیے۔ جواب میں اتنی ہی گرم جوشی تھی۔ کوئی تلخ بات نہیں۔ اینچا تانی، کشمکش، کوئی کشاکش نہیں۔ پیار ہی پیار، برابری کی محبت۔ ایک ہاتھ میں سامان اٹھائے اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے کی کمر میں حمائل کیے، ست رنگی خوشبو بکھرتیں، لہراتیں، بل کھاتیں، دونوں بیرونی دروازے کی طرف چل دیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

راز کونین کی عقدہ کشائی ہو گئی۔
اب مجھے اس کا انتظار نہیں۔
میں بھی اس دنیا اور کیفیات سے خالی الذہن ہو کر باہر کی طرف چل پڑی۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

Syed Mohammad Zahid
Dr Syed Mohammad Zahid is an Urdu columnist, blogger, and fiction writer. Most of his work focuses on current issues, the politics of religion, sex, and power. He is a practicing medical doctor.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply