کوہستانِ نمک کا علاقہ ہمارے لیئے ایک عظیم تاریخی سرمایہ جو اپنے آثارِ قدیمہ اور قدامت کے لحاظ سے ہڑپہ و موہنجوداڑو سے کسی طور کم نہیں۔ لیکن افسوس کے ان علاقوں کو سرکاری سطح پہ ابھی اتنی پذیرائی نہیں← مزید پڑھیے
گھر پہنچے تو صاحب خانہ کے دو عزیز انتظار میں بیٹھے تھے۔ سیدھے سادے معصوم سے لوگ جو چلاس شہر خریداری کے لئے آئے تھے۔ میرا سُن کر بیٹھ گئے کہ میں ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے حکام← مزید پڑھیے
آج مجھے مرے ہوئے ایک سال کا عرصہ بیت گیا ہے آج میری Death anniversary ہے کاش آج مجھے فرصت مل ہی جاتی تاکہ میں اپنی بغیر کتبے والی پرانی قبر پہ جا کر اپنے لئے فاتحہ پڑھ پاتا← مزید پڑھیے
مجھے یہاں لائے ہوئے اُنیس دِن گزر چکے ہیں عموماً یہاں کوئی بھی لاش اتنے دن تک نہیں رکھی جاتی ،مگر پتا نہیں مردہ خانے والے مجھ پر اتنے مہربان کیوں ہیں؟ زیادہ تر لاشیں ان کے ورثاء چند← مزید پڑھیے
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔ یہ ایک سیٹی نما شور تھا جس سے اسے اپنے دماغ میں ٹیسیں اٹھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ مکمل ہوش میں آتے آتے اس نے لا شعوری طور پر اپنے نتھنوں کو سکیڑا۔← مزید پڑھیے
” بولنے کیلئے اللہ نے سب کو زبان دی ہے ۔ مگر تمہیں پتا ہے مانوی کی آنکھیں کلام کرتی تھیں ۔ پورے گوٹھ میں ایسی آنکھیں کسی کی بھی نہیں ہوں گی۔جیسی مانوی کی تھیں ، گہری سبز بولتی← مزید پڑھیے
نیچے تصاویر میں نظر آنے والی دونوں کتابوں کا تعلق اسلام سے ہے۔ دونوں انتہائی متنازع ہیں۔ پہلی کتاب Crossroads to Islam ایک یہودی اور ایک عیسائی محققین آثارِ قدیمہ کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔ جدید مستشرقین orientalists کی ایک← مزید پڑھیے
نو دس سال کی فاطمہ جھلونگا چارپائی کی ادوائن پر بیٹھی تھی سیلاب زدگان ریلیف کیمپ خیمہ بستی میں۔۔ سوچوں میں گم ۔۔۔ایک ہاتھ سے بوڑھی دادی کے منہ سے مکھیاں ہٹاتی تھی اور ٹانگوں سے چھوٹی بہن کی جھلونگی← مزید پڑھیے
سلمیٰ اعوان کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک کھولیے https://www.mukaalma.com/author/salma-awan/ تیسری قسط/حصّہ ب سترہ اٹھارہ سال کا ایک لڑکا گھر میں داخل ہوا۔ یہ محمد صادق تھا۔ جس نے گائیڈ کے فرائض سرانجام دینے تھے۔ میں اٹھنے ہی← مزید پڑھیے
محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں اور جن کے لیے مخصوص ہوتے ہیں ان کے عرفان و وجدان کے اسرار و رموز بے حد بسیط اور لامحدود ہو جاتے ہیں اگر اُن کے وجود میں شاعری کا← مزید پڑھیے
پیارے انور، کہو جانی کیسے ہو؟ کراچی کی کہو کچھ ہم وطنوں کی سناؤ۔ یہاں خلد میں تو آثار کچھ اچھے نظر نہیں آتے۔ نہرو جی دن میں دو تین بار گلاب سونگھتے ہوئے جناح صاحب کے سامنے سے قصداً← مزید پڑھیے
نیپال کی قومی کرکٹ ٹیم پچھلے دنوں ایشیا کپ کھیلنے کے لیے پاکستان آئی ہوئی تھی لیکن کتنے لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان اورانڈیا کی کرکٹ ٹیموں کا میچ چل رہا ہو تو نیپال کے اکثر شائقین انڈیا کے مقابلے← مزید پڑھیے
سلمیٰ اعوان کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک کھولیے https://www.mukaalma.com/author/salma-awan/ تیسری قسط/حصّہ الف لوگوں کی بات نہیں پر میری ضرور ہے کہ زندگی میں بہت سی تشنہ آرزوئیں اور ادھوری خواہشیں ایسی بھی رہیں جن کی گھمن گھیریوں میں← مزید پڑھیے
ہجرت دل سے ہو یا زمین سے ہمیشہ باعثِ آزار۔۔ یہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد در بدری کی دل سوز کتھا ہے جب مجبوراً ہمیں اپنی جنم بھومی چھوڑنی پڑی تھی۔ہم لوگ یعنی پاپا، امی، آپا ، زرین اور← مزید پڑھیے
اُردو کے طالب علموں کا ایک سچا افسانہ سردیوں کی خوشگوار دھوپ اپنی نرم گرم کرنیں ماں کی محبت کی طرح بلا معاوضہ ہر ایک کو دان کر رہی تھی ۔ ہر وہ چیز جس پر یہ مہربان کرنیں پڑتیں← مزید پڑھیے
بہت محنت اور توجہ سے لکھا گیا یہ ناول میرے تصورِ ادب سے قطعی مختلف ہے، اور اسلوب کے متعلق میری آرا سے بھی۔ اِس کے مصنف اِس قدر اہم معاصر ادیب ہیں کہ اُن کی ہر تحریر پڑھنا ضروری← مزید پڑھیے
ایک خوبصورت سفر نامہ جوانی میں سفر ایک خواب ہوتا ہے ۔ آدمی سوچتا ہے اسے چڑیا کے پر لگ جائیں اور وہ پوری دنیا اڑتا پھرے ۔ جھیل ڈل سے تاج محل اور کوہ کاف سے ایفل ٹاور ۔← مزید پڑھیے
بیس اوپر ایک سال پہلے میں نے سالم علی کا تذکرہ قرۃ العین حیدر کی کتاب شاہراہ حریر میں پڑھا تھا۔ “ڈون ویلی کا گمنام طائر وہ ایک بہت ہی خوش آواز پرند ہ ہے جو وادی دہرہ دون کے← مزید پڑھیے
“ایک عورت ہزار دیوانے” کرشن چندر کا ایک دل کش اور حقیقت پر مبنی ناول ہے۔ ناول کے تانے بانے کافی حد تک حقیقت اور تاریخ سے جا ملتے ہیں۔ اس ناول کا مرکزی کردار لاچی ہے، جو نہایت حسین،← مزید پڑھیے