ناول انسانی زندگی کا ایک ایسا مرقع ہوتا ہے جس میں ہر باشعور کو اپنی زندگی کا کوئی نہ کوئی گوشہ نظر آتا ہے۔ ناول میں اگرچہ واقعات اور کردار فرضی پیش کیے جاتے ہیں لیکن یہ زندگی کے اتنے← مزید پڑھیے
ناول کی دنیا میں ایک اصطلاح “ماحولیاتی مطالعہ” Environmental Literature بھی ہے، اس ماحولیاتی مطالعے کا مآخذ ایک اور حیاتیاتی اصطلاح “ایکولوجی” Ecology ہے، جو انیسویں صدی کے آخر میں حیاتیات کی ایک سائنسی شاخ کے طور پر نمودار ہوئی،← مزید پڑھیے
’’دیوتاآرزونہیں کرتے،آرزوکرنےوالی مخلوق ہی تخلیق کرتے ہیں ۔‘‘ جدید نظم کے تنقیدی کلامیے میں بعض کھانچے اور مغالطے تھے۔انھیں آج ،یعنی مابعد جدیدعہد میں ہم بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ پہلا مغالطہ یہ تھا کہ جدید شاعر جب دیوتاؤں← مزید پڑھیے
ادب اور نفسیات ایک دوسرےسےمختلف علم ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق رکھتےہیں۔ادب انسان اور انسانی زندگی کے اُتھارچڑھاؤ سے عبارت ہے جبکہ نفسیات انسان کے کردار،رُوح اور ذہن کا مطالعہ ماحول اور سماج کے تناظر میں← مزید پڑھیے
وہ سمیعہ سے پوچھ رہی تھی ،”تم نے شادی کیوں نہ کر لی ۔ مجھے تکلیف ہو رہی ہے یوں تمہیں تنہا دیکھ کر۔ “یہ سن کر جواب میں سمیعہ نے طنز میں بجھا ہوا قہقہہ لگایا۔” سلمیٰ جس عمر← مزید پڑھیے
مجھ سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مجھے اقبال (رح)کیوں اتنا پسند ہے۔ اِس سوال کا جواب صرف ایک جملے میں دینا ممکن نہیں ہے، نہ ہی انصاف کا تقاضا ہے۔ ایک ایسی شخصیت جس کی خوبیوں کا← مزید پڑھیے
اے قبلہ ء اول کی زمیں ، ارضِ فلسطین صدیوں کی ہے تاریخ ترے خون سے رنگین اقوامِ امم چپ ہیں ،حالات ہیں سنگین خاموش ہیں ،لب بستہ ہیں شاہان و سلاطین برپاہے ترے سینے پہ اِک رقصِ شیاطین افسردہ← مزید پڑھیے
تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لیجیے کہ یہ آپا دھاپی کی صدی ہے۔ جہاں رفاقتوں کی طلب، کچی کلیوں کی مہک، لہو کی تپش، موت کے نوحے، سہاگ کے گیت، جمالِ یار کی بوالعجبیاں، ویتنام کا امن، کشمیر کا← مزید پڑھیے
ہمارے اَدب میں کلاسیکی رحجانات کی بجائے رُومانوی رحجانات کی اَجارہ داری رہی ہے ۔شاید اِس لئے کہ اُردو اور پھر اِس کا بیشتر ادب ایک زوال پذیر اور زوال زدہ معاشرے کی پیدوار ہے ۔ اردو نے جنم لیا← مزید پڑھیے
پیاری ساری آج 24 نومبر ہے اور اس دن کی اہمیت یہ ہے کہ یہ تمہاری پسندیدہ شاعرہ کا جنم دن ہے۔پروین شاکر کا۔ساری! تمہیں پروین شاکر کا جنم دن مبارک ہو۔اگرچہ میں تمہارے جنم دن پہ تمہیں مبارکباد دینا← مزید پڑھیے
الف اللہ چنبے دی بوٹی ……“ کو سکول کے زمانے میں پڑھ کر چنبے کی بیل کا تصور ذہن میں ابھرتا تھا۔ اب اس کی خوشبو کا احساس بھی ہو نے لگتا ہے۔ سکول کے زمانے سے اب تک سمجھ← مزید پڑھیے
تم لِزبن کیوں لائے ہو مجھے”۔” اُس نے پوچھا۔ ہم پُرتگال کے شہر لِزبن میں تھے۔ یہ شہر بہت تاریخی ہے۔ میں نے بتایا۔ یہاں ایک قلعہ ہے۔ اُس پر توپیں نصب ہیں۔ “مجھے توپوں سے ڈر لگتا ہے؟” وہ← مزید پڑھیے
افسانہ نگار اور شاعر محمد جاوید انور کی شخصیت کا اجمالی جائزہ کسی شخصیت پر بالخصوص اگر وہ زندہ ہو تو قلم اٹھانا اور بھی مشکل کام ہے اور اگر وہ کسی طرح آپ کے محسنین میں بھی شامل ہو← مزید پڑھیے
صبح نماز کے لئے آنکھ کھلی تو مجھے یوں لگا جیسے رات سوتے میں کسی منچلی نارنے میرے پپوٹے اٹھا کر شرارت سے ان میں روڑ بھر دئیے ہوں۔ ملکہ جوار خاتون جب رات کے ڈھائی بجے ہماری دنیا سے← مزید پڑھیے
کل فیض کی برسی تھی۔فیض کو سرکاری ، عوامی ، ادبی حلقوں نے یاد کیا۔ ’یاد کیاکے الفاظ ‘ درست نہیں ہیں۔ یا دانھیں کیا جاتا ہے،جنھیں بھلادیا گیا ہو۔ فیض مسلسل یاد رہتے ہیں اور انھیں یا د رکھنے← مزید پڑھیے
وہ صدر میں کتابوں کے لگے اتوار بازار سے ایک اسٹال پر امبیدکر کی تصویر والے سر ورق کے ساتھ کتاب کو دیکھ کر اتنا پُرجوش ہوا کہ کتاب کا نام دیکھنا بھول گیا، اس نے نہ مصنف کا نام← مزید پڑھیے
دل میں نفرت لبوں پہ نفرت ہے نفرتوں سے مجھے محبت ہے دل ترستا ہے شورِ دریا کو بارشوں کی بڑی ضرورت ہے خامُشی تیری صورِ اسرافیل بعد ازاں گفتگو قیامت ہے دہر کے سب سیاہ رُو تاثیر تجھ کو← مزید پڑھیے
لدھیانوی کی شہرہ آفاق نظم “خوبصورت موڑ” رشتوں کی پیچیدگیوں کا پتہ دیتی ہے۔ شاعر مصالحت کی امید کی کمی کا اظہار کرتے ہوئے اجنبی ہونے کی التجا کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ نظم ماضی کے مقابلوں کی پیچیدگیوں پر← مزید پڑھیے
اس الوداعی ملاقات میں چند ہی دوستوں کی آنکھوں میں میری لئے اُداسی تھی، وہاں سے فارغ ہونے کے بعد میں نے اپنے ادھورے سب کام مکمل کیے، کرایہ دار کے کچھ پیسے رہ گئے تھے جو میں نے اُسے← مزید پڑھیے
یونان کی سرزمین سے ایک کشتِ زعفران کہانی کسی شخص کی نہیں ہوتی۔بھلا اکیلے کی کوئی کہانی کیا! کہانی تو اس کے اطراف کے کرداروں سے مل کر تشکیل پاتی ہے۔یہ کردار بھی سانس لیتے ہوئے جیتے جاگتے کردار جن← مزید پڑھیے