ہم صدر بازار سے گزر رہے تھے جہاں ریستوران اور ہوٹل تھے۔ ڈور کھن کے بعد گنش جا کر گاڑی رک گئی۔ میں اتر کر یادگار دیکھنے لگی۔ اب کریم آباد جانے کا مسئلہ تھا جو راستے میں ہی حل← مزید پڑھیے
ہوٹل کی کھڑکی سے ہمیں مسجد نبوی کے منور دمکتے ہوئے مینار دکھائی دے رہے تھے۔ ہم نہائے، شلواریں قمیصیں پہنیں اور پوچھتے پچھاتے مسجد نبوی کے ایک دروازے سے کچھ دور پہنچ گئے۔ مسجد نبوی ہوٹل سے تقریبا” نصف← مزید پڑھیے
بحیثیت افسانہ نگار ْممتاز حسینٌ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ جھنگ میں پیدا ہوۓ،اپنی راہیں خود بنانے کی تگ ودو میں نیویارک میں مستقل قیام کیا۔بحیثیت مصور، ڈرامہ نگار، شاعر، افسانہ نگار،اور فلمساز نام کمایا مگر جھنگ کی← مزید پڑھیے
مریخ کے ملک “جزیرو” کے باسی اس وقت بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔ اُنکے پاس محض دو سال کا وقت تھا۔ دو سال بعد ایک شہابِ ثاقب جو زمین کے مدار میں گھوم رہا تھا، کو زمین کے چاند← مزید پڑھیے
علی مدد اور ہنزہ ان دو ناموں سے میرے کان پہلی بار ۱۹۵۸ء کی اس ٹھنڈی شب کو آشنا ہوئے تھے۔ جب میرے ماموں علی حسن غضنفر نے بڑے کمرے میں رضائیوں اور کمبلوں میں لپٹے افراد خانہ کے درمیان← مزید پڑھیے
رامو کی بات سن کر گدھا اگرچہ خود بھوکا تھا لیکن اس نے کہا کہ رامو ٹھیک کہتا ہے۔ وہ میری طرح کوئی گدھا تو نہیں کہ اس کی خواہشات نہیں ہوں گی،پیٹ کے علاوہ اور بھی بھوک ہیں۔ اچھے← مزید پڑھیے
گیریژن ہال میں سامعین کو معروف افسانہ نگار میرن صاحب کے اسٹیج پر آنے اور ان کا افسانہ “زندگی” ان کی زبانی سننے کا شدید انتظار تھا۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگئیں ،ا ور میرن صاحب بڑی شان و شوکت← مزید پڑھیے
سیاہی، روشنائی، دوات آج یہ لکھنے کے لئے میرے قلم کی مدد نہیں کر سکتے اور اسے ان کی ضرورت بھی نہیں ہے مجھے کوئی سمجھائے کہ معصوم بچوں کی چیخوں کو کیسے قلمبند کروں ملبے میں دبی ہوئی آہ← مزید پڑھیے
’’ایک گدھے کی سرگزشت‘‘ کرشن چندر کا طنزیہ و مزاحیہ ناول ہے۔ اس ناول میں انھوں نے طنز و مزاح کےلبادے میں معاشرتی، سیاسی اور نفسیاتی حقائق کو بے نقاب کیا ہیں۔ اس ناول کا مرکزی کردار ایک گدھا ہے← مزید پڑھیے
ایک شور مچا تھا۔ رخصتی کا سمے آن پہنچا تھا۔ مان روتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اندر باہر کے چکر کاٹ رہی تھی۔ باہر سازندوں نے ‘‘چلاہو’’ کی دردناک دھنیں چھیڑ دی تھیں۔ میری چچیوں’ پھوپھی اور دیگر رشتہ دار← مزید پڑھیے
اس رنگارنگ دنیا میں زندگی اور کہانیوں کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔ محبت ، جدائی ، طبقاتی تفریق، معاشرتی استحصال، نفسیاتی گرہیں، زبان بندی، روح اور جسم کے بندھن کو برقرار رکھنے کی اذیت، اخلاقی قدروں کا زوال، نام← مزید پڑھیے
“میرا، بچہ۔۔۔۔میری جان ۔۔۔۔۔۔ میرا چین ” مُنے کے رونے کی آواز اتنی تیز تھی کہ میں ہڑ بڑا کراسے گود میں لینے کے لیے تڑپ کر اٹھی، دھیمی لائٹ میں بچہ ٹٹولا اور چیخنے لگی۔ ادھر ادھر ہاتھ مارا← مزید پڑھیے
یہ میری موت کے دن کا واقعہ ہے۔ اُس دن میری آنکھ اُسی کے فون کی وجہ سے کھلی تھی۔ میں نے اپنے تمام فیملی ممبرز اور تمام اہم دوستوں کے لئے الگ الگ رِنگ ٹونز مختص کر رکھی ہیں۔← مزید پڑھیے
یامین نے دس ہزار کے نوٹوں کی گڈی بابو کی گود میں ڈال دی یہ کہتے ہوئے: ‘‘ہمارا مذہب اگر شراب پینے کو حرام کہتا ہے تو اسے بنانے اور بیچنے کے عمل کو کیسے پسند کر سکتا ہے’’؟ بابو← مزید پڑھیے
نوے کی دہائی کی بات ہے جب میں بالکل چھوٹی بچی تھی تب وہ بھی چھوٹا تھا بالکل ننھا میرے قد جتنا،اس کے چھوٹے چھوٹے سانولے ہاتھ جن کی انگلیاں پوری ہونے کے باوجود جانے ادھوری کیوں لگتیں ،جیسے ادرک← مزید پڑھیے
میں آ گیا ہوں میری آواز سنو مجھ پہ اعتبار کرو میرا کہا مانو کچھ اور صبر کرو میں نجات دہندہ ہوں میں فصلِ گلِ لالہ ہوں میں تمہاری دعاؤں کا نتیجہ ہوں میں لاکھوں میں ایک ہوں ہزاروں سال← مزید پڑھیے
گزشتہ اقساط کا لنک میرا گلگت و ہنزہ(سفرنامہ) یُورمس اگر شنا زبان کے نامور شاعر رحمت جان ملنگ کی محبوبہ تھی تو تاجور خان میرا محبوب تھا۔ یورمس کا چہرہ چاند کی کرنوں جیسا تھا تو تاجور خان کی پیشانی← مزید پڑھیے
میں خاموش تھا ہمیشہ کی طرح ۔۔۔میری زبان پہ ازلی تالا پڑا تھا ،کسی سرد شام کی طرح میری حسیں بالکل ٹھنڈی اور دھند پڑے علاقے کی طرح غیر واضح ہوتی جارہی تھیں ۔ میں سن سکتا تھا۔۔۔ میں دیکھ← مزید پڑھیے
گرمیوں کی دوپہر گلی سے آنے والی سلائی مشین کی آواز میرے کانوں میں کسی دلکش موسیقی کا احساس دلاتی تھی۔ موٹر والی مشین ابھی متعارف نہیں ہوئی تھی، اس لیے یہاں روایتی ہاتھ سے چلنے والی سلائی مشین ہی← مزید پڑھیے
خلق اللہ کو نجی ملکیت کون لکھتا ہے دل و جاں کو بے حیثیت کون لکھتا ہے آسماں دشمن نہیں ہے ہمارا، لیکن ایسی ظالم مشیت کون لکھتا ہے آئین خداوندی تو بہت سادہ ہے یہ الجھی ہوئی شریعت کون← مزید پڑھیے