کرشن چندر کا ناول ’’ایک گدھے کی سرگزشت‘‘ : تلخیص و تجزیہ(2)- یحییٰ تاثیر

رامو کی بات سن کر گدھا اگرچہ خود بھوکا تھا لیکن اس نے کہا کہ رامو ٹھیک کہتا ہے۔ وہ میری طرح کوئی گدھا تو نہیں کہ اس کی خواہشات نہیں ہوں گی،پیٹ کے علاوہ اور بھی بھوک ہیں۔ اچھے کپڑے کی بھوک، خوب صورت چہرے کا نظارہ کرنے کی بھوک، رقص و سرود کی بھوک، خوب صورت شفق کو دیکھنے کی بھوک۔ لیکن رامو اس وقت کپڑےدھونے میں منہمک تھا جب کہ گدھا ڈوبتے ہوئے سورج اور شفق کے بے پناہ حسن سے لطف اٹھا رہا تھا۔ اگر معاش کا غم ہو تو گویا انسان کی حالت گدھے سے بھی ابتر ہوجاتی ہے۔ رامو اور مسٹر ڈنکی آف بارہ بنکی(گدھے)کی مثال ہمارے سامنے ہیں۔ گدھا کہتا ہے:
’’میں ایک گدھا ہوکر خوب صورتی سے متاثر ہوسکتا ہوں۔ لیکن رامو انسان ہوکر اس سے حظ نہیں اٹھا سکتا۔ حیرت ہے اس زندگی میں اس سماج میں آج بھی لاکھوں کروڑوں انسانوں کی زندگیاں گدھوں سے بدتر ہیں۔‘‘(۶)
رامو کی موت کے بعد اس کی بیوی بچوں کی حالت غیر ہوجاتی ہے۔ فاقے بڑھنے لگتے ہیں۔ اس فاقہ کشی کو ختم کرنے کے واسطے ہی کرشن چندر نے ایک گدھے کے توسط سے اس ناول کی کہانی بُنی ہے جس سے یہ ناول تمثیل کی حدود میں داخل ہوا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس ناول کی بنیاد ہی ترقی پسندی پر ہے۔ نچلے طبقے کے حقوق کے حصول کےلیے مصنف نے یہ ناول تخلیق کیا ہے۔ اس ساتھ ساتھ اپنے حقوق کےلیے کوشش کے دوران ملکی ادارے جو غبن کرتے ہیں ان اداروں کی حقیقت کو بےباکی سے بے نقاب کیا گیا ہے۔
یہ ناول نفسیاتی حوالے سے بھی کافی زرخیز ہے۔ مصنف ہندوستانی قوم کی نفسیات کا پارکھ معلوم ہوتا ہے۔ ظاہری وضع قطع اور ٹھاٹھ کی یہاں بہت اہمیت ہے۔ جب گدھا جمنا پار میونسپلٹی کے دفتر جاتا ہے اور وہاں انگریزی میں گفتگو کرتا ہے تو اس کی جو عزت اور خاطر داری ہوتی ہے وہ قابل رشک ہے۔ ایک گدھے کی عزت پر انسان کو رشک آنے لگتا ہے۔ کلرک ادب سے گدھے کےلیے کھڑا ہوجاتا ہے اور چپڑاسی اسے لفٹ تک بڑے تپاک سے لے جاتا ہے۔ لفٹ میں صرف چھ آدمیوں کی گنجائش ہوتی ہے لیکن باقی آدمیوں کو باہر روک دیا جاتا ہے اور گدھا اکیلا لفٹ میں سفر کرتا ہے۔ گدھا کہتا ہے کہ مجھے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ ایک گدھا چھ آدمیوں(انگریزی بولنے والوں) کے برابر ہے۔ چئیرمین صاحب تو ادب کی انتہا کر کے گدھے کو کرسی پر تشریف رکھنے کا کہہ دیتے ہیں۔
جب گدھا وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے ملتا ہے اور شہرت حاصل کرلیتا ہے تو شہر کے بڑے بڑے لوگ گویا اسے اپنے ہی خاندان کا فرد تسلیم کرنے لگتے ہیں۔ شہر کی عورتیں اور خوب صورت لڑکیاں بھی گدھے کی چاہت کرنے لگتی ہیں۔ جب اُمرائے شہر کو یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ گدھے اور جواہر لال نہرو کے درمیان پانچ کروڑ کا کنٹریکٹ ہوا ہے تو گدھے کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔ اس کے حق میں جلوس نکلتے ہیں اور ان کےلیے ضیافتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایک سیٹھ من سکھ لال اپنی بیٹی روپ وتی کی شادی بھی مسٹر ڈنکی سے طے کرتا ہے اور مقابلہ حسن میں ملکہ حسن کے انتخاب کےلیے اسے صدارت کا عہدہ بھی دیا جاتا ہے۔ یہ ہماری نفسیات ہے کہ سستی شہرت اور مادے کے پیچھے انسان اتنا لگا ہوا ہے کہ کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔گدھے کے متعلق ایک انجمن والے اپنے تاثرات کا اظہار یوں کرتے ہیں:
’’آپ نے نہ صرف دلی کے گدھوں کی بلکہ سارے ہندوستان کے گدھوں کی لاج رکھ لی۔ آپ کی ذاتِ گرامی ہماری قوم کےلیے وجہ قرار ہے،باعثِ صد افتخار ہے۔ آپ کی وجہ سے ہندوستان کے گدھوں کا وقار ساری دنیا میں بلند ہورہا ہے۔ خدا آپ کو رہتی دنیا تک شاد و آباد رکھے اور قوم کی خدمت کےلیے ہمیشہ محفوظ و مامون رکھے۔ وغیرہ وغیرہ۔ ‘‘(۷)
یہاں” گدھوں ” کا لفظ قابل غور ہے یہ استعارہ بھی ہوسکتا ہے۔اسی طرح اور نفسیاتی مباحث بھی اس ناول میں بیان ہوئے ہیں۔
ہمارے ہاں اگر کوئی مسئلہ عرضی کی شکل میں دفاتر تک جاتا ہے تو پہلے تو اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا اور وہ فائلوں کے انبار میں دب کر گھم ہوجاتا ہے۔ اگر اس پر غور بھی کیا جائے تو یہ مسئلہ مختلف دفاتر کی چکر کاٹتا رہتا ہے۔ درجہ آخر کے کلرک سے ہوتے ہوئے درجہ اول کے کلرک تک پہنچنے میں سال لگ جاتے ہیں۔ پھر یہ بڑے عہدے داروں تک پہنچ جاتا ہے وہاں بھی گردش میں رہتا ہے کبھی ایک آفیسر کے میز پر تو کبھی دوسرے آفیسر کے میز پر۔ یہ مسئلہ حل کرنا ان لوگوں کےلیے بہت آسان ہوتا ہے مگر ان نظر مسئلے پر نہیں جیب پر ہوتی ہے۔ یہی صورت حال رامو کی موت کے مسئلے کی بھی پیش آتی ہے۔ کلرکوں، منسٹروں، وزیروں سے ہوتے ہوئے بات وزیراعظم تک پہنچ جاتی ہے لیکن حل نہیں ہوپاتی۔ جب گدھا شہرت پا لیتا ہے تو اس کے ساتھ رامو کی بیوی اور بچے بھی ایک کوٹھی میں بلا لیے جاتے ہیں اور رامو کی بیوی دھوبن کی نوکری شروع کرلیتی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ آف لیبر اینڈ انڈسٹری کے ڈپٹی سکرٹری رنگا چاری گدھے سے کہتا ہے :
’’فائل تو آج ہی چلنی شروع ہوجائے گی۔ درجہ سوم کے کلرک سے درجہ اول کے کلرک تک آئے گی۔ پھر ہر میز پر اس کی نوٹنگ ہوگی فرسٹ کلرک سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے سپرنٹنڈنٹ تک ہر شخص اپنی رائے دے گا۔ یہ رائے چلتی چلتی میزوں پر سے گزرتی میرے پاس آئے گی، میں ڈپٹی سکرٹری ہوں، مجھ سے جوائنٹ سکرٹری کے پاس جائے گی۔ جوائنٹ سکرٹری سے سکرٹری کے پاس جائے گی۔ سکرٹری اسے ڈپٹی وزیر کے پاس بھیجے گا۔ ڈپٹی وزیر بڑے وزیر کے پاس لے جائے گا۔پھر یہ سوال کہ دھوبی مزدور ہے تو موچی مزدور کیوں نہیں، کمہار مزدور کیوں نہیں۔ اگر ایک رامو کو ہرجانہ ملے گا تو لاکھوں راموؤں کےلیے ریزور بینک ہرجانہ کہاں سے لائے گا۔ اس لیے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے بھی پوچھنا پڑے گا۔ ممکن ہے فنانس ڈیپارٹمنٹ اس بنیادی سوال کو وزیراعظم کے سامنے رکھے اور وزیراعظم پارلیمنٹ میں اس سوال کو رکھیں۔ ممکن ہے اسی وجہ سے ہمارے دستور کے کسی دفعہ میں کوئی تبدیلی بھی ہوجائے۔ رنگا چاری نے اپنی انگلیوں پر مجھ سے گنتے ہوئے کہا۔ میرے خیال میں اگر تم دس سال کے بعد آؤ تو اس فائل کا ضرور کچھ نہ کچھ فیصلہ ہوجائے گا۔‘‘(۸)
اسی طرح کے لاکھوں مسائل کی عرض داشتیں ہمارے عدالتوں اور دفاتر میں کیڑے مکوڑوں کی خوراک بن رہی ہیں اور رامو کے خاندان کی طرح لوگ اپنے حقوق سے محروم جی رہے ہیں۔
کرشن چندر ترقی پسند ہونے کے ناطے اشتراکیت کے قائل تھے۔ ان کی اشتراکیت پسندی کا پتہ اس ناول سے لگتا ہے۔ جب گدھا پنڈت جواہر لال نہرو سے ملتا اور ملکی حالات و خیالات پر تبادلہ خیال ہوتا ہے تو وہاں گدھا نہرو کے سامنے اشتراکیت کی بات کرتا ہے۔ گویا گدھے کی زبانی انھوں نے اشتراکیت کا پرچار کیا ہے۔ گدھا نہرو سے کہتا ہے کہ مجھے آپ کی حکومت میں کوئی رامو دھوبی، کوئی جمن چمار، کوئی ڈندومل مزدور نظر نہیں آتا۔ کار والے بہت نظر آتے ہیں۔ گدھے والا ایک بھی نظر نہیں آتا۔ اگر قومی دولت کو بڑھانا اور قومی پلانوں کو یکے بعد دیگرے کامیاب بنانا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملک کی دولت میں دن بدن اضافہ ہوتا رہے تو حکومت کا ڈھانچہ بدلنا پڑے گا۔ عوام کے تمام طبقوں کو اوپر سے نیچے تمام سطحوں پر نمائندگی دینی ہوگی۔ ایک ایسی حکومت کی تشکیل کرنی ہوگی جس میں سرمایہ داروں، کانگریسیوں، کمیونسٹوں اور اشتراکیوں سب کے عناصر شامل ہوں۔ یہ ایک منافع بخش حکومت ہوگی جس میں عوام ہر اسٹیج پر حکومت کے اندر ہوں گے۔(۹)
اسی طرح نسلی امتیازات اور رنگ و حیثیت کی تقسیم کے حوالے سے گدھا ایک نیوز والوں کو کہتا ہے کہ ہم گدھوں میں یہ امتیازات نہیں ہوتے، چاہے گدھا کالے بالوں والا ہو یا بھورے، اس کا ماتھا چاہے سفید ہو یا کالا کوئی فرق نہیں کرتا۔ ہمارے سماج میں ہم سب گدھے برابر ہیں۔ ہم گدھے ایک ہی جگہ پر ایک ساتھ چرتے ہیں۔ نیا مکان تعمیر کروانے کےلیےاشتراک سے اینٹیں دھوتے ہیں ۔ لیکن آپ انسانوں کے مابین نسلی اور کالے، گورے کے امتیازات ہیں۔ آپ ہماری طرح اکھٹے نہیں رہ سکتے۔ آپ لوگ جنگ کو پسند کرتے ہیں اور ہم جنگ سے نفرت۔ ان تصورات سے بھی معلوم پڑتا ہے کہ کرشن چندر طبقاتی تقسيم کے سخت مخالف ہیں چاہے وہ مادے کے لحاظ سے ہو یا نسلی لحاظ سے۔
بیسویں صدی عیسوی میں جدیدیت کی تحریک سامنے آتی ہے جس کے بنیاد گزار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسان مرکز کائنات ہے اور اس کی اہمیت مسلم ہے۔ انسان کے فائدے اور ترقی کےلیے یہ دنیا وجود میں آئی ہے تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھا کر پرسکون اور سہولت بھر زندگی بسر کرے۔ اسی طرح جدیدیت نے سائنس کی مرکزیت پر زور دیا اور باقی تمام علوم کو حاشیے کی طرف دھکیل دیا یعنی ان کو ثانوی حیثیت دی۔ انسان اور سائنسی علوم کی مرکزیت اور عقل کی حتمیت کے دعوے دار تحریک کی اصلیت عالمی جنگوں کے بعد سامنے آئی۔ اس تحریک نے ہر طرح سے فطرت اور انسان کو مسخ کیا اور بڑے پیمانے پر انسان کا خون بہایا گیا لیکن مادہ پرست انسان ترقی کے نشے میں چور برابر تسخیر فطرت میں مگن تھا۔ کرشن چندر کے ناول “ایک گدھے کی سرگزشت” میں جدیدیت کے ردعمل کے طور پر افکار ملتے ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ کرشن چندر اشتراکیت پسند ادیب تھے اور جدیدیت سرمایہ داریت اور چودھراہٹ کی پرچارک تحریک تھی۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ کرشن چندر ترقی پسند تھے اور جدیدیت، ترقی پسندی کے ردعمل میں ابھرنے والی تحریک تھی۔کرشن چندر نے ناول کے مرکزی کردار “گدھے” کی زبانی جدیدیت کے حوالے سے اپنا مدعا ظاہر کیا ہے۔ گدھا دلی میونسپلٹی کے سامنے تقریر کرتا ہے کہ انسان نے اپنی عقل، وراثت اور اپنی تاریخ کے تجربات کو بالائے طاق رکھ کر موت کی طرف گامزن ہوا ہے۔ وہ زندگی کی تلاش سے بہت دور ہے اور موت کا متلاشی بن گیا ہے۔ وہ موت جو سب کچھ مٹا دیتی ہے۔ انسان دنیا کو جنت کے بجائے جہنم بنانے پر تُلا ہوا ہے اور اس اقدام سے نہ صرف گدھوں کو بل کہ تمام جانوروں، درختوں اور پتوں کو خطرہ لاحق ہے۔ گدھا مزید کہتا ہے :
’’اے انسان، اے برادر محترم۔ آج تیری وجہ سے ہر جاندار شے کو خطرہ ہے، جنگل کے شیر سے لے کر جھیل میں کھلتے ہوئے کنول تک ہر جاندار شے کو خطرہ ہے۔۔۔ تجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ تو اس کرہ ارض پر اپنی ایٹمی موت سے ساری زندگی کو ختم کر ڈالے۔۔۔ اگر تجھ میں انسانوں کی سی سوجھ بوجھ نہیں رہ گئی ہے تو گدھوں کی عقل سے کام لے۔ ایک خرگوش کی عقل سے کام لے۔ ایک امیبا کی عقل سے کام لے۔ دیکھ بھیڑیا کس طرح اپنے بچوں کی حفاظت کرتا ہے۔ درخت کے تنے میں زندگی کا رس کیسے دوڑتا ہے۔ پتا سورج کی شعاعوں سے کیسے کیمیائی غذا حاصل کرتا ہے۔ کاش تو ایک گدھے کا نہیں، ایک پتے کی عقل سے کام لے سکے۔۔موت کی طرف سے لوٹ آ، اس کرہ ارض پر چاروں طرف سے زندگی، سہمی سہمی اداس زندگی تیرے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہی ہے۔ تو ہمیں کیا دے گا۔ بم کہ زندگی، وجود کہ لاوجود۔‘‘(۱۰)
یہ اقتباس انسان دوستی اور فطرت پسندی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کرشن چندر انسان اور فطرت کے امتزاجی رویے کے قائل ہیں۔ ان کی نظر میں فطرت کی بقا میں انسان ، اور انسان کی بقا میں فطرت کی حیات اور بقا کا راز مضمر ہے۔ وہ فطرت کی نامیّت (نامیاتی تصور) کا درس دیتے ہیں۔یہ تصور ان کے شہرہ آفاق ناول ’’دوسری برف باری سے پہلے‘‘ میں بھی نظر آتا ہے۔ گدھے، بھیڑیے، خرگوش اور پتے کی عقل سے سوچنا سے مراد فطرت کی عقل سے سوچنا ہے اور فطرت کی روح تعمیری ہے نہ کہ تخریبی۔
تصور حسن کے حوالے سے مختلف فلاسفہ اور مفکروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ افلاطون کے مطابق یہ دنیا ظل، سایہ اور پرتو ہے اس لیے یہاں ہم حسن کا صحیح ادراک نہیں کرسکتے۔ سٹوکس نے کہا کہ حسن خیر ہے اور ہر حسین شے حامل خیر ہے۔ سوفوکلیز نے بھی اس سے ملتے جلتے تصور کا اظہار کیا کہ نیکی حسن کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔ کسی نے مسرت و انبساط کو حسن سے تعبیر کیا۔ کسی نے کہا کہ حسن معروضی ہے یعنی حسن اس شے میں ہے جس کا ہم نظارہ کرتے ہیں، جب کہ کوئی کہتا ہے کہ حسن موضوعی ہے یعنی یہ دیکھنے والے کی آنکھ و ذہن میں ہے۔ اگر ایک شخص کو کوئی چیز پسند ہے تو ضروری نہیں کہ دوسرے کو بھی وہ پسند ہو۔ مدعا یہ کہ ہر کسی کے ہاں معیار حسن کو جانچنے کے پیمانے مختلف ہیں۔کسی نے درمیان کا راستہ نکالا کہ کچھ حسن اگر رخ لیلیٰ میں ہے تو کچھ چشم مجنوں میں۔ یہ بھی کہا گیا کہ حسن توازن اور ہم آہنگی کا نام ہے۔ اس پر رد کرتے ہوئے یہ تصور سامنے آیا کہ اگر حسن توازن میں ہے تو پھر آسمان میں موجود بے ربط اور بے ہنگم کہکشاں اتنے حسین کیسے ہوئے۔ مولانا حالی کے ہاں حسن کے ارتقا پذیرائی کا تصور ملتا ہے، وہ کہتے ہیں :
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب دیکھیے ٹھہرتی ہے جاکر نظر کہاں؟

بعض مفکروں کے ہاں جمال میں حسن ہے تو بعض کے ہاں جلال میں۔ اقبال کی نظر میں جلال و جمال کے امتزاج میں حسن ہے لیکن اگر جلال تخریبی کے بجائے تعمیری ہو تب۔ اقبال مسجد قرطبہ کو مخاطَب کرکے کہتے ہیں :
تیرا جلال و جمال، مرد خدا کی دلیل
وہ بھی جلیل و جمیل،تو بھی جلیل وجمیل

کرشن چندر نے اپنے ناول “ایک گدھے کی سرگزشت” میں بھی اپنا تصور حسن ظاہر کیا ہے۔ جب گدھا نہرو سے ملتا ہے اور ترقی پاتا ہے تو اس کو مقابلہ حسن میں صدارت کا منصب مل جاتا ہے۔ اس مقابلہ حسن میں پورے ہندوستان کے مختلف شہروں سے حسینائیں شرکت کرتی ہیں اور خوب بن سنور کر اپنے حسن کا نظارہ دکھاتی ہیں۔ آخر میں گدھا اس مقابلے کے نتائج بیان کرتا ہے۔ اس موقع پر مصنف نے اپنے تصور حسن کو بیان کیا ہے۔ گدھا وہاں پر موجود حسن کے نظاروں کو حسن نہیں قرار پاتا کیوں کہ اس کی نظر یہ حسن کسی محنت مشقت کی پیداوار نہیں ہے، اس نے کبھی فاقہ، غم، دھوپ اور تکلیف نہیں دیکھا بل کہ یہ حسن اس لیے مصنوعی ہے کیوں کہ یہ بڑے بڑے گھروں اور پر تعیش کوٹھوں میں پروان چڑھا ہے۔ اس لیے یہ حسن برقرار ہے۔ حسن وہ ہے جو غم، فاقہ، تکالیف اور تغیرات سے گزر کر برقرار رہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے غم اس مزدور عورت کا ہے جو کانپور ٹیکسٹائل مل میں نوکر ہے، اس کے دو بچے ہیں لیکن اس کا حسن اب بھی اتنا پرکشش ہے کہ اگر وہ کسی طریقے سے اس مقابلے میں شریک ہوجائے تو آپ سب حیران رہ جائیں گے۔ پھر گدھا رامو کی بیوی کی مثال دیتا ہے کہ میری مالکن کے بڑے پیارے پیارے دو بچے ہیں جو کہ اس وقت وہ جمنا دھوبی گھاٹ پر اس لڑکی(روپ وتی)کے کپڑے دھو رہی ہے جو اس مقابلہ حسن کا حصہ ہے۔ وہ مجبور ہے اس لیے اس مقابلہ حسن میں شرکت نہیں کرسکتی۔ وہ آج بھی اتنی حسین ہے اگر یہاں آجائے تو آپ سب متفقہ طور پر کھڑے ہوجائیں گے اور اسے ہندوستان کے ملکہ حسن قرار دے دیں گے۔ کرشن چندر گدھے کی تقریر سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اصل حسن وہ ہے جو انسان کی محبت، محنت اور روزمرہ کی مزدوری کی پیداوار ہے۔ سخت کوشی کے باوجود اگر حسن برقرار رہ جائے تو کرشن چندر کی نظر میں وہ اصل حسن ہے۔
اسی طرح ایک اور تصور حسن کی وضاحت ناول میں گدھے کی زبانی یوں ہوئی ہے کہ ہر مرد کی زندگی میں ایک عورت ایسی آتی ہے جس کا حسن چاہے جیسا بھی ہو لیکن اس مرد کےلیے وہ جنت کی حوروں سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ اس کی مثال گدھا اپنے پہلے مالک دھنو کی بیوی کی دیتا ہے کہ کرشن نگر میں ایک آدمی میں نے ایسا بھی دیکھا جو ایک غلیظ جھونپڑے میں رہتا تھا اور ایک دھوبی تھا۔ اس کی بیوی معمولی شکل و صورت کی تھی لیکن دھنو جب سارا دن کام کرکے تھکا ماندہ گھر لوٹتا اور اپنی بیوی کی غیرمعمولی مسکراہٹ دیکھتاتو اس کی ساری تھکان دور ہوجاتی۔ گویا اس غریب عورت کے پاس دنیا کی سب سے خوب صورت مسکراہٹ تھی۔ اس مسکراہٹ کا تعلق دھنو اور اس کی بیوی کی محبت سے ہے اور یہ حسن محبت کے عمل اور رد عمل (دو طرفہ محبت)کی پیداوار ہے۔ اس تصورِ حسن کی وضاحت عادل فاروقی کے اس شعر سے بہ خوبی ہوجاتی ہے:
نہ پوچھو حسن کی تعریف ہم سے
محبت جس سے ہو بس وہ حسیں ہے

Advertisements
julia rana solicitors

اس ناول میں حسن کے موضوعی تصور کا حوالہ بھی ملتا ہے۔مصنف کے مطابق مختلف جگہوں میں معیار حسن مختلف ہے۔ گدھا اپنی تقریر میں کہتا ہے :
’’بنگال میں لانبے بال اور ہالی وڈ میں کترے ہوئے بال۔ فرانس میں پتلے کولھے اور ہندوستان میں بھاری کھولے، حسن کے معیار سمجھے جاتے ہیں۔ کشمیری گورے رنگ کی شیدائی ہیں مگر ٹانگا نیکا میں حسن رات کی طرح حسین ہوتا ہے۔ کوئی پتلے ہونٹ پسند کرتا ہے کوئی موٹے ہونٹ، کوئی لانبی گردن کوئی چھوٹی گردن، کوئی بڑی بڑی آنکھیں تو کوئی چھوٹی چھوٹی غلافی آنکھیں۔‘‘(۱۱)
یعنی ہر کسی کے ہاں حسن کے معیار کے اپنے پیمانے ہیں۔ کرشن چندر کے مطابق حسن ناپنے تولنے سے بالاتر ہے کیوں کہ یہ یہ زندہ، متحرک، بدلتا ہوا ، زندگی کا ایک عمل ہے۔ اس لیے مسٹر ڈنکی ناول میں مقابلہ حسن کو فراڈ، دھوکا، بد دیانتی اور جعل سازی قرار دیتا ہے۔
کرشن چندر کا ناول “ایک گدھے کی سرگزشت” متنوع جہات رکھتا ہے۔ایک کردار گدھے کے توسط سے انھوں نے بہت سے سماجی اور سیاسی حقائق تمثیلی و اشاراتی انداز میں بیان کیے ہیں۔
حوالہ جات
۱ ) کرشن چندر، ایک گدھے کی سرگزشت،ایشیا پبلشرز، دلی، ۲۰۰۷ء،ص۴
۲ )ایضاً، ص ۶
۳ ) ایضاً، ص۲۱
۴ ) ایضاً، ص۶
۵ ) ایضاً، ص۱۱، ۱۲
۶ ) ایضاً، ص ۱۶
۷ ) ایضاً، ص ۴۷
۸ ) ایضاً، ص ۲۴، ۲۳
۹ ) ایضاً، ص ۳۳
۱۰ ) ایضاً، ص ۴۸
۱۱ ) ایضاً، ص ۷۰

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply