آپ نے کبھی کسی سے یہ بات سنی ہے “اندر کا بچہ زندہ رکھنا چاہئے!” اگر سنی ہے تو اس کا طریقہ کار شاید معلوم نہ ہو، مگر اندر کے بچے کا زندہ ہونا کچھ حرکات و سکنات سے معلوم← مزید پڑھیے
ڈاکٹر طاہرہ اقبال صاحبہ کے اس اقتباس سے ہمارے الیکٹرانک میڈیا کا مکمل اور بھرپور چہرہ سامنے آ جاتا ہے اور دن بدن حالات مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔ یہ آزاد الیکٹرانک میڈیا جس طرح سامراج اور مقتدر اشرافیہ کا← مزید پڑھیے
جدیدیت کے تحت اردو ادب اور بالخصوص اردو شاعری میں نئے نئے موضوعات در آئے۔ یہ موضوعات زیادہ طور پر جدید فرد اور اس سے وابستہ رجحانات کے گرد گھومتے ہیں۔ جدیدیت نے سائنسی ترقی کا نعرہ لگایا اور انسان← مزید پڑھیے
حارث نے اپنی بیوی آرمینہ کو دور سے آواز دی۔ سنو! ان آلوؤں کو روبوٹ کو دیکر میرے پاس آؤ۔ تمہیں ایک دلچسپ چیز دکھاتا ہوں۔ آرمینہ نے آلوؤں کی باسکٹ پر بٹن دبایا اور وہ رینگتے ہوئے روبوٹ کی← مزید پڑھیے
منٹو سماج کے حاشیائی کرداروں کو افسانے کے کبیری کردار بناتے اور ان کے عزائم و طرزِحیات کو افسانے کا نقطہء ارتکاز (Focalisation) بناتے ہیں۔ یہ عمل بجاے خود مرکز سے بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ مرکز کی مسلسل کوشش← مزید پڑھیے
فوجی نصیر کا کردار بڑا دلچسپ ہے۔ جب ایوب خان کا مارشل لاء لگتا ہے اور زرعی اصلاحات کا اعلان ہوتا ہے تو فوجی نصیر جو دیہاتیوں میں پڑھا لکھا مشہور ہے جو دیہاتیوں کو عالمی خبریں بھی سناتا ہے۔← مزید پڑھیے
باری دوآب کے سب سے بڑے شہر لاہور کو اُس کی وسعت اور کثرتِ آبادی کی وجہ سے بینظیر کہا جا سکتا ہے۔ لاہور کا ایک علاقہ ہے جہاں کسی زمانے میں مغل شہزادوں کی پُر تعیش رہائش گاہیں واقع← مزید پڑھیے
پچھلے کئی ہفتوں سے وہ مٹی پھرول رہا ہے مگر خدا مٹی میں کہیں نہیں ہے! مٹی میں مردہ مکوڑے، زندہ کیڑے، کفن کی باقیات، تھیلیاں، کوڑا، ہڈیوں کا چورا، کھانے کی اشیاء کے ذرات، سوکھی کلیاں، پتے اور نمی← مزید پڑھیے
جو لو گ حقیقی اور اور یجنل قابل ہوتے ہیں وہ حیات کے ہر میدان میں اتر جائے جیت ان کے قدم چومتی ہے استاد محترم شکور جان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے۔شکور جان ظاہری و باطنی طور← مزید پڑھیے
جدید دور تنہائی، دوری، نارسائی، قطع تعلقی، درد و غم، شناخت کی گم شدگی،منافقت، اذیتوں، استحصالی رویوں، فرد کی کم مائیگی اور ایک سفر بے کراں کا دور ہے جس کی منزل کا کوئی تعین نہیں ہوا یا نہ ہوسکا۔← مزید پڑھیے
طاہرہ اقبال کا تعلق ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں سے ہے۔ انہوں نے پرائیویٹ طور پر تعلیم حاصل کی۔ادبی دنیا میں انہوں نے افسانوں کے ذریعے قدم رکھا ساتھ ہی ناول نگاری بھی شروع کی۔ “نیلی بار” طاہرہ اقبال صاحبہ← مزید پڑھیے
ممبئی سے تعلق رکھنے والے فکشن نگار رحمان عباس کا ناول ‘ایک طرح کا پاگل پن’ بیک وقت پاکستان اور بھارت سے 2023ء کے اختتام پر دسمبر کے آخری ہفتے میں شائع ہوا۔اس ناول کی تقریب رونمائی حیدرآباد میں سالانہ← مزید پڑھیے
سیدہ رابعہ کا تعلق فیصل آباد سے ہے، آپ کی لکھی ہوئی دل دہلا دینے والی داستان ”بیڑی اور بنیان” میں راجو اور اس کے بدقسمت شوہر اصغر کی ہنگامہ خیز کہانی کے ذریعے غربت اور کشمکش کی تلخ حقیقتوں← مزید پڑھیے
عورت کی محبت جب انا کی چوکھٹ پہ آ کھڑی ہو تو خود پسندی اور خود غرضی کی ہر سیڑھی سرعت سے چڑھ جاتی ہے، بِنا سوچے بنا ایک لمحہ ضائع کیے ،پھر اس کی بھینٹ وہ خود چڑھتی ہے← مزید پڑھیے
اردو تنقید کی تاریخ میں کسی نقاد کو ایسی مقبولیت اور قبولیت نہیں مل سکی جو فی زمانہ ہمارے دوست ناصر عباس نیر کو حاصل ہوئی ہے۔ اس پر یمینیت و یساریت پسند ہر دو حلقوں میں سے محض چند← مزید پڑھیے
اسی طرح کرشن چندر’’ لفظوں‘‘ کی اہمیت کے توسط سے بھی گاؤں اور شہر کا موازنہ کرتے ہیں کہ شہر میں اگرچہ لفظوں کی ریل پھیل زیادہ ہوتی ہے، لفظوں کا تبادلہ اور مختلف انواع و اقسام کے الفاظ ملتے← مزید پڑھیے
کرشن چندر کا ناول ’’دوسری برف باری سے پہلے‘‘ ایک شاہکار ہے۔ یہ ناول پہلی مرتبہ ۱۹۶۷ء میں بمبئی سے ماہنامہ ’’شاعر‘‘ میں ’’تازہ و غیرمطبوعہ‘‘ کی سرخی کے ساتھ شائع ہوا ۔ پھر پاکستان میں پہلی مرتبہ بُک کارنر،جہلم← مزید پڑھیے
انیسویں صدی کے صنعتی انقلاب ، مغربی دنیا کے عروج اور نو آبادیاتی نظام نے مشرقی دنیا کے اہل ِ علم و قلم کو خیالی اور تصوراتی دنیا سے نکال کر حقیقت دیکھنے کی آنکھیں عطا کیں۔ نو آبادیاتی نظام← مزید پڑھیے
9جنوری2023کی تحریر پر ایک سال کا عرصہ بیت گیا۔اس عرصے میں “نئے نقاد کے نام خطوط” پر بہت سی تحریریں شائع ہوئیں اور مذاکرے ہوئے۔ایک مذاکرہ تو غالب انسٹی ٹیوٹ میں ہوا۔اس میں ادب کے بزرگ، جوان اور نوجوان اسکالرز← مزید پڑھیے
جو گیارہ اہم اور منفرد چیزیں میں نے اس کتاب سے اخذ کی ہیں انہیں بنا کسی تمہید کے یہاں ذکر کردینا سب سے زیادہ مناسب ہے کیونکہ باقی کتب بین فرد خود سمجھ لے گا کہ “پنجیری” با معنی← مزید پڑھیے