اُردو تنقید میں نیا موڑ/الیاس کبیر

اردو تنقید کی تاریخ میں کسی نقاد کو ایسی مقبولیت اور قبولیت نہیں مل سکی جو فی زمانہ ہمارے دوست ناصر عباس نیر کو حاصل ہوئی ہے۔ اس پر یمینیت و یساریت پسند ہر دو حلقوں میں سے محض چند لوگوں نے ان کے متون پڑھے اور شاید سمجھے بغیر مضحکہ خیزی، بے پر کی اڑائی اور الزام و اتہام کے جبلِ جُہل کھڑے کر دیے لیکن ڈاکٹر نیر تمام تر طعن و تشنیع سے بے نیاز ہو کر دیانت داری اور خلوص سے مصروفِ کار رہے۔ نتیجے کے طور ان کی کتب کے متنوع موضوعات ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
ہمارے ہاں کسی کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع ہونا تحیر آمیز خبریت سے کم نہیں اور اگر کسی تنقیدی کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع ہو جائے تو اسے ایک واقعہ قرار دیا جاتا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر نیر کی متعدد کتابوں کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کی تین کتابوں “مابعد نوآبادیات: اردو کے تناظر میں”، “اردو ادب کی تشکیلِ جدید” اور “اس کو اک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں” کے نئے ایڈیشن سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے نہایت طباعتی جمال پسندی کو پیش نظر رکھ کر چھاپے ہیں۔ ان کتابوں کی اولین رونمائی آکسفرد یونیورسٹی پریس نے کی تھی۔
ڈاکٹر نیر کی متذکرہ بالا تینوں کتابیں مسلسل مباحث کا حصہ رہیں۔ “مابعد نوآبادیات” چوں کہ اس موضوع پر اردو میں پہلی باقاعدہ کتاب تھی، اس لیے اس کی آواز کو بہت دور تک سنا گیا۔ اچھے اور مناسب مضامین لکھے گئے۔ جامعات میں سندی تحقیق کے لیے موضوعات کا چلن چل نکلا۔ ہندوستان میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے اس کتاب پر ایک مذاکرے کا اہتمام کیا۔ جس میں کتاب کے مختلف پہلوؤں پر بامعنی بات کی گئی۔
“اردو ادب کی تشکیل جدید” کو کئی حوالوں سے پذیرائی نصیب ہوئی۔ اسے قومی سطح کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ یہ کتاب حبیب یونیورسٹی کراچی کے ایک کورس میں شامل ہوئی۔ ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی (خدا ان کی لحد کو نور سے بھر دے) نے اپنے مجلے “معاصر” میں اس کتاب کے لیے ایک گوشہ قائم کیا۔
“اس کو اک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں” میرا جی کے حوالے سے اپنی نوعیت کی پہلی کتاب تھی جس میں میرا جی کے نظمیہ اور نثریہ سرمائے کو یکسر جدا گانہ انداز سے دیکھا گیا۔
“مابعد نوآبادیات: اردو کے تناظر میں”
اس کتاب میں ڈاکٹر نیر نے استعمار کار اور استعمار زدوں کے درمیان ثقافتی رشتوں کو تلاشا اور نوآبادیات کے اردو زبان و ادب پر ہونے والے اثرات اور مضمرات کو تجزیاتی انداز میں بیان کیا ہے۔ نیز انھوں نے استعماری بیانیے کی ماہیت، اس کے اثرات اور حکمت ِ عملی کو سمجھنے پر توجہ دی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے مابعد نوآبادیاتی فکر کے نظری مباحث کو بھی علمی ڈسپلن کے تحت سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی یے۔ نیز اسی کتاب کا ایک حصہ اطلاقی جہات کے حوالے سے بھی ہے جس میں انھوں نے گل کرسٹ کی لسانی خدمات، محمد حسین آزاد کے لسانی تصورات اور انجمن اشاعت ِ علومِ مفیدہ پنجاب کو مابعد نوآبادیاتی تناظر میں دیکھا ہے۔ اس اشاعت میں ایک نئے مضمون “نیٹو کی کیا سند ہے، صاحب کہیں تو مانوں: نسل پرستی اور سفید فام جمالیات” کا اضافہ بھی کیا گیا یے۔
“اردو ادب کی تشکیلِ جدید”
اس کتاب میں ڈاکٹر نیر نے نوآبادیاتی اور پس نوآبادیاتی عہد کے تناظر میں اردو ادب کے مطالعات پیش کیے ہیں۔ اوّل الذکر کتاب میں انھوں نے انجمن پنجاب تک اپنے مطالعات پیش کیے تھے۔ جبکہ ثانی الذکر کتاب میں اُس سے آگے اور بعد کے مباحث کو سمیٹا گیا ہے۔ کتاب کا مقدمہ خاصے کی چیز ہے کہ اس میں اردو میں پہلی مرتبہ متبادل بیانیے کا تصور متعارف کروایا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق، متبادل بیانیہ صرف اپنی زبان میں لکھا جاسکتا ہے،اور یہ بیانیہ مزاحمتی بیانیے سے آگے کی چیز ہے!
“اس کو اک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں”
ڈاکٹر نیر نے دیگر موضوعات کی مانند جدید اردو نظم کی بھی تہہ در تہہ تفہیم و تعبیر کر رکھی ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے اپنی کتب “مجید امجد: حیات، شعریات، جمالیات” اور “نظم کیسے پڑھیں” اور مضامین “فیض اور مارکسی جمالیات” ، “صارفی معاشرت اور راشد کی نظم” اور “اختر الایمان کی نظم” سمیت متعدد تحریریں پیش کر چکے ہیں۔ اس کتاب میں میراجی کی نظم و نثر کے مطالعات یکسر نئے انداز سے کیے گئے ہیں۔ کتاب کا مقدمہ میرا جی کے بارے میں قائم کیے گئے خود ساختہ تصورات کو منہدم کرتا ہے۔ کیوں کہ میرا جی کی روایتی تفہیم و تعبیر میں سے بیشتر شخصی تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر نیر نے اس کتاب میں بتایا ہے کہ میرا جی کو صرف ابہام اور جنسیت تک محدود کرنا میرا جی پر بہت بڑا ظلم ہے۔اعجاز احمد نے میرا جی کو جنس زدہ کہا جبکہ انیس ناگی نے اُسے ایک بھٹکا ہوا شاعر قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر نیر ّکے مطابق میرا جی کی نظم کا مطالعہ زیادہ تر اُن کی شخصیت کے تناظر میں کیا گیا ہے جو کسی طور درست نہیں مانا جا سکتا۔ کیوں کہ اس طرح میرا جی کی شخصیت تو نمایاں ہو جاتی ہے لیکن اُن کی نظم کہیں دور چلی جاتی ہے۔ حالاں کہ میرا جی کی نظم کی پرتیں تہہ در تہہ ہیں۔
برادر مکرم ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا انتہائی ممنون ہوں کہ وہ اپنی ہر کتاب تک رسائی دیتے ہیں۔ اس “تحفگی” پر ان کے لیے بے شمار دعائیں اور بے کنار احترامات
پیہم دیا پیالۂ مے برملا دیا
ساقی نے التفات کا دریا بہا دیا
حیران کن بات یہ ہے کہ سنگِ میل پبلی کیشنز لاہور نے کاغذ اور دیگر طباعتی مراحل کی ہوش ربا گرانی کے باوجود اس کی قیمتیں بہت مناسب رکھی ہیں جو قارئین بالخصوص تنقید کے قارئین کے لیے نہایت خوش کن خبر ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply