وعلیکم سلام پتر! میں ٹهیک ٹهاک ہوں۔ تم واقعی مجهے کم کم جانتے ہو مگر میں اپنے خون سے بہت اچهی طرح واقف ہوں۔ تم واقعی مجهے نہیں دیکه پائے مگر میں تمہاری ساری حرکتیں دیکه رہا ہوں.. اوئے کهوتے۔۔۔← مزید پڑھیے
بیس نومبر اردو ادب کی تاریخ کا اہم سنگ میل ۔۔۔۔۔۔مایہء ناز شخصیات کے حوالے سے خود پر نازاں احمد ندیم قاسمی کا یوم پیدائش ۔۔۔۔۔محترمہ حسینہ معین کی سالگرہ کا دن اور ہمارے شہرہ آفاق قادرالکلام شاعر فیض احمد← مزید پڑھیے
خطوں نے ڈالے ہیں وہ وسوسے دل سے اعتبارِ عربیہ گیا آٹھویں جماعت میں تھے کہ گاؤں میں بابا فتح خان اپنے ایک سپوت، جو فوج میں ملازم تھا، کا خط پڑھوانے لایا – جوان سپوت نئی نویلی شادی کے← مزید پڑھیے
الحمرا کمپلکس لاہور کے سبزہ زار میں ماڈرن نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے ہجوم میں ایک مضمحل اور بظاہر اکتائے ہوئے بوڑھے شخص سے ملاقات ہو گئی جن کا قیافہ ہو بہو فیض احمد فیض سے ملتا جلتا تھا۔ پہلے← مزید پڑھیے
ہمارے ایک دوست ہیں سید آصف شاہ، جن کو ہم یار دوست پیار سے “سیکسی شاہ” کہتے ہیں۔ معصوم اتنے کہ کبھی کبھار ان کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ جناب ہم عارف ہیں عارفہ نہیں، مگر مجال ہے کہ← مزید پڑھیے
یہ ان دنوں کی بات ہے جب سکولوں میں ملیشیا یونیفارم ہوتا تھا۔بال بھی کالے، جوتے اور کپڑے بھی۔ تپتی دوپہروں میں سکول سے واپسی پرجسم کی ہر وہ چیزتوے کی طرح تپنے لگتی جوکالی ہوتی۔ تالو، ڈبی دار یاسرعرفاتی← مزید پڑھیے
جب وہ باورچی خانے میں امی کو دبے پاؤں آ کر پیچھے سے گلے لگاتے تھے تو مجھے بہت اچھا لگتا تھا اور میں بھاگ کر ان سے جا کر لپٹ جاتی تھی۔ امی اور بابا دونوں خود کو بھول← مزید پڑھیے
اقبال،فیض کی نظر میں اعجازالحق اعجاز پچھلے دنوں پنجاب یونی ورسٹی ایگزیکٹو کلب میں ڈاکٹر وحیدالرحمٰن خان کی طرف سے برپا کی گئی ایک محفل میں معروف ادبی شخصیت اور فیض صاحب کے دوست شریف اشرف صاحب سے ملاقات ہو← مزید پڑھیے
افلاطون نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف “The Republic” میں ایک مثالی ریاست کا نقشہ پیش کیا ہے۔ یہ ایک گراں قدر تصنیف ہے۔ اس ریاست کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی بنیاد عدل پر قائم ہے← مزید پڑھیے
آج پھر حسب معمول بیوی سے جھگڑا کرنے کے بعد گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور قہرِ درویش بر جانِ درویش کے مصداق بڑبڑاتے ہوئے جلتے بھنتے دروازہ پٹخ کے باہر نکل آیا۔ یہ تو نکلتے ہی سوچ لیا تھا کہ← مزید پڑھیے
حضرت عمر رضی الله عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جس بہترین انداز سے حکومت چلائی مسلم و غیر مسلم مورخین اس پر شاہد ہیں۔ ہم یہاں ان کے دور کی تاریخ مرتب کرنے کے بجاۓ اپنے موضوع یعنی خلافت← مزید پڑھیے
دو گھوڑا بوسکی کریم رنگ کا کپڑا ہے جس کی قمیض، لٹھے کی شلوارکے ساتھ پہنی جاتی ہے۔ یہ لباس عموما تہواروں پر زعفرانی اور کیسری پگڑی کے ساتھ پہنا جاتا ہے لیکن میرا دوست شیخ مرید کہتا ہےکہ’’دو گھوڑا← مزید پڑھیے
بی بی سی لندن سے جب سیر بین کے بعد رات کو اردو نشریات کا اختتام ہوتا تو اس کے بعد ایک زور دار گونجتی آواز میں اعلان نشر ہوتا ” دا لندن”؛ اور اس کے ساتھ ہی پشتو نشریات← مزید پڑھیے
بڑے عرصے سے فیس بُک استعمال کر رہا ہوں، ویسے فیس بک بھی مزے دار چیز ہے۔ ؎کل اختر ملنے آیا، ڈیڑھ سال بعد ملاقات ہو رہی تھی۔ سلام دُعا کے بعد نکالا موبائل اور لگا فیس بُک استعمالنے۔ میں← مزید پڑھیے
دگر ا ز ایمنیٗ راہ و قرب کعبہ چہ حظ ؟ مرا کہ ناقہ ز رفتار ماند و پا خفتست ۔ غالب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات بھر برف گرتی رہی ہر طرف میں کہ بیمار تھا بار بستر تھا اس گھر کے← مزید پڑھیے
آج گھر سے نکلتے ہی سورج کی سنہری مگر جھلسا دینے والی کرنوں نے اپنے مکمل آب و تاب کے ساتھ استقبال کیا… اور میری یادداشت کے کسی کونے میں محفوظ بانو قدسیہ کا یہ جملہ گونجا کہ ” کچھ← مزید پڑھیے
ہیلو! شنایا بول رہی ہوں اللہ میاں جی! پہچان تو لیا ہے نا آپ نے مجھے؟۔۔۔۔جی وہی شنایا جس پر آپ کے ہی بنائے ایک طاقتور آدم زاد نے خوب طاقت دکھائی ہے اور وہ کچھ بھی نہ کر سکی،چیختی← مزید پڑھیے
“ارضی پیوستگی اور اقبال کا نظریہ قومیت” کے عنوان سے ایک مقالہ پڑھنے کو نصیب ہوا .. حیرت ہے ارضی پیوستگی ( ارتھ روٹڈنیس) کو مقالہ نگار عربی لفظ “خسف” کا مترادف مان رہے ہیں جب کہ یہ دونوں لفظ← مزید پڑھیے
یہ خط جب تم کو ملے تو جان لینا کہ میں اب عازم سفر ہوئی. تم سوچ رہے ہو گے کہ یہ کیسا سفر ہے جس کے لیے میں نے نہ ٹکٹ خریدا اور نہ کوئی سامان ساتھ لیا، تو← مزید پڑھیے
برّصغیر پاک وہند کے غیّور لوگ یا تو فلموں کے شائق ہوتے ہیں یا خود چھوٹی موٹی فلم ہوتے ہیں۔ اچھے زمانوں میں فلم بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا تھا۔ ایک خوبرو ، تندرست عفیفہ، ڈاڑھی مونچھ مُنڈا ایک← مزید پڑھیے