خواجہ سرا شنایا کا اللہ میا ں جی کو ٹیلی فون

ہیلو! شنایا بول رہی ہوں اللہ میاں جی!

پہچان تو لیا ہے نا آپ نے مجھے؟۔۔۔۔جی وہی شنایا جس پر آپ کے ہی بنائے ایک طاقتور آدم زاد نے خوب طاقت دکھائی ہے اور وہ کچھ بھی نہ کر سکی،چیختی چلاتی رہی،کوئی چھڑا سکا نہ بچا سکا،جسم پر پڑے نیلوں سے ابھی بھی خون رِس رہا ہے۔۔امی ابو تو ہیں نہیں پاس جو کوئی تسلی دلاسہ دیں، آنسوپونچھیں زخموں پر مرہم لگائیں۔۔ شایدماں ہوگی دنیا کے کسی کونے میں۔ٹی وی پر چلتی خبر دیکھ کر سوچ رہی ہوگی کہیں یہ وہی بچی تو نہیں جس کی پیدائش پر شوہر نے مجھے گھر سے باہر نکال دیا تھا؟ ماں کو تو پکار بھی نہیں سکتی۔۔میری آواز اس تک نہیں جائے گی نا۔۔ماں کو مجھ سے پیار نہیں تھا تبھی تو مجھے یہاں پھول گرو کی جھولی میں پھینک گئی تھی۔۔میرے پاس تو بس آپ ہی ہیں۔۔اللہ میاں جی آپ نے مجھے ایسا بنایا آپ کی ہر تخلیق مکمل ہے پھر ہم ادھورے کیوں؟

ادھورے بنا کر آپ نے دنیا کے جنگل میں خونخوار انسان نما حیوانوں کے بیچ بھیج دیا، پھر ماں باپ نے زندگی کی بپھری لہروں کے حوالے کیا،بہن بھائیوں نے منہ موڑا،معاشرے نے لفظوں کے تیر چلا کر کلیجے چھلنی کیے تو کبھی طنز کے پتھرو ں سے روح لہولہان کی لیکن آپ نے کچھ نہ کیا،کسی کی زبان روکی نہ ہاتھ۔۔میں میک اپ کی تہیں چہرے پر جما کر عورت کہلانے کی شوقین لیکن آپ نے اس قابل بنایا ہی نہیں۔۔سب جانتے ہیں کہ ہمارا مرد و عورت نامی جنس سے کوئی تعلق نہیں بنایا آپ نے اور آپ کو کون پوچھنے والا آپ جو بھی کریں تبھی تو ہمارے جیسے ادھورے وجود یہاں بھیج دئیے۔۔آپ کو پتا ہے سڑک کنارے چلتے جب کوئی ہم پر آوازیں کستا ہے تو کیسا کرب دل میں کروٹ لیتا ہے۔۔اور دل کی فریاد بھی سنیں۔۔بھلا اگر ہمیں ایسا ادھورا بنانا ہی تھا تو پھر دل بھی نہ دیا ہوتا جذبات احساسات بھی نہ دئیے ہوتے تاکہ کچھ بھی غلط ہونے کا ملال تو نہ ہوتا پھر چاہے ہر روز کوئی برہنہ کرکے ساری دنیا کے سامنے مجھے بیلٹ سے مارتا۔۔ آپ سے کوئی شکوہ تو نہ ہوتااس زندگی پر صبر تو ہوتا لیکن نامکمل وجود میں رکھے مکمل جذبات نے سارا کھیل بگاڑ دیا۔

لوگ کہتے ہیں ناچ گانا کیوں کرتی ہو؟کام کرو۔پھر انہی لوگوں سے کام مانگنے جاؤ تو کہتے ہیں جاؤ جو تمھارا کام ہے وہی کرو۔۔ناچ گانا، لوگوں کے دل بہلاؤ۔۔ہم دل بہلاتے ہیں کیوں کہ آپ نے ہمیں ایسا بنایا ہے انہی حالات کے تھپیڑوں میں بہتے ہم ججا نامی کسی فرعون کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور کوئی بچانے بھی نہیں آتا۔۔آپ بھی نہیں!میڈیا والے اپنی ریٹنگ کے لیئے میری ویڈیو بار بار چلائیں گے اور ایک کونے پر لکھا ہوگا بچے نہ دیکھیں۔۔ارے اگر تم اتنے ہی شریف ہو تو عزت کیو ں اچھالتے ہو کسی کی۔۔لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمیں قابلِ عزت سمجھا ہی نہیں جاتا،ہماے ادھورے وجود راہ کی دیوار ہیں انہیں کوئی پوچھے کہ ہم بھی تو تمھارے ہی جیسے کیسی شریف کی اولاد ہیں تم مکمل ہو تو اس میں اکڑ کس بات کی؟آپ نے ہمیں ایسا ادھور ابنایا تو ان لوگوں کو اس ادھورے پن کا مقصد بھی بتایا ہوتا۔کسی کے گھر بچے کی پیدائش پر ہمیں بلایا جاتاہے تو دل میں یہ حسرت کرلانے لگتی ہے کہ کاش تونے ہمیں مکمل بنایا ہوتا تو کوئی مجھ سے بھی شادی کرتا میں بھی بچے جنتی امّاں کہلواتی پر یہ ایسی خواہش جو اندر ہی اندر وجو د کو گیلی لکڑی کی مانند سلگائے جا رہی۔۔اس طاقتور دنیا میں ہم خس و خاشاک کی مانند ہیں ادھر ادھر اڑتے کبھی کسی تو کبھی کسی کے قدموں کی دھول۔۔خزاں میں درخت پر اگنے والے وہ پتے جو پیدائشی زرد رنگت کے مالک زمین پر گر کر ایک چرمراہٹ کیساتھ ہزاروں ذرّوں میں تبدیل ہو جانا مقدر میں لکھوا کر لائے ہیں اور یہ دنیا جہاں ہر شخص خود کو مکمل سمجھنے کے خبط میں مبتلاء۔۔

اللہ میاں جی یقین مانیں یہ مکمل لوگ ہم ادھوروں سے بھی گئے گزرے ہیں اپنا زور زبردستی ہم ایسوں پر چلا کرآپ کی نافرمانی کرتے۔۔ایسوں کو کب سزا دیں گے آپ؟
بتائیں نا۔۔۔۔ہیلو! بتائیں نا اللہ میاں جی کب ڈوبے گا ان ظلموں جابروں کا سورج ؟؟قیامت آنے سے پہلے ڈوب جائے گا نا؟یا نہیں؟
ہیلو۔۔ہیلو۔۔۔اللہ میاں جی بتائیں نا
کیا آپ کو بھی میری سسکیا ں اور آہیں سنائیں نہیں دے رہیں۔۔؟
ہیلو۔۔۔ہیلو!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”خواجہ سرا شنایا کا اللہ میا ں جی کو ٹیلی فون

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *