بننا ہمارا “ایڈیٹر مکالمہ”

بی بی سی لندن سے جب سیر بین کے بعد رات کو اردو نشریات کا اختتام ہوتا تو اس کے بعد ایک زور دار گونجتی آواز میں اعلان نشر ہوتا ” دا لندن”؛ اور اس کے ساتھ ہی پشتو نشریات کا آغاز ہو جاتا۔ اسی طرح گذشتہ شب ملکہ کے دیس اور ولائیتی وسنیک (خدارا اسے سنیک نہ پڑھیے گا ورنہ میری نوکری گئی ) نے ایک دھماکے دار پوسٹ کے ذریعہ سے مطلع کیا کہ اے ساکنان ِ خطہ فیس بک اور محبانِ مکالمہ، آپ کو نوید ہو کہ مکالمہ نے ٹیم میں اضافہ کرتے ہوئے ہمیں بھی گھر بیٹھے بٹھائے ایڈیٹری کی نوکری دے دی ہے ۔ اب اگر کوئی کہے کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں اور مڑ مڑ کر اپنوں کو تو ہم آپ کی اس بات پر ذرا بھی یقین نہیں کریں گے۔ ایک تو ہمارا ایڈیٹر ماشاء اللہ نا تو ضعف بصارت کا مریض ہے اور نہ بصیرت کا، ہاں سیرت کا البتہ کہہ سکتے ہیں اور اس کو وہ اپنی من موہنی صورت سے رجھا کر سب کو چپ کرا دیتا ہے ۔ اگر میں نے زیادہ لکھا تو رات دھمکی مل چکی ہے مجھے اور میاں حامد کو کہ سرکار انگلشیہ کا وکیل کامن ویلتھ کے کسی بھی ملک میں بلا روک ٹوک کیس کر بھی سکتا ہے اور لڑ بھی سکتا ہے ۔ اب میں اور میاں صاحب یا تو مریخ پر جانے کی تیاری پھڑ لیں یا کامن سینس (جو کہ ہماری برادری میں بہت کامن ہے )سے کام لیتے ہوئے کسی نان کامن ویلتھ ملک ٹر جائیں۔ مگر وہاں پر اگر نانِ جویں نہ دستیاب ہوا تو پھر ؟ اس لئے شترو گن سنہا کی طرح خاموش!!!!! ہمیں یہ اعزاز کسی سفارش یا انعام رانا نے انعام کے طور پر نہیں دیا ۔

خیر پہلے تو یقین ہی نہیں آیا کہ شاید رات کے بارہ بجنے والے ہیں اور سنا ہے کئی راجپوت بھی بارہ بجے سکھ ہو جاتے ہیں اجداد کی محبت میں۔ پھر سوچا کہ ایک بریکنگ نیوز “صابن والی” میں نے چلائی تھی انعام رانا کے بارے میں تو اب جوابی فائر ہم پر کھولا گیا ہے ۔ آنکھیں مل کر اور چشمے کو اچھی طرح قمیض سے رگڑ کر، ٹیبل لیمپ آن کر کے بغور دوبارہ پڑھا تو یقین ہوگیا کہ خبر درست ہی ہے ۔ ابھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ ہمارے غبارے کی ہوا بیگم کی نیند میں ڈوبی جھڑکی نے نکال دی، “سوجائیں، کیا ہوا لاٹری نکل آئی؟”۔ جی ہاں ۔ ایڈیٹری منہ میں منمناتے ہوئے گول مول گولی کرانے کی کوشش کی ۔ “بس تھوڑا ہی ہیر پھیر ہے لفظوں کا، یہی سمجھ لیجئے”۔ گویا ہوئیں، “اچھا یہ ٹر ٹر بند کیجئیے اور سونے دیں” اور پھر گردن گھما کر نیند کی وادیوں میں غڑپ۔

صبح تازہ دم بچوں کو سکول اور نازآفریں کو پھول پیش کرنے کے بعد، ناشتے کی میز پر جب اپنی طرف سے اس پروموشن کی بریکنگ نیوز چلانے کا ارادہ کرکے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ “مجھے ایڈیٹر بنا دیا گیا ہے” کہ بیگم کی ہنسی کا فوارہ منہ میں چائے بھری ہونے کی وجہ سے، ان کے غرارہ اور ہمارے چہرے اور گرد و پیش پر پھوار ڈالتا چلا گیا۔ ہق دق اور حیران و پریشان تکا کئے کہ الہٰی کون سا لطیفہ سنا دیا ۔ پوچھا ” یہ ایڈیٹر کیا کرتا ہے؟”۔ کیا مطلب بھئی؟ ایڈیٹر کا کام ایڈیٹنگ کرنا ہوتا ہے، دوسروں کی تحاریر ۔بولیں کہ گویا اب آپ نکیرین والا کام کریں گے جن کے لکھے جانے پر ہم نے ناحق پکڑے جانا ہے۔ اب کسی کے لکھے پر آپ کے ایڈٹ کرنے کے بعد آپ پکڑے جایا کریں گے ۔ نہیں ہم تو اصلاح کیا کریں گے، لکھنے کا کام تو صاحب تحریر کا ہی ہوگا ۔ بولیں کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ کا کام بڑھ جائے گا اور دیگر امور پر توجہ “مزید کم” ۔عرض کی کہ نہیں ہم اسی دستیاب وقت میں سارا کام نبٹا لیا کریں گے ۔ ماشاءاللہ دن بدن سائیٹ کا کام بڑھ رہا ہے مگر فکر نہیں کریں، ہم مینیج کر لیں گے۔ اب سنجیدہ لہجہ اور شرارت بھرے چہرے سے پوچھا “تو ایڈیٹر صاحب پھر کیسے کریں گے ایڈیٹنگ”؟۔ اوکے! مثال دے کر بتاتا ہوں۔ معراج رسول کا نام سنا ہے؟ جن کے آپ اپنے پسندیدہ ڈائجسٹ پڑھتی ہیں۔ بس اس لڑی اور کڑی کے میں ابھی سب سے نچلے پائیدان پر ہوں۔ تیر آیا کہ ہاں مگر ان کا ۴۵ سال کا تجربہ ہے، آپ کو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے ۔ کچھ بدکے مگر عرض کی کہ جی درست ہے، مگر معراج صاحب نے بھی ایک دن میری طرح ہی شروع کیا ہوگا نا اور اب وہاں پہنچے ہیں ،ہم بھی اپنے سینئرز سےکبھی نا کبھی سیکھ ہی جائیں گے۔

تو جناب، نصف بہتر کے ہاتھوں اپنی عزت افزائی کروا کر، چپ چاپ کان لپیٹے اوپر کمپیوٹر روم جانے کا سوچ ہی رہے تھے کہ ایک لمبی لسٹ تھما دی گئی۔ پہلے یہ سارے پینڈنگ کام کر لیجیئے، پھر بے شک کرتے رہیئے گا ایڈیٹری ۔ عافیت اسی میں جانی کہ تحمل اور سکون سے سارے کام مکمل کرلئے جائیں اور اس کے بعد فرصت اور فراغت سے نئی ذمہ داریوں کو پورا کریں ۔

صاحبو ہمیں تو تب سے ایڈیٹری قدرت اللہ شہاب کی “ماں جی” کی سوکن “گورنری” کی چھوٹی بہن لگنی شروع ہوگئی ہے ۔ اگر آپ کو آنے والے چند دنوں میں مخبوط الحواسی کی کوئی مثال ویب سائیٹ پر کسی مضمون کی ایڈیٹنگ میں ملے یا زبان و بیان میں کوئی فاش یا فحش غلطی ملے، تو ہماری کندہ ناتراشی اور نا تجربہ کاری پر محمول کرتے ہوئے صرفِ نظر کیجئے گا جس کے لئے پیشگی معافی کا خواستگار ہوں، آخر آپ میں سے بھی کئی صاحبِ بیگم ہوں گے۔

انعام رانا اور دوسرے تمام رفقاء کا شکریہ جنہوں نے ناچیز کو اس ذمہ داری کے قابل سمجھا اور اس اعتماد کا اظہار کیا ۔ قسمت کی خوبی یا خرابی، جو مرضی کہہ لیں، جب بھی کوئی تاریخی مچیٹا ہوا جنابِ چیف ایڈیٹر کا تو ہم اس وقت “کتابِ رخ” پر موجود تھے اور اس کے بعد “مکالمہ” کی منصوبہ بندی اور لانچ میں اپنی ناقص عقل اور فہم کے مطابق مشورہ دیتے رہے، جن پر عمل نہ کرکے آج “مکالمہ” کامیاب جا رہا ہے ۔ چلتے چلتے نئے ایگزیکٹیو ممبران ثمینہ رشید صاحبہ اور محترم رضا شاہ جیلانی کو بھی پیغام تہنیت پیش کرتا ہوں۔

پس نوشت: آج سے ہمیں گھر میں “بات سنیے” کی بجائے، “ایڈیٹر صاحب ذرا یہ کام کر دیں” کہہ کر پکارا جا رہا ہے۔ ا مید ہے آہستہ آہستہ کانوں کو اس نئے نام کی عادت بھی پڑ جائے گی، احباب دعا کریں ۔

احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *