سید آصف شاہ سیکسی

ہمارے ایک دوست ہیں سید آصف شاہ، جن کو ہم یار دوست پیار سے “سیکسی شاہ” کہتے ہیں۔ معصوم اتنے کہ کبھی کبھار ان کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ جناب ہم عارف ہیں عارفہ نہیں، مگر مجال ہے کہ وہ ہمیں مرد سمجھنے پر راضی ہو۔ فوراً ایک ہاتھ ہماری کمر پر اور دوسرا ہاتھ اپنے کمربند پہ ڈال دیتے ہیں۔ مگر کبھی بہت سنجیدہ بھی ہوتے ہیں اور جب وہ سنجیدہ ہوتے ہیں، تو ھمارے ایک اور دوست کا کہنا ہے کہ سیکسی شاہ اس وقت مذاق کا نشانہ بن جاتے ھیں، جب وہ عقلمند بننے پر مصر ھوں .

مشتاق احمد یوسفی کیساتھ ایک ہمزاد ہوتا ھے، مرزا عبدلودود، جو بقول یوسفی کہ وہ خود ہیں۔ مگر شاہ جی ھمارا وہ ہمزاد ھے جو ہمارا نہ ھوتے ھوئے بھی ھمارا ھے. سیکسی شاہ صاب چالیس کے ہو گئے ھیں، مگر مجال ھے جو خود کو 18 سے زیادہ تصور کریں۔ صبح نو بجے سے لیکر رات نو بجے تک کم از کم پانچ عشق ضرور فرماتے ھیں۔ اور اتنے باذوق واقع ہوئے ھیں کہ روڈ پر جھاڑو دینی والی میں بھی وہ وہ چھپی ھوئی کشش اور خوبیاں ڈھونڈ نکالتے ہیں جس سے وہ بیچاری بھی بے خبر ھوتی ھے۔ لوگ آنکھوں سے دیکھ کر دل میں اتارنے کے قائل ھیں، مگر موصوف دیکھ کر اور منہ کھول کر فوراً دونوں ھاتھوں سے خود کو مسلنے پر یقین رکھتے ھیں؛ اور فرط جذبات سے وہی انگلیاں دانتوں میں بھی اکثر دبا بیٹھتے ھیں.

کھجانے کے اس عادت پر وہ اکثر مشق ستم بھی بنتے ھیں، مگر وہ شاہ جی ھی کیا جو ایسے چھوٹے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو خاطر میں لائیں. اکثر دوست انکی موجودگی میں گھر سے آئے ہوئے کسی بھی قسم کی فون کو اٹھانے کی جسارت نہیں کرپاتے۔ کیونکہ ائیرپیس سے کسی بھی زنانہ گفتگو سے وہ سمجھ لیتا ھے کہ فون کرنیوالی کوئی خاتون ھے اور فوراً کھجاتے ہوے، مسکین صورت بناکر، آپ سے مطالبہ کردیتا ھے کہ جانو ہمیں بھی اس کا نمبر دے دو. آپ لاکھ قسمیں کھاؤ کہ یار والدہ سے بات ہو رہی تھی مگر منوانا آپکے بس میں نہیں اور ماننا اسکی سرشت میں نہیں.

پچھلے دنوں جب ہماری بیگم نے ہماری شاد مردانوی سے بڑھتی قربتوں پہ شک میں پڑ کر ہمیں منہ لگانا بند کر دیا تو ہم نے پہلے تو شاد سے بہن بھائی والے پیار کی قسم کھائی اور پھر بطور رشوت شاپنگ کی آفر۔ خیر، نہا کر جب بیگم کیساتھ بازار پہنچے اور خریداری ہو رہی تھی تو جناب سیکسی شاہ بھی اپنی بیگم کیساتھ وارد، بلکہ ظہور پذیر ھوگیا۔ کوئی فرار نہ پا کر میں وہیں کھڑا ھو گیا. ہم سے مصافحہ اس نے اپنی توھین سمجھ کر ہماری ہی بیگم سے جس گرجدار آواز میں سلام کیا اور اسکی طبعیت کا پوچھنے لگا، ہم بھی شک میں آ گئے کہ شاید اسکی یہ پہلی ملاقات تو نہیں ہو سکتی۔ فوراً انکو بتانا پڑا کہ جناب جس خاتون سے آپ مخاطب ہیں، وہ ھمارے عقد میں ہیں۔ اور سیکسی شاہ کے دونوں ھاتھوں کو تب تک ہم تھامے رہے جب تک اللہ حافظ کہنے کی نوبت نہیں آئی۔ ہماری اس حرکت پر بیگم نے شاد پہ کھائی قسم پر بھی یقین کرنے سے انکار کر دیا اور ھمیں کافی مشکوک اور خشمگیں نظروں سے دیکھتی رھیں۔ کہنے لگیں کہ امریکہ چلے جاو، وہاں تم جیسوں کیلیے حقوق مرداں کا بل منظور ہوا ہے۔ ہمیں بیگم کی وہ نظریں بھی منظور تھیں اور طعنے بھی، مگر شاہ جی کے کھلے اور آزاد ھاتھوں کا رسک ہم کبھی نہیں لے سکتے تھے، سو نہیں لیا اور خود پر بیگم سے ……. الزام لگوا بیٹھے……

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *