کتاب تبصرہ    ( صفحہ نمبر 20 )

بینا سے بصد احترام۔۔آغر ؔندیم سحر

بینا نے زندگی کی جمالیاتی قدروں کو بھی سمجھا ہے اور ثقافتی شناخت کے بیانیے کو بھی سمجھا اوراس پر لکھا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہماری دوست بینا گوئندی نے شرق و غرب کی تہذیبی و ثقافتی شکست و ریخت کو جس انداز میں سمجھا ہے←  مزید پڑھیے

میری داستان جدوجہد: ڈاکٹر غلام حسین/تعارف: لیاقت علی ایڈووکیٹ

ڈاکٹر غلام حسین کا شمار پاکستان پیپلزپارٹی کے ان رہنماوں میں ہوتا ہے جو خود کو نظریاتی کہتے ہیں۔وہ ضلع جہلم کے ایک پسماندہ گاوں چرغمال میں گذشتہ صدی کی چوتھی دہائی میں پید اہوئے تھے۔مڈل تک تعلیم اپنے گاوں←  مزید پڑھیے

’’نقوشِ پائے رفتگاں‘‘ ایک جائزہ …..فیصل عظیم

ستیہ پال آنند صاحب کی خود نوشت ’’نقوشِ پائے رفتگاں‘‘ پہلی بار پڑھی تو یہ قندِ مکرّر تھا کہ اس سے پہلے ان کی سوانح عمری ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ پڑھ چکا ہوں اور اس کے حوالے سے کچھ گزارشات←  مزید پڑھیے

نظریاتی نراجیت اور ادب۔۔احمد سہیل

{ جیف شلز کی کتاب ” نراجیت کا بھوت/ بدروح: ادب اور نراجی تمثالیت” کے حوالے کے ساتھ} Specters of Anarchy: Literature and the Anarchist Imagination , by Jeff Shantz (Author) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نراجیت پسندی{Anarchism} ایک سیاسی نظریہ ہے جو اختیار←  مزید پڑھیے

سلمان رشدی کا ناول ” شالیمار کا مسخرہ “۔۔احمد سہیل

مرقع ذات سلمان رشدی ایک ہندوستانی نژاد انگریزی ناول نگار، نقاداور اشتہاری فلمموں کے اداکار ہیں، جو مشرق اور مغرب کی ثقافتوں کے درمیان نوآبادیاتی دور کے بعد کے تعلقات کے بارے میں شاندار ناولوں کے لیے مشہور ہیں۔ احمد←  مزید پڑھیے

ادب کے آئینے میں سائنس داں :ڈاکٹر انور نسیم…..ڈاکٹرافشاں ملک

میرے لیےیہ انکشاف بہت حیران کن تھا کہ بحیثیت سائنٹسٹ بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت قائم کرنے والے ڈاکٹر انور نسیم کو اردو زبان و ادب سے بھی والہانہ عشق ہے اور ان کایہ عشق صرف زبانی کلامی  نہیں←  مزید پڑھیے

امتیاز نامہ۔۔امتیاز گلیانوی/مبصر-محمود اصغر چوہدری

کوئی بھی وقت ہو یاد اس کی مجھے گھیر لیتی ہے یہ ایسا تیر ہے جس کو نشانہ یاد رہتا ہے ہم انسان ہیں جو قید جبر میں خاموش رہتے ہیں ورنہ پرندوں کو تو قفس میں بھی گانا یاد←  مزید پڑھیے

امریکی تاریخ کے پہلےمسلمان غلام اسکالر کی سوانح عمری۔۔گوہر تاج

امریکی تاریخ کے پہلےمسلمان غلام اسکالر کی سوانح عمری۔۔گوہر تاج/سوانح عمر یاں تو بہت لکھی گئی ہیں لیکن مجبور و بے زبان اور وہ بھی امریکہ کےسیاہ فام غلام مسلمان کے قلم سے لکھی زندگی کی کہانی کچھ عجوبہ سی بات لگتی ہے ۔←  مزید پڑھیے

چراغ زار اور اک گلی شہر میں تھی(2)۔۔امجد اسلام امجد

“چراغ زار” اختر عثمان کا تازہ تر شعری مجموعہ ہے جو اُن کے مطالعے کی وسعت، شعری روایت پر گہری نظر اور تخلیقی صلاحیت کا ایک غیر معمولی اظہار ہے کہ دورِ حاضر میں بہت کم شعر ا ان اوصاف←  مزید پڑھیے

مصوّرِ وقت۔۔مظہر حسین سیّد

مصوّرِ وقت۔۔مظہر حسین سیّد/کسی کتاب کی اشاعت میرے نزدیک ایک انسان کے جنم لینے کے مترادف ہے ۔ جس طرح ایک بچے کا جنم اپنے اندر لامتناہی امکانات لیے ہوئے ہوتا ہے اور یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ بچہ آگے چل کر کیا بنے گا←  مزید پڑھیے

حقیقت سے فرار کی ناکام کوشش۔۔بلال حسن بھٹی

بچپن میں جب آس پاس کے لوگ آپ کی تعریف کر رہے ہوں تو آپ کے اندر خود اعتمادی آ جاتی ہے۔ ایک ایسی خود اعتمادی جو آپ کو وقت کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط شخصیت بنا دیتی ہے۔ لیکن←  مزید پڑھیے

حضور کب تک، افسانوی مجموعہ “گونجتی سرگوشیاں پہ ایک تبصرہ “۔۔صباح کاظمی

ان گونجتی سرگوشیوں نے کہنے سے زیادہ بولنے پر اُکسایا ،کہا کہ وہ سب بول دو جو ہم جیسی کروڑہا عورتیں ہونٹوں میں دبائے دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں۔ اس کتاب کی تخلیق میں ان سات حساس لیکن نڈر←  مزید پڑھیے

اعظم معراج کا آتشیں گیت ۔۔محمد عثمان جامی

میں ان لوگوں میں سے ہوں جو نثری نظم کی ترکیب کے خلاف ہیں، لیکن اس عنوان کے سائے تلے ہونے والی بعض تخلیقات کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے شعریت شدت ِاحساس کی تپش سے پگھلی اور اپنے سانچے←  مزید پڑھیے

خدا کرے ناطق کبھی آسودہ حال نہ ہو۔۔عامر حسینی

الجھنوں کے ساتھ جیتے دیکھیں گے تو اس بات کا امکان پیدا ہوگا کہ آپ اس کی فردیت ، اس کی یکتائی ، اس کے چھوٹے چھوٹے دکھ سکھ ، اس کی جنسی زندگی سچائی اور جھوٹ ، اس کی←  مزید پڑھیے

ڈاکٹرسہیل کی سوانح حیات/تبصرہ:صادقہ نصیر

ڈاکٹرسہیل ایک ایسی قد آور شخصیت ہیں جن کی کسی تحریر ’ کتاب یا تخلیق پر اپنی رائے کا اظہار کرنا اسی طرح مہماتی کرشمہ ہے جس طرح ان کی تحریریں، کتب، اور دیگر تخلیقات بذات خود تخلیقی مہماتی کرشمے ہیں۔←  مزید پڑھیے

وولگا سے گنگا۔۔سیّد مہدی بخاری

گذشتہ دنوں فرصت نصیب رہی اور موبائل سے دوری بھی رہی اسی واسطے کچھ کتابیں پڑھنے کا وقت ملا۔ انہیں کتابوں میں سے ایک کتاب کا ذکر کرنا چاہوں گا جو تاریخ کی انوکھی کتاب ہے جس میں کہانی، افسانے←  مزید پڑھیے

مجھے فیمینسٹ نہ کہو۔۔سلیم مرزا

بیگم کے آپریشن کے بعد میرا خیال تھا کہ ڈاکٹر ان کو شام کی واک منع کردے گا ، مگر انہیں پھر سے سیر کرنے کا لکھ دیا گیا ۔ “بیگم کی بلا، شوہر کی ٹنڈ ” چنانچہ میں وہ←  مزید پڑھیے

فکر استشراق پر برصغیر میں ہونے والے کام کا مختصر جائزہ۔۔محمد اکمل جمال

اس میں شک نہیں کہ ہمارے ہاں برصغیر پاک وہند میں استشراقی افکار ، ان پر تنقید ، اور ان کی سنجیدہ تحقیق کے حوالے سے جو کام ہوا ہے وہ اس تحریک کے منفی اثرات اور اس کے دیرپا خطرناک نتائج کے مقابلے میں نہایت محدود ہے۔ ←  مزید پڑھیے

جاوید خان ہندو کش کے دامن میں۔۔ قمر رحیم خان

جاوید خان ایک پریشان روح ہے۔ کس کی ہے؟ کم ازکم میری تو نہیں ہے۔یہ ‘‘پکّی پروہڑی’’ روح ہے۔جواپنے ہم عصروں کی تلاش میں بھٹک رہی ہے۔ اس کا رخ شمال اور شمال مغرب کی طرف ہے←  مزید پڑھیے

گونجتی سرگوشیاں کا تخلیقی رویہ۔۔منیر احمد فردوس

گونجتی سرگوشیاں میں بظاہر سات افسانہ نگار شامل ہیں مگر تخلیقی رویئے سات سے زیادہ تشکیل پا گئے۔ ابصار فاطمہ کا تخلیقی برتاؤ حقیقت اور خواب کے مابین ہے، وہ اپنی کہانی کے خدو خال حقائق کی دھجیاں اکٹھی کر کے بناتی ہیں←  مزید پڑھیے