مصنف کا تعارف: خدائے بزرگ و برتر دین کی خدمت کے لیے جن کا انتخاب فرماتا ہے انہیں ایسی صلاحیتوں سے نوازتا ہے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ آج جس شخصیت کا تعارف پیش کیا جارہا ہے وہ← مزید پڑھیے
فرحین خالد کے توسط سے ملنے والا ناولٹ ”دی فادر، دی سن اینڈ دی ہولی گھوسٹ“پڑھنے کو ملا،ایک نشست میں پڑھ ڈالا۔ مجھے اوروں کا معلوم نہیں میں جب بھی کوئی کتاب پڑھنے کے لیے ہاتھ میں تھامتا ہوں تو← مزید پڑھیے
ادبی جریدہ اثبات کے مدیر ،شاعرو ادیب اشعر نجمی کا ناول صفر کی توہین اس وقت زیر بحث ہے ۔ ایسے حسّاس موضوع پر قلم اٹھانا ہمت کا کام ہے اشعر نجمی نے اس ناول کے ذریعے قاری کے ذہن← مزید پڑھیے
شاعری الہام کی صورت دلوں میں اترتی ہے اور جذبوں کے سیلِ رواں کی لفظوں میں ترتیب و تنظیم کرتی جاتی ہے۔ شاعری عطا ہے، خاص ودیعت ہے جو ہر دل پر مہرباں نہیں ہوتی۔ جن پر یہ دیوی مہربان← مزید پڑھیے
یوں ڈاکٹر شاہد صدیقی کو دیکھیے تو وہ ایک سادہ وضع، خوش اطوار و خوش گفتار شخص، ایک معلّم اور ادیب۔ ان کی تحریریں پڑھیے تو کیا ہمہ جہت، ہمہ صفت، رنگا رنگ شخصیت۔ ادب و شعر، موسیقی، تاریخ، تعلیم،← مزید پڑھیے
ادریس تبسم نے جب مجھے بتایا کہ وہ نہ صرف اپنی یادداشتیں لکھ رہا ہے بلکہ انھیں چھپوانے کا ارادہ بھی رکھتا ہے تو میں نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا تھا کیونکہ یادداشتیں تو ہمیشہ نامور اور مشہور← مزید پڑھیے
“کیا لکھ رہے ہو ؟” “انعام رانا کی کتاب پر تبصرہ لکھ رہے ہیں” “کتاب ابھی لانچ ہی نہیں ہوئی اور تم نے پڑھ بھی لی ؟ رانے نے مسودہ بھیج دیا تھا کیا ؟” “ہم نے کب کہا کہ← مزید پڑھیے
ادب کی دنیا کا ایک روشن اور متحرک ستارہ جو اپنی پوری آب و تاب سے چمک کر دوسروں کو منور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ میرے نزدیک آصف عمران صاحب ہیں ۔ جو اپنے قلم کے ذریعے اس← مزید پڑھیے
علی اکبر ناطق شاعر ، افسانہ نگار اور ناول نگار ہیں ۔ان کا پہلا ناول نو لکھی کوٹھی بے حد مقبول ہوا ۔ ہر معاشرے کی تہذیب اور ثقافت اس کے ادب سے چھلکتی ہے ۔یہ ہی کلامیہ بعض اوقات← مزید پڑھیے
ابھی ہمارے بھتیجے کی جرمن شیفرڈ ‘‘سُوزی’’ کو فیس بک یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لیے چند ہی ماہ گزرے تھے کہ ہمارا بلّا ‘‘چارلس’’بھی ایک دن ہمیں ‘‘چلَٹ ’’ کے پاس سکّہ بند دانشور کے حلیے میں خود کلامی← مزید پڑھیے
شہاب نامہ پرائمری کے زمانے میں پڑھی. اس وقت طلسم ہوش ربا، فردوس بریں، داستان امیر حمزہ، الف لیلہ پڑھتا تھا، اس میں جنوں بھوتوں کا ذکر پڑھ کر مجھے لگا یہ بھی اسی کے ساتھ کی کوئی کتاب ہے.← مزید پڑھیے
امجد پرویز ساحل کی کتاب “باسفورس” پر اظہار خیال کرنا میرے لیے باعث مسرت ہے۔اس مسرت کی کئی وجوہات ہیں کیونکہ ان کی شخصیت میں ادب کی کئی اصناف کے رنگ موجود ہیں۔ کیونکہ وہ نثری ادب میں میرے ہمسفر← مزید پڑھیے
جنوبی پنجاب صوبہ یا سرائیکی صوبے کےقیام کا مسئلہ گذشتہ کچھ سالوں سے پاکستانی سیاست کا اہم موضوع بن چکا ہے۔ تینوں بڑی اقتداری سیاسی جماعتیں پنجاب کے جنوبی اضلاع پرمشتمل یہ صوبہ بنانے پرمتفق ہیں۔ ن لیگ توایک قدم← مزید پڑھیے
جوزف کونراڈکا ناول Heart of darkness افریقہ کے دل کونگو کے بارے میں اس کے اپنے تجربات کی روشنی میں لکھا گیا تھا جو 1902میں شائع ہوا۔ آج بھی بہت سارے لوگ کونگو کوپس ماندہ ، غریب ، بغاوت اور← مزید پڑھیے
کشمیر کوہم نے سات رنگوں والی آنکھوں سے بھی دیکھا لیکن اس کے رنگ شمار نہ کرسکے۔اس کے جھرنوں کے موتیوں کو کوئی مصور بنا سکا نہ کسی کیمرے کی آنکھ انہیں دیکھ سکی۔اس کے آنسوؤں کی جھیلوں میں لوگ← مزید پڑھیے
یہ کتاب خود سے خدا تک محمد ناصر افتخار نے گزشتہ سال لکھی جسے بک کارنر جہلم نے شائع کیا ـ یہ 36 مضامین پر مشتمل ہے ـ کتاب کے آخر میں قرآن مجید سے چند منتخب آیات بھی فراہم← مزید پڑھیے
یہ بات میرے لئے باعث شرف ہے کہ میرے انتہائی معزز استاد سر لئیق احمد نے اپنی تحریر کردہ کتاب “مقالات باھو شناسی” مجھے دی جس پر میں دل سے آپکی مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا۔← مزید پڑھیے
ادب کی تاریخ میں خط کو براہ راست ملاقات کا درجہ حاصل ہے اور اس اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا- اردو خطوط نویسی میں رجب علی سرور اور مرزا غالب ادبی اور لسانی لحاظ سے نیک ثابت ہوئے← مزید پڑھیے
ناصر کاظمی نے کہا تھا ؎شہرِ لاہور تیری رونقیں دائم آباد تیری گلیوں ی ہَوا کھینچ کے لائی مجھ کو کسی اور کا جملہ ہے ؎دنیا دی گل ہور اے ، لاہور فیر وی لاہور اے یوں تو ہر مشہور← مزید پڑھیے
استنبول کی اس طویل سیر کے بعد اب ہم جہاں گرد کے ساتھ بلغاریہ پہنچتے ہیں جس کو میں رومانیہ ، ہنگری اور مشرقی یورپ کے دیگر ممالک کو جاتے وقت چھوتے ہوئے گزرا تھا۔ استنبول کے سرکیجی ریلوے سٹیشن← مزید پڑھیے