وکیل بابو کی تصنیف/تحریر-رعایت اللہ فاروقی

“کیا لکھ رہے ہو ؟”

“انعام رانا کی کتاب پر تبصرہ لکھ رہے ہیں”

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

“کتاب ابھی لانچ ہی نہیں ہوئی اور تم نے پڑھ بھی لی ؟ رانے نے مسودہ بھیج دیا تھا کیا ؟”

“ہم نے کب کہا کہ کتاب پڑھ لی ہے ؟”

“کتاب پڑھی نہیں اور اس پر تبصرہ لکھ رہے ہیں ؟ کمال ہے”

“تمہیں کس بیوقوف نے کہا ہے کہ کتاب پر تبصرہ لکھنے کے لئے اسے پڑھنا ضروری ہوتا ہے ؟”

“یار اگر ایک چیز پڑھی ہی نہیں تو اس پر تبصرہ کیسے ہوسکتا ہے ؟”

“تم نے ظفر عمران کی کتاب پر ہمارا تبصرہ پڑھا تھا ؟”

“کچھ یاد تو پڑ رہا ہے”

“وہ ہم نے صرف تقریظ پڑھ کر لکھا تھا، مگر ہمارا تبصرہ اچھوں اچھوں پر بھاری تھا”۔

“سب سے بھاری تو بیچارے مصنف پر ہی پڑا ہوگا۔ کیا تقریظ اتنی جامع تھی کہ اس کی بنیاد پر پوری کتاب پر تبصرہ ہوگیا ؟”

“کیا تم جانتے ہو کہ تقریظ کی تعریف کیا ہے ؟”

“کسی معتبر آدمی کی جانب سے مصنف کی کتاب کے لئے تعریفی جملوں کو تقریظ کہتے ہیں”

“نامکمل تعریف”

“تو پھر مکمل تعریف کیا ہے ؟”

“کسی کی کتاب کی سچ اور جھوٹ کی پروا کئے بغیر تعریف کرنا تقریظ کہلاتا ہے”

“لاحول و لاقوۃ الا باللہ”

“تو تم انعام کے ساتھ بھی یہی کرنے جا رہے ہو ؟”

“اخلاص کا تقاضا تو یہی ہے”

“کچھ شرم کرو یار، تم اتنے اچھے دوست کے ساتھ یہ ظلم کروگے ؟”

“ارے میاں اچھا دوست ہے تبھی تو یہ کرنے کا ارادہ ہے”

“لغو بات ہے، بلکہ نری بکواس ہے”

‘اگر ہم دلیل سے ثابت کردیں کہ ہمارا ایسا کرنا اس کے ساتھ اخلاص کا تقاضا ہے تو ؟”

“سوال ہی نہیں پیدا ہوتا مگر تم ٹرائی کرلو”

“دیکھو پچھلے پانچ سو سال سے مسلمانوں کا چلن یہ ہے کہ اگر آپ کسی مسلمان بھائی کے کام کی تعریف کردیں تو اگلا فوراً نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اس کا اپنا کوئی مطلب ہوگا جبھی تعریف کر رہا ہے۔ لہذا اس کی تعریف کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔۔”

“ہاں یہ تو ہے”۔

“اور اگر آپ کسی کی برائی کردیں تو فوراً سوچتے ہیں، یہ ضرور اس سے جلتا ہوگا اسی لئے خلاف بول رہا ہے۔ متعلقہ شخص کا کام ضرور اچھا ہی ہوگا جبھی جل کر کباب ہوا جا رہا ہے۔ اور یوں سب کتاب خریدنے کے لئے قطار میں لگ جاتے ہیں۔ ہم سے شرط لگا لیجئے کہ بہت سے تو محض اس لئے چار چار نسخے خرید لیں گے کہ ایسا کرنے سے فاروقی کو تکلیف ہوگی۔ سو بتایئے ہم انعام کی کتاب کی تعریف کریں یا تنقیص ؟”

“تم نے چکر میں ڈال دیا۔ خود انعام کیا چاہتا ہے ؟”

“اس کا تو تین دن سے ہم وٹس ایپ میسج ہی نہیں کھول رہے۔ اس نے تعریف کی فرمائش تھوڑی کرنی ہے۔ اس نے تو یہی لکھا ہوگا کہ کتاب بھیجنی ہے ایڈریس بھیج دو۔ شامت تو ہماری اس کے دس دن بعد آنی ہے”۔

“شامت کیسے ؟”

“جس دن کتاب ڈیلیور ہوگی اس نے اپنے دفتر کی میز پر پھیلے پلانر پر ڈیلیوری ڈیٹ پر سرخ دائرہ ڈال کر ہمارا نام لکھ دینا ہے۔ اور اس کے بعد وہ عمر کی رعایت دے کر دس صفحے یومیہ کا حساب لگا کر خود ہی طے کرلے گا کہ فلاں تاریخ تک کتاب کا مطالعہ مکمل ہوجانا چاہیے۔ اس تاریخ کے تین دن بعد ہمارا تبصرہ نہ آیا تو اس نے کراچی کے ایک کمینے خٹک سے ہمارے خلاف مضمون لکھوا دینا ہے”۔

“جبھی تم کتاب پڑھے بغیر اس پر تبصرہ لکھنے بیٹھ گئے ہو ؟”

“ظاہر ہے”

“اور تنقیص لکھوگے ؟”

“نہیں بس اتنا سا جملہ ڈال دیں گے کہ رانا صاحب کے آدھے بال رومانس میں ہی اڑے ہیں، جب بھی کوئی گوری طلاق کیس کے لئے رانا صاحب کو ہائر کرنے پہنچی تو ان کے چکر میں ضرور پھنسی۔ صرف اتنی سی بات پر ڈھائی سو نسخے تو خواتین ڈائجسٹ والی قارئین نے ہی خرید لینے ہیں”۔

“توبہ ہے، تم تو خود رانا صاحب کی ہی طلاق کروا دوگے”

“ٹینشن نہیں لینی، بھابھی اس بار بھی گوری ہی ہے۔ ان کی اماں جان بھی اردو نہ سمجھ سکے”۔

“ویسے یہ انعام کو بیٹھے بٹھائے مصنف بننے کا خیال کہاں سے آگیا ؟ لگتا ہے لندن والے وکیل بھی ویہلے ہی ہوتے ہیں”

“اب آپ ہم سے وہ جملہ لکھوانے لگے ہیں جسے پڑھ کر ہمارا قاری یقین کر بیٹھے گا کہ ہم وکیل بابو سے جلتے ہیں”۔

“تو لکھ ڈالو، نیکی میں دیر کیسی ؟ بقول تمہارے کتاب جلد بک جائے گی”۔

“تو ایسا ہے کہ ہمارا لکھنے کا تجربہ تو تیس پینتیس سال کا ہے۔ مگر پڑھنے کا تجربہ لگ بھگ 47 برس کا ہے۔ ہم کتاب کی قیمت دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ مصنف کیا کرنے لگا ہے”۔

“مثلا ً؟”

Advertisements
julia rana solicitors london

“اگر کتاب کی قیمت پانچ سو کے آس پاس ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ مصنف سیریس ہے۔ اس کی کتاب کے مزید ایڈیشنز بھی آنے ہیں اور شاید وہ مزید کتب بھی لکھے۔ لیکن اگر کتاب کی قیمت ایک ہزار سے اوپر ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے مصنف جلدی سے پبلشنگ کا خرچہ نکال کر یہ چیپٹر کلوز کرنے کے چکر میں ہے۔ اسے بس پروفائل میں خود کو مصنف لکھوانے کی جلدی ہے۔ وکیل بابو تو کچھ زیادہ ہی جلدی میں لگ رہے ہیں۔ سنا ہے ان کی کتاب 1300 سے بھی اوپر کی ہے۔ سو نسخوں میں خرچہ نکل آئے گا۔ باقی چار سو نسخے اپنے آفس میں دھر کر گوری کلائنٹس میں یہ کہہ کر بانٹتے رہیں گے کہ کیا تم جانتی ہو میں مصنف بھی ہوں ؟ اور گوری کی آنکھیں یہ سوچ کر پھیل جانی ہیں کہ اگر یہ بندہ کتابیں لکھتا ہے تو میرا طلاق کا کیس کب سٹڈی کرے گا ؟ لگتا ہے ساری زندگی جارج کمینے کے ساتھ ہی گزارنی پڑے گی”۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

رعایت اللہ فاروقی
محترم رعایت اللہ فاروقی معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹین بلاگرز میں سے ہیں۔ تحریر کے زریعے نوجوان نسل کی اصلاح کا جذبہ آپکی تحاریر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply