زمیں زاد/شکیل عادل زادہ

یوں ڈاکٹر شاہد صدیقی کو دیکھیے تو وہ ایک سادہ وضع، خوش اطوار و خوش گفتار شخص، ایک معلّم اور ادیب۔ ان کی تحریریں پڑھیے تو کیا ہمہ جہت، ہمہ صفت، رنگا رنگ شخصیت۔ ادب و شعر، موسیقی، تاریخ، تعلیم، فلم، سیاحت، طرح طرح کے ناقابلِ فراموش مناظر، واقعات اور کرداروں سے ان کا نہاں خانہ آباد ہے۔ گورڈن کالج پنڈی سے انگریزی میں ماسٹرز کیا تھا اور پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ سول سروس کی شہنشاہی کے لیے راستے کھلے ہوئے تھے لیکن اپنے ایک مشفق و مہرباں استاد کی تقلید میں درس و تعلیم کے شعبے کو ترجیح دی۔ سنا ہے، شاہ جہاں کو معزول کر کے اس کے بادشاہ بیٹے اورنگ زیب نے آگرے کے قلعے میں قید کیا تو اسیری کے دوران باپ سے کسی شغل کی بابت پوچھنے کی دریا دلی کی۔ شاہ جہاں نے بچوں کو پڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ سن کر اورنگ زیب نے طنز و استہزا سے کہا۔ کیا خوب، حکم رانی کی خُو بُو ابھی باقی ہے۔

معلّمی کے اعلیٰ  مناصب و مرتبے سے شاید ہی کسی کو کلام ہو۔ تدریس کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نے مختلف موضوعات پر قلم کاری شروع کی۔ پہلے انگریزی میں، پھر بیش تر اُردو میں۔ اخبار ’’دُنیا‘‘ میں وہ عرصے سے کالم لکھ رہے ہیں۔ سیاسی مسائل و معاملات سے گریز کیا ہے کہ بہت سے ہم عصر ادیب و صحافی حضرات خامہ فرسائی فرما رہے ہیں، اور کتنی ہی روپوشی کی کوشش ہو، عشق اور مشک کے مانند میلان و رجحانِ طبع کہیں نہ کہیں جھلک آتا ہے۔ قلم کی بھی تو اپنی خود رُوئی ہوتی ہے۔

کسی تحریر کی دل پذیری کے لیے مختلف رموز و نکات افشا کیے جاتے ہیں۔ خلاصہ کیجیے تو بس اس قدر کہ موضوع اور اظہار کی توانائی یا کسی ایک کی ناتوانی سے تحریر کی اثر خیزی مشروط ہے۔ مصنّف اپنے موضوع پر کماحقہ درک نہیں رکھتا یا ایسا سنجیدہ و شامل نہیں تو تحریر کتنے ہی وزن دار، بلند و بالا لفظوں سے مزیّن و مرصّع ہو، اثر و تاثیر کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ کچھ یہی نکتہ موضوع پر بھی صادق آتا ہے۔ موضوع کتنا ہی اہم، گمبھیر، انکشافی نوعیت کا ہو، بیان کی سستی، کجی یا کوتاہی سے متاثر ہو سکتا ہے۔

اپنے ڈاکٹر شاہد صدیقی خوش نما تحریروں کے خالق ہیں۔ بے شک کچھ تو یہ خوبی خداداد بھی ہوتی ہے لیکن بہت کچھ گہرے مشاہدے، عمیق مطالعے، حافظے، زباں دانی، برمحل برجستہ لفظوں کی فراوانی اور جُست جُو پر منحصر ہے۔ اپنے موضوع پر تمام تر تفتیش و تحقیق کے بعد ڈاکٹر صاحب قلم اُٹھاتے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ حق ادا کر دیتے ہیں۔ سادگی، روانی اور دل کشی ان کی تحریروں کا خاصّہ ہے۔ کیسا ہی علمی، تحقیقی اور تاریخی موضوع و مضموں ہو، بیان کہیں گنجلک، بوجھل نہیں ہوتا۔ اپنی جانب متوجّہ رکھنے کے لیے وہ قاری کا ہاتھ نہیں پکڑتے، قاری اُن کی تحریر کی ابتدا کرے تو ذوق و شوق سے آخر تک ساتھ چلتا رہتا ہے اور اُسے خلش ہوتی ہے کہ اختتام اتنی جلد کیوں سرزد ہو گیا۔ شاہد صدیقی کے ہاں متن، موضوع اور اُسلوب کی خوبیاں بہ درجۂ اتم، بہ درجۂ کمال ہیں، قابلِ رشک حد تک خراماں خراماں سا لہجہ، سادہ پُرکار، سنجیدہ بھی اتنا، شگفتہ بھی اس قدر، رمز و معانی سے لبریز۔ اس کا اثر و تاثر ہی کچھ سوا اور جدا ہے۔ کہنے کو یہ اخباری کالم ہیں مگر قلم پارے اور انشائیے پھر کیا ہوتے ہیں؟

ڈاکٹر صاحب کے کالموں کے دو مجموعے پہلے شائع ہو چکے ہیں۔ یہ تیسرا، زیرِ نظر مجموعہ بالکلیّہ کوہ ساروں، مرغ زاروں کی سرزمین پوٹھوہار سے متعلق ہے۔ یہیں انھوں نے آنکھ کھولی، ہوش سنبھالا، جوان ہوئے اور تعلیم حاصل کی۔ بہت کم پوٹھوہاری اپنے اس مردم خیز علاقے سے اتنے واقف ہوں گے جتنے ڈاکٹر شاہد صدیقی۔ یہ کتاب پوٹھوہار سے ان کی عشقیہ وابستگی کا ثمر اور ثبوت ہے۔ اس مجموعے کے آئینے میں خطّہ دل رُبا پوٹھوہار کا نظارہ کیجیے۔ کیا کچھ یہاں نہیں ہے، کیسی کیسی داستانیں، مقامات اور نادرِ روزگار ہستیاں۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ پنڈی کے کوچہ و بازار، قدیم بستیوں، حویلیوں، درس گاہوں سے ہوتے ہوئے ٹیکسلا کی بدھ یونیوسٹی، کٹاس راج مندر، سلطان سارنگ کے قلعہ روات، اٹک کے اکبری قلعے اور گلابی نمک کے خزینے کا سفر کیجیے اور ایک سے ایک نام ور کا احوال جانیے۔ شاہ مراد، بابا فضل کلیامی، سنگھوری کے شہید کیپٹن سرور، باقی صدیقی، فتح محمد ملک، رشید امجد، شاہد حمید، بل راج ساہنی، گلزار، مدن موہن، سنیل دت، مینا کماری، شیلندر، آنند بخشی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

کوئی شبہ نہیں، پوٹھوہار پر تحریروں کا یہ مجموعہ کئی اعتبار سے منفرد حیثیت اور دستاویزی اہمیت کا حامل ہے۔ پوٹھوہار پر ایسی کوئی مبسوط اور دل آویز کتاب نظروں سے نہیں گزری۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اِسے حقیقت آمیز، فکر انگیز تحریروں کے صورت گر، سخن طراز و سخن پرداز ڈاکٹر شاہد صدیقی نے قلم بند کیا ہے۔
کتاب خریدنے کے لیے
آرڈر آن لائن: https://www.bookcorner.com.pk/book/pothohar
آرڈر وٹس ایپ: wa.me/+923144440882

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply