مکتوباتِ احمد ندیم قاسمی(تجزیہ اور فن)۔۔یوحنا جان

ادب کی تاریخ میں خط کو براہ راست ملاقات کا درجہ حاصل ہے اور اس اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا- اردو خطوط نویسی میں رجب علی سرور اور مرزا غالب ادبی اور لسانی لحاظ سے نیک ثابت ہوئے ہیں- زمانہ اپنی بدلتی رنگت اور خوشبو کے ساتھ ساتھ مستقبل کو زمانہ حال اور حال کو ماضی کی یادوں میں لے جاتا ہے- جو دیدہ زیب اور خوشنما رنگ دلفریب تاثرات اور عمدہ تحریر کو حرف بہ حرف صفحہء قرطاس پر نمودار کرتا ہے-

خطوط نویسی کا تعلق جہاں تک ادب میں ہے وہ صرف لفظوں اور سطروں تک نہیں بلکہ وہ داخلی رنگ لے کر خیالات و جذبات, تصورات اور محبت سے لبریز ملاقات ہے،جو چاہنے والوں کو سامنے لا کھڑا کرتے اور ان کی محبت سے سیراب کرتے ہیں ۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اردو ادب کی دنیا (خطوط نویسی )میں غالب کے بعد نمایاں اور ادبی مقام احمد ندیم قاسمی صاحب کی تحریر کا ہے، جو خطوط کی دنیا میں اپنے مزاج اور سلیقے سے دوسروں کو مستفید کرواتے ہیں۔ قاسمی صاحب کا اسلوب موضوعاتی رنگ, زبان و بیان اور ادبی ملاقات کا مجسم شدہ عکس ڈاکٹر شاہد اشرف کی محنت اور جدوجہد کے ذریعے کتابی صورت میں منظر عام پر آتا ہے، ان کی یہ کاوش نا صرف ایک مصنف کی ادبی کوششوں کو سامنے لا تی ہے بلکہ ادب کی دنیا میں ایک انقلابی روح بھی پیدا کرتی ہے جو آنے والے وقت اور لوگوں کے لیے   مشعلِ راہ بھی ہے –

قاسمی صاحب نے تو اپنی زندگی میں خطوط نویسی کے فن کو سر گرم کرنے کی کوشش کی مگر اس کو مزید رنگ دے کر میرے اور آپ کے سامنے ایک قیمتی سرمایہ ثابت کروانے  میں محترم استاد ڈاکٹر شاہد اشرف کا ہاتھ ہے- مصنف کے خطوط کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو ہمیں بے پناہ فنی اور اسلوبی عناصر ملتے ہیں جو ہمارے اردگرد ماحول میں ہونے والے تغیرات کو براہ راست بیان کرتے ہیں ۔وہ برداشت, حوصلہ, تعلق اور اپنائیت کا احساس اپنے خطوط میں نمایاں رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے خطوط پڑھتے وقت ایسے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف ہاتھ سے قلم نہیں چلا رہا بلکہ آمنے سامنے بیٹھ کر کرسی پر موجود باتیں کر رہا ہے اور نصیحت آمیز باتیں ہیں ۔ان کا ایک خط محترم ثاقب کے نام جو انہوں نے 19 جون 1971 کو لکھا اس میں فرماتے ہیں:

” کرم نامہ ملا، بے حد ممنون ہوں آپ جس توجہ اور اپنائیت اور محبت سے فنون کا مطالعہ کرتے ہیں وہ میرے لئے بے انتہا حوصلہ افزاء  ہے۔یوں میری حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور میں مالی لحاظ سے اس سراسر گھاٹے کے سودے کو اپنی بے مائیگی کے باوصف برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کر لیتا ہوں-“

ان چند سطروں  میں مصنف مسلسل اپنائیت , فن کا مطالعہ, حوصلہ افزائی اور برداشت کی تلقین جیسی عمدہ صفات سے لبریز اپنی تحریر میں جادوئی رنگ بکھیرتے نظر آتے ہیں، جو ان کے اسلوبیاتی فن کا عمدہ نمونہ ہے اسی اپنے پن کا ثبوت خط کے شروع, درمیان اور آخر میں بھی کسی نہ کسی رنگ میں نظر آتا ہے- جو ان کے قلم اور خیالات کی عقیدت ہے ۔18 ستمبر 1944 کو عبادت بھائی کے نام خط میں اسی عمدہ خیال اور عقیدت کا دامن تھامے،اُنہیں دیکھیں،لکھتے ہیں:

” لیکن بھائی آزاد نظم میں طوالت سے دامن بچائیے ادبی دنیا میں آپ کی” سر راہے” پڑھی ہے خدارا تنقید کے جوش میں شاعری کو فراموش نہ کیجئے ،ادب لطیف میں آپ کی نظمیں انشاءاللہ  چھپتی رہیں گی-“

ان الفاظ کی روشنی میں دیکھیں تو ان کا انداز بیان, فکری مواد اور نصیحت آمیزی کا غلبہ ہے- جو اصلاح مندی اور دردمندی کا درجہ رکھتی ہیں یہ وہ بنیادی وجہ ہے جو احمد ندیم قاسمی کے اس محبت نامے پر غالب ہے۔ان محبت ناموں کے عوض وہ اپنا پن بیان کرتے ہیں ، اسی اپنے پن کا اثرورسوخ ان کی اپنی زبان سے ملاحظہ فرمائیے ، 26 ستمبر 1979ءکو خط بنام غلام محمد قاصر میں وہ لکھتے ہیں:

” آپ کا خط پڑھ کر غیرمعمولی مسرت ہوئی، دراصل یہ احساس ہونے لگا تھا کہ کم سے کم میری حد تک آپ کہیں کھو گئے ہیں، شکر ہے کہ آپ کو پھر سے پا لیا اور خود آپ اس میں ممدو  ثابت ہوئے -“

مصنّف کا قلم وہ حقیقی روپ , رشتہ اور تعلق واضح کرتا ہے،جس کی حقیقی معنوں میں ضرورت ہے اور پوری سادگی اور خوف خدا کی موجودگی میں اپنی زندگی کو قابل مقصد سمجھتے ہیں، یہ وہ مقصد ہے جو اوّل اور آخر میں اپنائیت کا احساس عمدہ کلام کی مٹھاس اور شفقت کی عکاسی پر مبنی ہے۔ وہ ہمیشہ عاجزی اور معافی کے الفاظ بروئے کار لاکر بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں جو ان کی داخلی اور خارجی کیفیت کی عکاسی کا منہ بولتا ثبوت ہے- ان کے ہاں “معاف کر دیجیے” کا ذکر کثیر مقدار میں ملتا ہے جو ان کی تحریر کو  بڑے پن کا درجہ دلواتی ہے۔ وہ فتح محمد ملک کے نام خط میں، جو انہوں نے 8 مئی 1945 کو لکھا براہ راست ان الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں:

” شاید تین مہینوں سے میں آپ کو ایک پوسٹ کارڈ تک نہ لکھ سکا مجھے معاف کر دیجیے اور فوری طور پر معاف کر دیجیے-“

یہ وہ انداز بیاں انسانی نفسیات کے مطابق اور اس کی موقع محل ادائیگی ہے جو مصنف کے قلم کی بے پناہ صلاحیت کا عمدہ ثبوت ہے-

22 مارچ 1999 کو ڈاکٹر شاہد اشرف کے نام خط لکھتے ہوئے کمال فن اور جوہر کی تعریف کرتے ہیں جو نفسیاتی ہم آہنگی اور حوصلہ افزائی پر مبنی ہے :

” اتنی طویل غیر حاضری  کے لئے معذرت خواہ ہوں دراصل میں گزشتہ سال کے آخری مہینوں میں امریکہ اور کینیڈا میں گھومتا رہا ،واپسی پر بیمار ہوگیا اور نئے سال کے ابتدائی ڈھائی مہینے اسی حالت میں کاٹے، اب کچھ افاقہ محسوس کیا ہے تو اتنی ڈھیر سی ڈاک کا جواب لکھنے بیٹھا ہوں-“

یہ وہ بنیادی فرائض اور مکتوب کی نفسیات کا عکس عمدہ الفاظ میں ملتا ہے- وہ فرض شناس لکھتے اور لکھنے والوں کی ذہنی اور فکری حوصلہ افزائی اور بغیر کسی وقفے کے جواب دینا پسند کرتے ہیں- دوسرا فن کی تعریف ,فنی اور فکری جائزہ اور تنقیدی الفاظ اخلاقیات کے دائرہ میں ادا کرنا ان کا کمال ہے اسی خط کی مزید سطریں ملاحظہ فرمائیے:

” آپ کا کلام اس سے پہلے نظر سے نہیں گزرا تھا اب پڑا تو محسوس ہوا کہ آپ نظم و غزل دونوں پر خاصی حد تک حاوی ہیں،اوّل تو یہ بتائیے کہ آپ کب سے لکھ رہے ہیں پھر کیا آپ کا مجموعہ کلام چھپ گیا ہے-“

Advertisements
julia rana solicitors london

گفتگو کی چاشنی, الفاظ کا اخلاقی معیار ,اسلوب کا برقرار رہنا اور کلام فن کا امتزاج اور روانی سے جاری رکھنا ان کے عمدہ اسلوب کی خوبی ہے- جو مصنف کے قلم اور ذہنی افکار کی عکاسی ہے- مختصر اور جامع یہ کہوں کے مصنف نے تو اپنا فرض بخوبی اور عمدہ الفاظ اور تخیل سے نبھایا ہے مگر ڈاکٹر شاہد اشرف صاحب نے ان کو تحقیق اور تدوین کے مراحل سے گزار کر مزید اپنے فن کو پختہ کر کے دوسروں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ آنے والی نسل اسلوبیاتی رنگ ,جذبات نگاری, لکھاری کا مزاج, انسانی نفسیات اور ہمت و حوصلہ کی تہہ سے آشنا ہو سکے- ان خطوط میں فکری اور فنی, ادبی اور اظہار خیال کا صوفیانہ انداز نمایاں ہے جو صفحہ قرطاس پر ڈاکٹر شاہد اشرف نے جلوہ خیزی کے سلسلہ کو کر کے دکھا دیا ہے۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply