شادی مرگ۔۔۔۔۔۔ترجمہ:راشد احمد

“The Story of an Hour”

Kate Chopin (1894)

اس امر سے واقفیت کے باوجود کہ مسز میلارڈ  دل کے  عارضہ میں مبتلا ہیں،ا ن کے شوہر کی وفات کی خبر انہیں بمشکل تمام پہنچائی گئی۔’’مسز میلارڈ‘‘ کی بہن جوزیفین نے یہ خبر انہیں ٹوٹے پھوٹے الفاظ اور بے ربط جملوں میں سنائی۔ان کے ساتھ مسز میلارڈ کے مرحوم شوہر کادوست رچرڈ بھی موجود تھا جس نے میلارڈ کے ریل حادثے میں وفات کی خبر سنی تھی اور آنے سےقبل اس  کی بار دگر تصدیق بھی کرلی تھی۔دوست کی افسوسناک وفات کی خبر پہنچانے سے قبل انہوں نے احتیاط کے تمام پہلو مدنظر رکھنے کی سعی کی تھی۔

مسز میلارڈ نے اس سانحہ پر روایتی عورتوں کی طرح کوئی رد عمل نہیں دیا۔پھر وہ اچانک دلدوز آواز کے ساتھ اپنی بہن کی  بانہوں میں گر پڑیں۔جب دل کا بوجھ آنسوؤں کی صورت ہلکا ہوگیا تو وہ بالائی منزل پہ واقع اپنے کمرے میں چلی گئیں اور بہن کو آنے سے منع کردیا۔کمرے میں جاتے ہی پائیں باغ کے سامنے کھلنے والی کھڑکی کے پاس آرام کرسی میں دھنس گئیں اور ایسی آہ کھینچی جو روح تک اترنے والی تھی۔

کھڑکی سے مسز میلارڈ کو ہوا کے دوش پہ تیرتے روئی کے گالوں جیسے بادل نظر آئے، درختوں کی چوٹیاں جن سے بہار کے رنگ سبز پتوں کی صورت پھوٹ رہے تھے۔نیچے گلی میں پھیری والا آوازیں لگارہا تھا، بادلوں کی اوٹ سے جھانکتا گہرا نیلا آسمان، دور سے آتی کسی گانے کی مدھر لے، گلی سے اٹھتی زندگی سے بھرپور آوازیں، ہوا میں ملی بارش کی مہک اور موسیقی سے بھری چڑیوں کی چہچہاہٹ مسز میلارڈ کے کانوں میں رس گھول رہی تھیں۔

مسز میلارڈ آرام کرسی میں سر پیچھے کیے  دھنسی ہوئی تھیں۔اس وقت وہ کسی بھی کیفیت سے مبرا تھیں سوائے اس کے کہ اچانک غم کی ایک لہر اٹھتی اور انہیں مضمحل کردیتی،جیسے بچہ روتا روتا  سو جائے تو خواب میں روتا رہتا ہے،یہی کیفیت مسز میلارڈ کی تھی۔وہ صاف خدوخال والی ایک جوان  خاتون  تھیں جن کے چہرے سے غم کی کیفیات کم کم ہی ظاہر ہوتی تھیں،مگر اب ان کی آنکھیں آسمان پہ تیرتے بادلوں سے بھی آگے کہیں ٹھہر گئی تھیں۔یہ کیفیت ایک گہری  سوچ کو ظاہر کرنے والی تھی۔ مسز میلارڈ ایک خاص کیفیت میں تھیں،مگر یہ کیفیت اتنی لطیف تھی کہ وہ اسے محسوس کرنے اور کوئی نام دینے سے عاری تھیں،لیکن یہ سوچ بہت پرسکون اور لطف آگیں تھی۔وہ اسے اپنے اندر اترتا محسوس کررہی تھیں۔

یہ کیفیت آہستہ آہستہ واضح ہورہی تھی۔وہ شوہر کی وفات کے بعد کی صورتحال سے سنبھلنا چاہ رہی تھیں۔الفاظ سرگوشی کے رنگ میں ان کے لبوں سے پھسل رہے تھے اور آخرکار وہ انہیں ادا کرنے پہ قادر ہوگئیں۔’’آزادی ،آزادی‘‘، کے الفاظ ان کی زبان پہ جاری تھے ۔ وحشت اور خوف ان کی آنکھوں سے جا چکا تھا۔ان کی دھڑکن تیز ہوگئی اور دوران خون کی تیزی نے پورے جسم کو پرسکون کردیا۔وہ فیصلہ نہیں کرپارہی تھیں کہ یہ کیفیت سرخوشی کی تھی یا نہیں،لیکن وہ جانتی تھیں کہ جنازے کے موقع پہ وہ پھوٹ پھوٹ کے روئے گی،لیکن اس جنازے سے پرے آنے والے  برسوں میں وہ خود کو آزاد محسوس کررہی تھیں اور انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے  وہ بے تاب تھیں۔

وہ سوچ رہی تھیں کہ ان آنے والے برسوں میں اسے کسی کے لیے  جینا نہیں پڑے گا بلکہ وہ اپنے لیے  جیے  گی،اسے اپنے شوہر کے  اصرار پہ اس کی مرضی نہیں ماننی  پڑے گی۔اسے ایسی کسی مجبوری کا سامنا نہیں ہوگا جو انسان دوسرے انسانوں پہ مسلط کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔یہ خیال کسی طرح بھی اسے گناہ آلود معلوم نہیں ہورہا تھا۔اس نے شوہر سے کبھی کبھار محبت بھی کی تھی،لیکن اس وقت جو کیفیت اس پہ طاری تھی اس میں ’’آزاد جسم اور آزاد روح‘‘ ہی بڑبڑائے جارہی تھی۔مسز میلارڈ کی بہن دروزاے سے لگی کھڑی تھیں اور اند رآنے کی اجازت طلب کررہی تھیں۔’’خدا کا واسطہ ہے دروازہ کھولو،تم اپنے آپ کو اس طرح بیمار کرلوگی‘‘۔’’چلی جاؤ یہاں سے،میں خود کو باالکل بھی بیمار نہیں کررہی۔‘‘ وہ آنے والے دنوں کا سوچ رہی تھیں۔بہار اور موسم گرما کے دن۔ہر طرح کے دن،وہ دن جو اس کے اپنے ہوں گے۔اچانک ہی اس نے دعا کی کہ خدایا زندگی لمبی ہو۔یہ سوچ کر وہ باہر آئی جہاں اس کی بہن دروازے سے لگی کھڑی کانپ رہی تھی۔مسز میلارڈ نے ایک شہزادی کے  سے   انداز سے بہن کا ہاتھ کلائی سے تھاما اور دونوں سیڑھیاں اتر گئیں۔

اچانک باہر سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور میلارڈ اپنے سفری سامان اور چھتری کے ساتھ اندر داخل ہورہا تھا۔وہ ریل کے حادثہ کی جگہ سے بہت دور تھا ،حتی کہ وہ حادثہ سے ہی بے خبر تھا۔وہ جوزیفین کی دلدوز چیخ پہ حیران رہ گیا ۔اس کا دوست رچرڈ اسے بیوی کی لاش سے اوٹ میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔مسز میلارڈ کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ یہ موت خوشی کی وجہ سے ہوئی ہے۔شوہر کواچانک زندہ دیکھنے کی خوشی!

Avatar
راشداحمد
صحرا نشیں فقیر۔ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *