کتاب تبصرہ    ( صفحہ نمبر 17 )

“عالمی اردو ادب” کے خصوصی شمارہ ‘ستیہ پال آنند نمبر’ کا اجرا

‘عالمی اردو ادب’ حوالہ جاتی مجلہ ہی نہیں بلکہ ایک دستاویز ہے : پروفیسر عتیق الله عالمی اردو ادب کے خصوصی شمارہ ‘ستیہ پال آنند نمبر’ کا اجرا نئی دہلی۔جامعہ نگر. بٹلہ ہاؤس واقع ڈائنامک انگلش انسٹی ٹیوٹ میں مظہر←  مزید پڑھیے

بیانیے کی مومی ناک/محمد ہارون الرشیدایڈووکیٹ

ہمارے ہاں بیانیے کی ناک بھی قانون کی تشریح کی کی ناک طرح ہے، جب جدھر چاہا موڑ لی۔ “ووٹ کو عزت دو” کا بیانیہ اچانک “بوٹ کو عزت دو” کے بیانیے میں بدل جاتا ہے اور “آرمی چیف قوم←  مزید پڑھیے

کرشن چندر نا کشمیر/کبیر خان

’’ اب یہ نہ کہنا کہ تم تہجّد کے لئے اُٹھے تھے ۔ اس واسطے کہ دارالافتاٗ کے مطابق صبح صادق کے بعد سے اشراق تک ، عصر کے بعد غروب آفتاب تک اور نصف النہار کے دوران کوئی بھی←  مزید پڑھیے

مصطفیٰ کمال اتاترک/ساجد شاد

مقدونیہ کے شہر سیلونیکا میں علی رضا اور زبیدہ کے ہاں 1881 میں پیدا ہونے والے مصطفیٰ نے ترک قوم کو بیرونی عالمی طاقتوں کے تسلط سے ملک آزاد کروا کے دیا، خلافت کے نام پر بادشاہت جو برائے نام←  مزید پڑھیے

تبصرہ کتب : دیپ جلتے رہے ۔۔۔ عفت نوَید۔۔۔۔ تبصرہ نگار: صادقہ نصیر

“دیپ جلتے رہے”کراچی میں مقیم محترمہ عفت نوید صاحبہ کی خود نوشت سوانح عمری یا  سرگزشت ہے ۔ عفت سے مری دوستی کی وجہ میری ایک تحریر تھی جو ایک میگزین میں شائع ہوئی اور انہوں نے اس پر مجھے←  مزید پڑھیے

شعری مجموعہ “مجھے اب بولنا ہوگا”/ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

شاعری ایک فطری صلاحیت اور لگاؤ کا نام ہے جس میں شاعر اپنے احساسات و جذبات کو صفحہ قرطاس پر بکھیرتا ہے۔اسے فطرت کی طرف سے شعور وآگاہی ملتی ہے۔ قدرت اسے کچھ سوچنے ، کہنے ، اکسانے اور لکھنے←  مزید پڑھیے

رضا میر کا انگریزی ناول ” مشاعرہ میں قتل”/احمد سہیل

مرزا اسد اللہ خان غالب ( آمد۔1797 ۔ رخصت 1869) اردو کے ادب کی تاریخ میں ایک بلند پایہ شاعر ہیں۔ جن کے اشعار لوگوں کو سب سے زیادہ یاد ہیں۔ ان کے زندگی کے واقعات رنج، اداسی اور انبساط←  مزید پڑھیے

اسیرِ ذات/دلشاد نسیم/تبصرہ-ثمینہ سیّد

افسانہ ازل سے کہانی کے دامن سے کچھ اچھوتے پل لیتا ہے اور تجسس بھرےاختتام سے چونکا دینے کا ہنر ہی اسے منفرد بناتا ہے۔ ورنہ کہانی تو داستان میں بھی ہے،ناول کی جان ہے،شاعری کی بنیاد ہے،سوانح عمری کہانی←  مزید پڑھیے

سفرنامہ” پتھر ریت اور پانی” کاپُرمغز تجزیہ/ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

زندگی ایک سفر ہے،پانی اور سائے کی طرح ہے ،آبی بخارات کی طرح ہے،پھول کی طرح ہے،انسان جو عورت سے پیدا ہوتا ہے تھوڑے دنوں کا ہے۔دکھ سے بھرا ہے۔وہ پھول کی طرح نکلتا اور کملا جاتا ہے۔زندگی کے مختصر←  مزید پڑھیے

ایک جنگجو کا قلم/رؤف کلاسرا

سوشل میڈیا کی نئی دنیا میں جن چند لکھاریوں نے اپنا نام بنایا یا کہہ  لیں خود کو برانڈ بنایا ان میں انعام رانا کا نام شامل ہے۔ رانا کی تحریریں پڑھتے ہوئے مجھے احساس ہوا اس سیلف میڈ انسان←  مزید پڑھیے

شعری مجموعہ “چراغوں میں لہو” کا طائرانہ جائزہ/ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

علم روشنی ہے جو تاریکی میں چمکتا ہے اور تاریکی کو ختم کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔جبکہ ادب زندگی کا عکاس ہے۔دونوں کی اپنی اپنی جگہ فضیلت و مقام ہے۔دونوں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی قربت رکھتے ہیں۔ لکھنا پڑھنا←  مزید پڑھیے

حیرت سرائے پاکستان/رفیعہ کاشف

حیرت سرائے پاکستان، ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری کی دوسری کتاب ہے۔ ڈاکٹر صاحب پیشے سےایک ”ریڈیالوجسٹ“ ہیں لیکن گزشتہ کئی برسوں سے مختلف اخبارات، رسائل اور جرائد سمیت سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھتے آرہے ہیں۔ ان←  مزید پڑھیے

تبصرہ کتاب: ہجرت کے تماشے… مصنف: جاوید دانش…. تبصرہ نگار : صادقہ نصیر

ایک مصنف ہر صورت ان تجربات زندگی اور ان سے پیدا ہونے والے تمام احساسات کی بھٹی میں آتش نمرود کی طرح رضاکارانہ طور پر چھلانگ لگاتا ہے اور اپنے دور کےا براہیم  علیہ السلام میں پیروکاروں میں سے ایک ہوتا ہے۔ اس تپتی بھٹی میں وہ درون بینی مشاہدے سے بھی گزرتا ہے اور دوسرے انسانوں کے جوتے بھی کر پہن کر دیکھتا ہے اور پھر عمومی قضیے نمٹاتا ہے۔ کہنا ضروری ہے کہ اس کو یہ قضیۓ نمٹانے کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے جب دوسروں کے جوتوں میں اس کے پاؤں زخمی ہوتے ہیں تو بلبلا کر اسے پہلے اپنا درد محسوس ہوتا ہے تو یوں وہ دوسروں کے غم اور خوشی سے آشنا ہوتا ہے ۔یہیں سے اس کے تخلیقی قطرہ ہاۓ انفعال شان کریمی کا نزول بنتے ہیں اور ایک کتاب وجود میں آتی ہے تب یہ ہوتا ہے کہ مصنف کسب حلال کو اس کی اشاعت پر لگاتا ہے تو اس بات کا مستحق بن جاتا ہے کہ وہ اپنی تخلیق کے ساتھ منظر عام پر آۓ اور قلم کے ساتھ جہاد کرنے والے کو غازی مان کر اس کے کام کو سراہا جاۓ۔ اور یہی کتاب کا حق ہے.←  مزید پڑھیے

مقدمہ سرائیکستان/ذوالفقار علی زلفی

سرائیکی قوم پرست عبید خواجہ صاحب نے ازراہِ محبت اپنی ترجمہ کردہ کتاب “مقدمہ سرائیکستان” بھیجی ـ یہ معروف سرائیکی دانش ور ریاض ہاشمی کی کتاب “Brief for Bahawalpur province” کا اردو ترجمہ ہے ـ۔ ریاض ہاشمی نے بہاولپور اور←  مزید پڑھیے

میرا داغستان(ناول)حمزہ رسول توف/تبصرہ-گلزار ملک/2،آخری قسط

تخلیقی ادب میں الفاظ، متن اور علامتیں ان محسوسات کی نمائندہ ہوتی ہیں جو تخلیق کار کے اندر کہیں جنم لے کر اس تخلیق کے ظہور کا سبب بنتی ہیں اور ایک لمبی ریاضت کا جواز بھی لیکن بعض اوقات←  مزید پڑھیے

میرا داغستان(ناول)حمزہ رسول توف/تبصرہ-گلزار ملک/قسط1

فوک دانش کے نقوش ہائے دوام رسو ل حمزہ توف کی کتاب”میرا داغستان“ ”آنکھ کھلتے ہی بستر سے اس طرح اٹھ کر نہ بھاگو جیسے کسی چیز نے تمہیں ڈنک مار دیا ہو سب سے پہلے اس خواب کے بارے←  مزید پڑھیے

انعام راناکی شخصیت اور اس کا فن/تبصرہ-سلمیٰ اعوان

انعام رانا سے پہلا تعارف ان کی’’مکالمہ‘‘سوشل میڈیا کی ایک پاپولر ویب سائٹ سے ہوا۔ مضمون بھیجا۔فوراً چھاپا ہی نہیں گیا،بلکہ چند خوبصورت سطور بھی تعارفی طور پر شامل کی گئیں۔ مکالمہ سے تعلق کا آغاز ہوا تو کبھی کبھی←  مزید پڑھیے

تبصرہ کتاب: اِک راستہ ہے زندگی.. صادقہ نصیر

  کسی کتاب پر تبصرہ لکھنا اتنا آسان نہیں۔ تبصرہ یا ریویو لکھنے کے لئے بہت اچھا قاری ہونا اور کتاب کے حرفوں اور لفظوں سے مخلصانہ محبت جو مصنف کی دوستی کو بالاۓ طاق رکھ کر کی جاۓ۔ اس←  مزید پڑھیے

کلونیلزم/مبصّر-اشرف لون

پوسٹ کلونیلزم (مابعد استعماریت یا مابعد نوآبادیت) کا تصور ہمارے ذہنوں میں آتے ہی کلونیلزم (استعماریت یا نوآبادیت) کا تصور بھی ساتھ میں آتا ہے۔کیوں کہ مابعد استعماریت، استعماریت کے بعد والا ہی ڈسکورس اور زمانہ ہے۔اس لیے مابعد استعماریت←  مزید پڑھیے

آخری شرلہ۔۔محسن علی خان

2007ء میں دوستوں کے ساتھ مری سیر و تفریح، آب و ہوا کی تبدیلی کے لیے گیا۔ مال روڈ، کشمیر و پنڈی پوائنٹ، نتھیا گلی، اپرٹوپہ،لوئر ٹوپہ، بھوربن، پتریاٹہ، ایوبیہ کی جی بھر کے سیر کی۔ بائیں کندھے پر جعلی←  مزید پڑھیے