کائنات کی وسعتوں میں ایک وسیع عمل تخلیق ہے جس کی سعادت اور مقصدیت ادب کے ان فرزندوں کو حاصل ہوتی ہے جو رنگِ کائنات کو رشک و تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پھر الفاظ کی مدد سے← مزید پڑھیے
سفر نامہ : حیرت بھری آنکھ میں چین لکھاری : سلمی اعوان ناشر : بک کارنر جہلم کچھ ملاقاتیں مقدر میں لکھ دی جاتی ہیں اور ان اتفاقی ملاقاتوں کی یادیں دلچسپی سے بھرپور ہوا کرتی ہیں۔ کھارے پانیوں کے← مزید پڑھیے
“یہ پالا ہے “عارف خٹک کے دوسرے ناول کا نام ہے ۔اُن کا پہلا ناول چند سال پہلے “چھٹکی” کے نام سے چھپا ۔وہ ایک ایسے طالب علم کی داستانِ زیست ہے جو کُرک کے ایک نہایت پسماندہ گاؤں سے← مزید پڑھیے
خداۓ سخن میرصاحب نے رات کو جوانی سے تعبیر کیا تھا۔ رات بہت تھے جاگے۔۔۔۔ رات یعنی جوانی ہنگاموں،یارانوں اور میخانوں میں بسر ہوئی۔ مگر رات نجانے کیوں پلک جھپکتے ہی گزر جاتی ہے اور نمود سحر کے ساتھ بدن← مزید پڑھیے
(ویتنام کے ایک بوڑھے پروفیسر کی کہانی جو یادداشت کھو کر اپنی بیوی کو اپنی محبوبہ سمجھنے لگا) کچھ دن قبل ویتنام کے ایک گمنام ادیبViet Thanh Nguyenکی کہانیوں کا ایک مجموعہ میری نظر سے گزرا ؛ اس میں ویتنام← مزید پڑھیے
کتاب (پرائیویٹ) لمیٹڈ کا ’’گیٹز فارما لائبریری اردو کلاسیکی ادب‘‘ سلسلہ – تعاون: Getz Pharma اردو کا ابتدائی نثری سرمایہ جن قصّوں اور داستانوں پر مشتمل ہے ان میں سے بہت کچھ لائبریروں میں بند ہے اور ہم تک نہیں← مزید پڑھیے
آسٹریلیا میں برونی وئیر Bronnie Ware نامی ایک حسین دوشیزہ ایک ہسپتال کے Palliative Care ڈیپارٹمنٹ میں نرس کی خدمات سرانجام دیتی تھیں۔اس ڈیپارٹمنٹ میں ان مریضو ں کو لایا جاتا جن کی زندگی کا امکان بہت کم ہوتا۔ان مریضوں← مزید پڑھیے
اردو نثر نگاروں میں معدودے چند قلمکار ہی ایسے ہیں جو اپنی تحریروں کے رستے میں کھڑے نہیں ہوتے۔ وہ اپنی نثر کو آزاد لکھ کر آزاد ذہنوں تک پہنچانے کے لیے اپنے لکھے ہوئے کے سامنے سے ہٹ جاتے← مزید پڑھیے
خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی دنیا یه سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں دروازے کو اوقات میں لانے کے لئے میں دیوار کے اندر سے کئی بار گیا ہوں تھامے ہوئے اک روشنی کے ہاتھ کو← مزید پڑھیے
( فاضل دوست صغیر تبسم کی پنجابی شاعری کا طائرانہ جائزہ) تخلیق عرشِ بریں کا انمول تحفہ ہے۔اس کی قدر و قیمت کا اندازہ بھی انہی لوگوں کا ہوتا ہے جو اس فن سے وابستہ ہیں۔ایک قلم کار اپنے جذبات،← مزید پڑھیے
سارے جہاں کا درد اپنے جگر میں لیے وادیوں، پہاڑوں اور فطرت کے حسین نظاروں میں گھومنے، ان کا مشاہدہ کرنے اور ان کے ماضی سے ہمکلام ہونے والے جاوید خان صاحب کا سفر نامہ “ہندو کش کے دامن میں”← مزید پڑھیے
کلاسک اردو کہانیوں کا مطالعہ جاری ہے ، کہانیاں جو تاریخ میں امر ہو گئیں، سلیبس کا حصّہ بن گئیں ، فلموں کا عنوان بن گئیں۔ آخر کیا خصوصیت تھی ان ناولز میں۔ ان کہانیوں میں کہ آج بھی ہم← مزید پڑھیے
لبرل اور پڑھا لکھا نظر آنا ہے تو پاکستان کے وجود اور قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں مخالفانہ اور متعصبانہ باتیں شروع کردو ۔ تاریخ کو ایک رُخ سے پڑھو تو اسے تعصب ہی کہتے ہیں۔ مجھے← مزید پڑھیے
اندھیرے کا ذکر ہوتے ہی ہمیں اپنی بینائی کی صلاحیت کے متعلق تشویش شروع ہو جاتی ہے کہ اب ہم ظلمت میں کیا کریں گے۔ یہ اور بات ہے کہ تیرگی میں صرف چند لمحات بعد ہماری ہر ایک حِس← مزید پڑھیے
“شکیل عادل زادہ “سب رنگ” ڈائجسٹ کے مدیر اور معروف ناول “بازی گر” کے مصنف ہیں۔ اُن کے سر پر قارئین کو اعلیٰ ادب اور عمدہ اردو زبان سے متعارف کروانے کا سہرا ہے۔دل چسپ بات تو یہ ہے کہ← مزید پڑھیے
پچھلا پورا ہفتہ ماضی کے بھید بھرے شہر میں گزرا۔ میں محترمہ حنا جمشید کے ہمراہ اس شہر کے دروازے ہری یوپیا کے راستے داخل ہوا اور کل رات ایک تختے پر بیٹھ کر سیلابی پانی کے تھپیڑوں کے رحم← مزید پڑھیے
اس نام سے لکھی ایک مختصر کتاب کو لکھنے والے نے سوانحی ناول کہا ہے۔ مجھے بہت زیادہ شک ہے کہ یہ سوانحی کتاب ہے اور ناول تو میں اسے مانوں گا ہی نہیں کہ ہئیت کے حوالے سے یہ← مزید پڑھیے
انسان اور جانور جنم جنم کے ساتھی ہونے کے باوجودکہیں ایک دوسرے کے رقیب نظر آتے ہیں تو کہیں ان دونوں کی ایک دوسرے سے دشمنی جان لیوا حد تک خطرناک ہوجاتی ہے ۔ایک طرف اشرف المخلوقات کا عقیدہ انسان← مزید پڑھیے
ڈاک سے ملنے والی خوبصورت سی کتاب کے پہلے کورے کاغذ پر ایک دست خطی جملے نے ہمیں چونکا دیا۔۔۔۔’’شاید آپ کو مظفرآباد کی تقریب میں ’کبیرخان زندہ باد‘ کا عنوان یاد ہو‘‘۔ کیا کہتے ، ہمیں تو مشتاق احمد← مزید پڑھیے
سماجی ابلاغ کی مرہونِ منت لکھنے والوں کے آپسی جان پہچان کو بہت تقویت پہنچی ہے ، پذیرائی کا عنصر بھی بڑھ گیا ہے جسکی وجہ سے لکھنے والوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، کورونا اس← مزید پڑھیے