کتاب تبصرہ

ہندو کش کے دامن میں۔۔پروفیسر محمد ایاز کیانی

ہندو کش کے دامن میں۔۔پروفیسر محمد ایاز کیانی/معروف ادیب اور متعدد سفر ناموں کے خالق مستنصر حسین تارڑ نے سفر نامے کے بارے میں لکھا ہے کہ"سفر نامہ ایسی آوارہ صنف ہے جسے محض قادر الکلامی اور زبان دانی سے نہیں لکھا جا سکتا,جب تک لکھنے والےکے اندر جنون جہاں گردی نہ ہو, حیرت کی کائنات نہ ہو اور طبع میں خانہ بدوشی اور آورگی نہ ہو"۔←  مزید پڑھیے

یار باشیاں۔۔ربیعہ سلیم مرزا

جب تک میں نے خود لکھنا شروع نہیں کیا،تب تک مجھے پتہ نہیں تھا کہ بہترین تحریر بہترین مشاہدے کا نچوڑ ہوتی ہے ۔پھر جیسے جیسے لوگوں کی مجھ سے توقعات بڑھتی گئیں، مجھے ہر جملے ہر لائن پہ توجہ←  مزید پڑھیے

رونمائی۔۔سلیم مرزا

سوشل میڈیا پہ بلاوجہ عورتوں کے حقوق پہ بات ہورہی ہو تو یقین کریں لکھنا، بولنا تو دور کی بات ، جس عورت کو کھانسنا بھی آتا ہے ۔وہ بھی مردوں کے خلاف کھانس رہی ہوتی ہے ۔ اور مردوں←  مزید پڑھیے

ذرا ہنس لیجیے۔۔ڈاکٹر فرزانہ کوکب/تبصرہ:پروفیسر سخاوت حسین

یہ کتاب ڈاکٹر فرزانہ کوکب کی طنز و مزاح پر ایک شاہکار تصنیف ہے۔ادب میں طنز و مزاح کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔بعض ناقدین ادب نے تو یہاں تک کہا ہے کہ کس زبان کا ادب ترقی یافتہ ہے یہ←  مزید پڑھیے

نسل کشی کے موضوع پر اُردو کا ایک کامیاب ناول “کھوئے ہوئے صفحات”۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

میں ڈاکٹر بلنداقبال کو’جو ادیب بھی ہیں’طبیب بھی ہیں اور بہت سوں کے حبیب بھی ہیں’ اردو کا ایک کامیاب ناول لکھنے کی مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ڈیڑھ سال کی کرونا وبا کی پابندیوں اور جکڑبندیوں کے بعد جب←  مزید پڑھیے

لایموت: ایک خود نوشت۔۔راشد شاز/مبصر:محمد ارشد

پروفیسر راشد  شاز کا شمار  ان روایت شکن مصنفین میں ہوتا ہے جو مشہور و مقبول ہیں  اور  متنازع و مطعون بھی۔ انہیں عام ڈگر پر چلنا قطعاً پسند نہیں۔ اپنی خود نوشت لایموت لکھتے ہوئے بھی شاز صاحب نے←  مزید پڑھیے

دنیا میری ہتھیلی پر۔۔تبصرہ/پروفیسر سخاوت حسین

" دنیا مری ہتھیلی پر" کا تہہ ِ دل سے خیر مقدم کرتا ہوں ۔اور ظہور چوہان کا ہدیۂ تشکر کہ اُنہوں نے پہلے کی طرح اب بھی یاد رکھا اور اپنی نئی تخلیق سے نوازا←  مزید پڑھیے

“سکوت”کا شاعر “سکوت” کا نہیں ۔۔ششی کمار سنگھ

حسیات کا تنوع 'سکوت' میں واضح نظر آتا ہے۔ زندگی کے بیشتر پہلوؤں کو 'سکوت' میں مجتمع کردیا گیا ہے۔ نام نہاد ترقی کی اندھی دوڑ میں، پوری دنیا فطرت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس نام نہاد ترقی کا خمیازہ جنگلات کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔←  مزید پڑھیے

ترقی پسند افسانہ(معاشرتی و طبقاتی کشمکش)-مصنف: ڈاکٹراشرف لون/مبصر:ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری

اردو ادب کی تحریکات یا رجحانات میں ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کے زیر ِاثر اردو شعر و فکشن فکری وفنی اور موضوعاتی سطح پر کئی دوررس تبدیلیوں سے روشناس ہوا۔ ترقی پسند تحریک کی بدولت پہلی بار اردو ادب←  مزید پڑھیے

تقسیم سے تقسیم تک،آزاد منزل۔۔تبصرہ:ربیعہ سلیم مرزا

کچھ کتابیں ایک جلد اور چند صفحات تک محدود نہیں ہوتیں ۔ان کے اندر کسی زمانے کی کہانی ہوتی ہے اور اس ایک کہانی کے ساتھ ماضی حال اور مستقبل سے وابستہ ہزار داستانیں ہوتی ہیں ۔ یہ الف لیلہ←  مزید پڑھیے

انگ انگ رنگریز۔۔ناصر خان ناصر

عزیزم نسیم خان کی انوکھی دلفریب آزاد شاعری کی کتاب “رنگریز” پڑھتے ہوئے جب انگ انگ ان دیکھے رنگوں میں رنگتا چلا گیا تو یوں محسوس ہوا جیسے قدموں تلے بچھے قالین کے دھیمے رنگ دھنک بن کر لہرانے لگ←  مزید پڑھیے

عورت اور تاریخ کا رویّہ۔۔حمزہ جلال

تاریخ عورت کیخلاف ایسے لرزہ خیز واقعات کا مجموعہ ہے۔ مذہب اور مذہبی لوگوں، دونوں نے ہر مقام پر عورت کا استحصال کیا ہے۔ اگر کوئی مذہب یہ دعویٰ  قائم کرتا ہے کہ وہ عورت کو مرد کی طرح ہی انسان سمجھتا ہے تو اسے ہیگل کے اس قول کہ " حقیقی عقلی ہے اور عقلی حقیقی " Ideal is real and real is ideal پر عمل کرکے اپنی اپنی مذہبی تاریخ کو تنقیدی جائزے کیلئے  کھلا چھوڑنا ہوگا۔←  مزید پڑھیے

ادبی محبت نامے(تبصرہ کتاب)۔۔۔احمد رضوان

 ڈاکٹر خالد سہیل کی ہمہ جہت اور متنوع شخصیت اپنی ذات میں ایک انجمن کا درجہ رکھتی ہے۔ انجمن بلاشبہ پنجابی فلم والی بھاری تن و توش سمجھ لیں  جو درختوں کے اردگرد گول گول گھوم کر گانا گاتے ہوئے←  مزید پڑھیے

راگنی کی کھوج میں ۔۔نجیبہ عارف/تبصرہ:۔۔عاصم کلیار

راگنی کی کھوج میں ایک بے قرار روح متلاشی متلاشی شاید ازل سے ہی روح کے سفر میں منزلیں  سیراب اور راستے گرد ہوۓ جاتے ہیں چشم بینا سے دیکھنے پر باطن کی عریانی اور کمینگی سے خود شرمندگی محسوس ہوتی ہے←  مزید پڑھیے

شیطان۔۔سیّد محمد زاہد

شیطان/دادی اور پوتی، دونوں نے عمرو کا استقبال بھرپور طریقے سے کیا۔ ہدایت کے عین مطابق وہ سیدھا ادھر ہی آیا تھا۔ بڑھیا اپنے رشتہ داروں سے چھپانا چاہتی تھی کہ اس نے کسی بہادر جوان کو مدد کے لیے←  مزید پڑھیے

دو کوزہ گر۔۔آغر ؔندیم سحر

دو کوزہ گر۔۔آغر ؔندیم سحر/ شمس العلما مولانا شبلی نعمانی فروری1883 سے اواخر1998 تک علی گڑھ کالج سے وابستہ رہے۔وہ اس تاریخی دانش گاہ میں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کے لیے بنائی گئی مجلس ”لجنۃ الادب“کے نگران تھے←  مزید پڑھیے

’’پاپی‘‘ (ڈاکٹر خالد سہیل اور مرزا یاسین بیگ کا مشترکہ ناول)….فیصل عظیم

یوں تو یہ دنیا تخلیق کار جوڑوں ہی کی مشترکہ کاوش سے آباد ہے مگر بات لفظی افزائشِ نسل کی ہو تو ایسے جوڑوں کی مثال ایسی عام بھی نہیں۔ اور پھر مشترکہ ناول تو ایسی غیرعام کاوشوں میں مزید←  مزید پڑھیے

2021 کے ادبی نوبل انعام ناول نگار عبد الرزاق گورنہ کا ناول (By the Sea) کا تنقیدی تجزیہ۔۔احمد سہیل

نومبر کی دوپہر کے آخر میں صالح عمر بحر ِ ہند کے ایک دور جزیرے زنجبار سے گیٹویک ( Gatwick)ہوائی اڈے ( برطانیہ) پر پہنچے ہیں ۔ ان کے پاس ایک چھوٹا سا تھیلا ہوتا ہے جس میں اس کا←  مزید پڑھیے

عہد ظلمات۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی لوٹ مار کی کہانی ۔۔لیاقت علی ایڈووکیٹ

تحریکِ  قیامِ  پاکستان اپنے جوہر میں سامراج مخالف کی بجائے ہندو دشمنی پر فوکس تھی۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں برطانوی سامراج اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے بارے میں علمی اور تحقیقی کام نہ ہونے کے برابرہوا ہے۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی لوٹ مار اور برطانوی سامراج کی سیاسی و سماجی پالیسیوں بارے لٹریچر مفقود ہے۔←  مزید پڑھیے

کاکولیات۔۔سلیم مرزا

(کاکولیات/سلیم مرزا)میری فرینڈ لسٹ میں فوجی بھائی اتنے ہی ہیں جتنی میری زندگی میں خوشحالی۔مجھے اگر پتہ چل جائے کہ سرکار افسر ہیں تو میں ان کے سامنے جانے کی بجائے گھوڑے کے پیچھے چھپنے کو ترجیح دیتا ہوں کہ←  مزید پڑھیے