Pakistan - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 8 )

غزل۔۔۔مظہر حسین سید

شعورِ حسن سے عاری ہیں فطرت سے بھی نفرت ہے یہ کیسے لوگ ہیں جن کو محبت سے بھی نفرت ہے روایت کا امیں سمجھے تھے ہم فرسودہ لوگوں کو مگر ان کو محبت کی روایت سے بھی نفرت ہے←  مزید پڑھیے

ویلنٹائن ڈے ایک مغربی تہوار۔۔۔۔رضوان اللہ پشاوری

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، قرآن کریم میں بھی یہ ارشاد فرمایا کہ ’’ کیاتم لوگ یہ گمان کرتے ہو کہ میں نے تم کو عبث پیدا کیا ہے‘‘نہیں نہیں ہر گز نہیں←  مزید پڑھیے

باغی کون؟ آپ یا ہم گوبھیاں؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

حضور والا، راؤ انوار نے کون سا کشتہ یا کون سی سلاجیت کھائی ہے کہ اس کے پاس اس قدر طاقت آگئی کہ چار سو قتل کر کے بھی وہ اپنے گھر میں عیاشی کر رہا ہے؟ سرکار، آپ لوگ بندوق والوں کی جی حضوری کرتے ہوئے کہتے ہیں انہوں نے بالکل خواتین کی بے حرمتی نہیں کی۔ ہم آپ سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ خواتین سے دراندازی کا امکان ہم کم از کم پاک فوج کی جانب سے مکمل رد کرتے ہیں۔ ہمارے جوان اس نہج پر ہرگز نہیں جا سکتے۔ لیکن حضور، آپ کے کئی حوالدار یہ بات برملا مانتے ہیں کہ آپ ہی کے لوگوں نے خیسور کے حیات خان کے گناہوں کے بدلے اس کے باپ اور بھائی کو اٹھایا ہوا ہے۔ اور پھر آپ کہتے ہیں نامعلوم افراد بندے غائب نہیں کرتے؟ جناب عالی، سانحہ ساہیوال بیج بونے والی ریکی کس نے کی؟ آپ نمبر ون ہیں، جہاں تک ہمیں آپ کے حوالدار بتاتے ہیں۔ کیا یہ سوال اٹھانا ناجائز ہے کہ ایسے کتنے اور واقعات پیش آئے جہاں معصوم افراد کو دہشتگرد بنا کر ان کے اہل خانہ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے؟ حضور، کیا ہم نہیں جانتے کہ نقیب اللہ جیسے جوان سمیت چار سو افراد کو قتل کرنے والا راؤ انوار ذاتی حیثیت میں ہرگز اس قدر طاقتور نہیں ہو سکتا کہ اسے چھوا بھی نہ جا سکے؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ ریاست پاکستان میں وہ کون سی واحد طاقت ہے جس کے آگے تمام ادارے تمام قانون اور ضابطے بے بس پڑ جاتے ہیں؟ سرکار، کیا یہ حقیقت نہیں کہ راؤ انوار نے یہ سینکڑوں قتل اس دور میں کیے جب رینجرز کو سندھ میں کھلی چھوٹ ملی ہوئی تھی؟ ←  مزید پڑھیے

مہنگا حج ۔۔۔ مہر ساجد شاد

 اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس سال حج پالیسی کا اعلان ہوا تو ملک بھر میں ایک بحث کا آغاز ہو گیا، نئے اعلان کے مطابق اب حاجی کو گذشتہ سال سے تقریباً 63% زیادہ اخراجات ادا کرنا ہونگے۔ ایک طرف←  مزید پڑھیے

ہمیں مزید لاشیں نہیں چاہییں ۔۔۔منصور ندیم

بچپن سے اکثر یہ دیکھا تھا کہ مختلف مذہبی مواقع پر ذاکرین حضرات یا ہمارے کچھ خطیب حضرات وعظ کے دوران کسی بھی واقع کو اس قدر مبالغہ اور جذباتی کیفیات کے ساتھ سنا کر اس واقعے کی اصل فکری←  مزید پڑھیے

ہو جس سے اختلاف اسے مار دیجیے ۔۔۔ معاذ بن محمود

آج اگر ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ پولیس کے زیر حراست قتل ناجائز ہے تو پہلے اس ناجائز کو منطقی انجام تک پہنچائیے۔ جب خود کش دھماکے ہو رہے تھے تو ہمیں بیک آواز ان کی مذمت کرنی تھی پھر چاہے خود کش کے ذہن میں ستر حوریں چل رہی ہوں یا پھر ان کی برین واشنگ ہوئی ہو۔ جو سوالات ایک کھلے قتل کو سازش ثابت کرنے کے لیے آپ اٹھا رہے ہیں وہ ذیلی ہیں۔ اصل اور اہم ترین مدعا یہ ہے کہ یہ قتل ہوا ہی کیوں۔ احتجاج کرنے والے کو پولیس اٹھا کر کیوں لے کر گئی۔ کیا دھاندلی کے خلاف کنٹینر پر احتجاج کرنے والا، یا عدلیہ بحالی لے لیے لانگ مارچ کرنے والا کسی پشتون کے احتجاج کی نسبت زیادہ حق رکھتا ہے؟ اگر نہیں تو جو حق انہیں تھا آج اپنا پرامن احتجاج کرنے والوں کو کیوں نہیں؟←  مزید پڑھیے

بدلتے رنگ اور کتے کے آنسو ۔۔۔ محمد اشتیاق

ہمارے وزیر اعظم صاحب جو پودوں کو پانی نہ ملنے پہ دکھی ہو جاتے تھے خاتون اول جو مذہبی طور پہ کتوں کو نحس سمجھتی تھیں لیکن ایک "کتے" کی آنکھ میں آنسو دے کہ اپنے مذہبی نکتہ نظر میں تبدیلی پیدا کر کے اسے گھر میں رکھنے پہ آمادہ ہو گئیں آج 3 بچوں کے کپڑوں پہ خون دیکھ کہ کتنی دکھی ہوئی ہوں گی۔←  مزید پڑھیے

ٹنڈو بہاول سے ساہیوال تک ۔۔۔ معاذ بن محمود

وہ دونوں اپنے ہنستے بستے گھرانے کی تباہی کے بدلے انصاف مانگنے سربازار کھڑی ہیں۔ زندگی کا بوجھ اٹھائے وہ حاکم وقت سے انصاف کی بھیک مانگ مانگ کر تھک چکی ہیں۔ رات ماں سے لپٹ کر دونوں جس قدر ممکن ہوا جی بھر کر رو چکی ہیں۔ آنسو ہیں کہ خشک ہیں۔ زندگی اب ویسے بھی بے معنی ہے کہ ان کے محافظ منوں مٹی تلے دفنائے جا چکے ہیں۔ ماں کی پتھرائی آنکھیں اور معاشرے کی بے حسی اب انہیں احساس سے ماورا اقدام کی چٹان پر کھڑا کر چکے ہیں۔ ان کا احتجاج اب ایک تماشے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ شاید فیصلہ ہوچکا ہے تبھی تاخیری حربے آزمائے جارہے ہیں۔ مگر فیصلہ ان دونوں کے لیے ناقابل قبول ہے۔ شاید کوئی اور ہوتا تو رو دھو کر خاموش ہوجاتا لیکن ہر کوئی کہاں ان دونوں کی طرح ضدی ہوا کرتا ہے؟←  مزید پڑھیے

حاجی صاحب کا اسلامی ائیر لائن میں پہلا سفر ۔۔۔ معاذ بن محمود

دورانِ سفر قصیدہ بردہ شریف کے پر کیف الفاظ ہمیں ریاست مدینہ اوّل میں لے گئے تھے۔ اس پر مزید بہتری یوں ہوئی کہ سفر کے دوران کھانے میں دو عجوہ کھجوریں اور نصف کپ اونٹنی کا دودھ ملا۔ واللہ سفر کا مزہ دوبالا ہوا۔ مزید بھوک محسوس ہوئی تو ہم نے جیب سے کے ایف سی کا بچا ہوا زنگر نکال کر پیٹ کے تین حصے بھرے۔ ایک حصہ خالی چھوڑنا ضروری تھا لہذا جہاز کے استنجا خانے میں جا کر مارلبرو کی بیڑی پھونکی کہ خالی حصے میں کچھ ہوا بھر جائے تاکہ تین حصے کھانا اس حصے پر قابض ہونے سے باز رہے۔ بخدا بندے کی نیت صاف ہو تو اللہ تبارک و تعالی دماغ میں کوئی نہ کوئی راستہ سجھا ہی دیتا ہے۔ ←  مزید پڑھیے

دانشور کون؟ ۔۔۔ محمد اشتیاق

اسی طرح کچھ دانشوروں نے باقاعدہ سیاسی جماعتوں کی غیر اعلانیہ ترجمانی شروع کردی۔ جس پروگرام میں وہ حاضر ہوں وہاں اس سیاسی جماعت کی طاقت ویسے ہی دوگنی ہو جاتی تھی۔ فوج اور ڈکٹیٹرشپ کی اشاروں کنایوں میں حمایت کا سلسلہ سیاسی معاملات میں بھی جاری تھا، ٹی وی چینلز نے فوجی اور جنگی مسائل تو ایک طرف، فوجی جرنیلوں کو سیاسی، قانونی، معاشی معاملات پہ تجزیہ نگار کے طور پہ بلانے کا آغاز کیا۔ یہ موضوع تو خیر ایک بڑی بحث کا متقاضی ہے۔ موضوع سخن یہ سیاسی، جماعتی دانشور کارکن ہیں جو مختلف مسائل کا، ترقی کا حل بلاوجہ ایک سیاسی پارٹی کا حکومت میں آنا بتاتے رہے۔ ←  مزید پڑھیے

کون سا والا تِل؟ ۔۔۔ محمد اشتیاق

  “سب سے پہلے ہم ہارڈ ڈسک کو فارمیٹ کرتے ہیں”، خرم نے اپنی آنکھوں کی چمک کو کم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے پیشہ ورانہ انداز اپنانے کی کوشش کی۔   عمل نے آنکھ کے کونے سے ٹھنڈی←  مزید پڑھیے

سوشل میڈیا کے خودساختہ دانشوروں کے نام ۔۔۔ عبد اللہ خان چنگیزی

سوشل میڈیا یا سادہ الفاظ میں سماجی رابطوں کے ذرائع پر آج کل لاتعداد ایسے حضرات کی بھر مار ہے جو خود کو کسی بھی موضوع پر بحث و مباحثہ کرنے کا اہل سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایسا کوئی←  مزید پڑھیے

موٹیویشنل سپیکنگ ۔۔۔ معاذ بن محمود

آپ نانبائی ہیں اور گاہک آپ سے بدتمیزی سے بات کر رہا ہے تو آپ تندور میں خاموشی سے تھوکنا شروع کر دیجیے۔ گاہک جا وقت تھوک والی روٹی خوشی خوشی آپ کو ذلیل کر کے اپنی جیت کے احساس کے ساتھ گھر لے جا رہا ہوگا عین اسی وقت آپ ایک کمینی سی خوشی محسوس کر رہے ہوں گے جو آپ کو موٹیویٹ کرے گی۔ آپ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں اور کسی بات پر غصہ ہے تو پروڈکشن سرور ڈاؤن کر کے نیٹورک ٹیم پر الزام لگا دیجیے۔ آپ خاتون خانہ ہیں اور بچوں پر تپی ہوئی ہیں تو اپنے شوہر سے الجھنا شروع کر دیں اسے ٹھنڈا ٹھنڈا جلانا شروع کر دیں، سکون پائیں گی۔←  مزید پڑھیے

ووٹ بھٹو سائیں کا ۔۔۔ کمیل بن زیاد

رپورٹر:- چھا حال ہے بابا۔۔ غریب ہاری:- سائیں اللہ بھلی کرے اچھی گزر رہی ہے۔ رپورٹر :- بابا کتنے بچے ہیں۔ ہاری:- سائیں چار بچے ہیں۔ ایک اسکول میں پڑہتا ہے، دو بیٹیاں میرے ساتھ وڈیرے کے کھیتوں میں کام←  مزید پڑھیے

راغبؔ کا خط، والدین اور بزرگوں کے نام۔۔۔۔محمد حسین آزاد

انسان دنیا میں اکیلا آتا ہے اور اکیلا ہی چلا جاتا ہے لیکن درمیان میں مختلف لوگوں سے ناتے جوڑنا زندگی کے تقاضے ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے۔ انسانوں کو بھی←  مزید پڑھیے

سیکس ایجوکیشن پر اصرار،آخرکیوں؟۔۔۔۔۔ ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان میں طلبہ کے نصاب تعلیم میں جنسی تعلیم سے متعلق مواد داخل کرنے پر اصرارکیا جارہا ہے۔وقتاً فوقتاً جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوتا ہے تو یہ موضوع زباں زدعام ہوجاتاہے۔ پارلیمنٹ تک اس←  مزید پڑھیے

مری سے آگے جہاں اور بھی ہے۔۔۔۔۔شجاعت بشیر عباسی

مری سیاحوں کے لیے ہمیشہ ہی پرکشش رہا موسم سرما ہو تو برفباری جبکہ گرمیوں میں ٹھنڈی ہوائیں کھانے پورے پاکستان سے سیاحت کے شوقین مری کا رخ کرتے ہیں لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل مقامی افراد کی طرف←  مزید پڑھیے

خونی لیکروں کے درمیان منقسم گلگت بلتستان کے خونی رشتوں کا نوحہ ۔۔شیر علی انجم

محترم قارئین جنگ کسی بھی معاشرے کیلئے نہ صرف بربادی کا سامان فراہم کرتی ہے بلکہ جنگ  زدہ علاقے معاشی طور پر بھی ترقی اور تعمیر کے عمل میں پیچھے رہ جاتے  ہیں ۔۔ جنگوں کی وجہ سے تقسیم ہونے←  مزید پڑھیے

ڈگری کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ضیغم قدیر

یہ بات اکثر موٹیویشنل سپیکرز اور انٹرپرینور کرتے نظر آتے ہیں کہ کالج و یونیورسٹی کی ڈگری کچھ بھی نہیں ہوتی اصل بات آپکے تجربے کی ہے۔ایلن مسک اور مارک زکر برگ بھی یہی بات کرتے ہیں کہ ڈگری کچھ←  مزید پڑھیے

کتھارسس یا قانون کی حکمرانی؟ ۔۔۔۔۔۔آصف محمود

دو خواتین کے لاشے سڑک پر پڑے ہیں ۔ ایک بوڑھی ماں ہے اس کا لاشہ اوندھے منہ پڑا ہے ، دوسری شاید اس کی بیٹی ہے ۔ ہجوم جمع ہے ۔ ایک صاحب کے ہاتھ میں موبائل ہے ،←  مزید پڑھیے