ہو جس سے اختلاف اسے مار دیجیے ۔۔۔ معاذ بن محمود

ارمان لونی قتل ہوئے۔ 

میں معذرت خواہ ہوں، قتل نہیں ہوئے انہیں غالباً فلُو ہوا اور وہ پولیس کی حراست میں چل بسے۔ 

کئی دوستوں کے لیے یہ “خبر” ٹھیک رہتی۔ خاص کر وہ دوست جو پوچھتے ہیں ویڈیو کیوں نہیں بنائی، پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کروایا، لاش پر زخموں کے نشانات کہاں ہیں۔ 

چلیں اللہ کا نام لے کر اور اپنے اور اپنے خاندان کی حفاظت کی دعا کرتے ہوئے کچھ لب کشائی کی جسارت کر ہی لیتے ہیں۔ 

ویڈیو کیوں نہیں بنائی یہ سوال معذرت کے ساتھ ناصرف انتہائی محضحکہ خیز ہے بلکہ میری ناقص رائے میں بے حسی کا مقام بھی ہے۔ جس آئین کا سہارہ لے کر احباب مقتول کے اشعار کو مبینہ طور پر غیر قانونی قرار دے رہے ہیں اسی آئین کے تحت قتل کے واقعے پر ویڈیو کا اصرار کرنا بھی غیر ضروری ہے۔  اس موقع پر ایسے سوال کرنا مزید نفرتیں پیدا کرنے کا مؤجب بنے گا۔ 

دوسرا سوال یہ کہ پوسٹ مارٹم کیوں نہ کرایا۔ ایک خبر یہ تھی کہ جہاں قتل ہوا وہاں پوسٹ مارٹم کی سہولت میسر نہیں تھی۔ لواحقین لاش لیے کوئٹہ گئے جہاں شاید پوسٹ مارٹم کروایا گی۔پوسٹ مارٹم کا سوال کرنے والے رفقاء گارنٹی دیتے ہیں ایک آزاد پوسٹ مارٹم کی؟ جہاں قاتل عوام کے محافظ ہوں وہاں مقتول کے جسم کی چیر پھاڑ کرنے والے بھی آزاد ہوں گے، اس کی کیا گارنٹی ہے؟ اور اگر کوئی زر خرید یا بزدل ڈاکٹر پوسٹ مارٹم کر کے کوئی نئی تھیوری نکال لاتا تو ایسے دوست اور بھائی اس کے حق میں کتنی پوسٹس لگاتے؟ ایک لمحے کے لیے خود کو مقتول کے لواحقین میں شمار کیجیے۔ آپ کے عزیز کو مبینہ طور پر پولیس نے تشدد کر کے مار دیا۔ اب آپ کا اعتبار رہے گا پولیس پر؟ اور اگر پولیس پر نہیں رہے گا تو پوسٹ مارٹم کرنے والے پر کیونکر رہے گا؟ 

ہو سکتا ہے چند دوست میری بات نہ سمجھے ہوں۔ ایک کوشش اور کرتے ہیں۔ 

آپ پوسٹ مارٹم کی بات کر رہے ہیں، میں کہتا ہوں ہمیں انصاف فراہم کرنے والوں کی خواہش میں خلوص پر ہی اعتبار نہیں۔

کیوں؟

کیونکہ وہ طبقہ جس کا کام پوسٹ مارٹم کے ذریعے حقیقت تک پہنچنا ہے اس سمیت انصاف فراہم کرنے والا طبقہ “نا معلوم افراد” کے زیراثر ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو راؤ انوار اور ساہیوال واقعے میں پیدا کی جانے والی تاخیر دیکھ لیجیے۔ 

جب پوسٹ مارٹم اور ایف آئی آر میں ڈنڈی مارنے سے الٹا مقتول کو دہشت گرد ثابت کرنا یا مقتول کی غلطی ثابت کرنا مقصود ہو یا اس کا خدشہ ہو تو آپ کیا کریں گے؟ 

کتنی عجیب سی بات ہے۔ بجائے اس کے کہ اس ملک کو اس کے نظام کو لپیٹ کر رکھنے والے اس ٹولے پر لعنت بھیجیں جو یہ سب کروا رہا ہے، جو نہتے افراد کو پولیس کے ذریعے مروا رہا ہے، آپ الٹا اس نظام کی سفاکیت پر سوال اٹھانے والوں سے سینگ پھنسا رہے ہیں؟ حیرت ہے۔

جہاں تک بات ہے زخموں کے نشان کی تو اب ہمیں یقیناً مقتول کے گھر والوں کو کہنا پڑے گا کہ بھیا آپ کی تھیوری پر احباب یقین کرنے سے گریزاں ہیں لہذا اپنے عزیز کے جسم کو تھوڑا اور عیاں کیجیے کہ لاش کے زخم سوشل میڈیا کی دیواروں پر سرعام نظر آئیں۔ ٹھیک ہے آپ لواحقین کو تکلیف تو خوب ہوگی مگر احباب کو اپنے سوال کا جواب ضرور مل جائے گا۔ 

آج اگر ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ پولیس کے زیر حراست قتل ناجائز ہے تو پہلے اس ناجائز کو منطقی انجام تک پہنچائیے۔ جب خود کش دھماکے ہو رہے تھے تو ہمیں بیک آواز ان کی مذمت کرنی تھی پھر چاہے خود کش کے ذہن میں ستر حوریں چل رہی ہوں یا پھر ان کی برین واشنگ ہوئی ہو۔ جو سوالات ایک کھلے قتل کو سازش ثابت کرنے کے لیے آپ اٹھا رہے ہیں وہ ذیلی ہیں۔ اصل اور اہم ترین مدعا یہ ہے کہ یہ قتل ہوا ہی کیوں۔ احتجاج کرنے والے کو پولیس اٹھا کر کیوں لے کر گئی۔ کیا دھاندلی کے خلاف کنٹینر پر احتجاج کرنے والا، یا عدلیہ بحالی لے لیے لانگ مارچ کرنے والا کسی پشتون کے احتجاج کی نسبت زیادہ حق رکھتا ہے؟ اگر نہیں تو جو حق انہیں تھا آج اپنا پرامن احتجاج کرنے والوں کو کیوں نہیں؟

حضور ہم عادی ہیں “اگر مگر” کے ذریعے خودکش حملہ آوروں اور ممتاز قادریوں کو شہید ثابت کرنے والوں کے۔ کوئی مضائقہ نہیں اگر آپ بھی ان سوالات کے ذریعے “اگر مگر” والی فضاء پیدا کر کے قاتلوں کو حق پر ثابت کر دیں۔ کوئی بڑی بات نہیں۔ یہ پاکستان ہے۔ بڑا ملک ہے۔ چھوٹے موٹے واقعات تو برپا ہوتے ہی رہتے ہیں۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *