ووٹ بھٹو سائیں کا ۔۔۔ کمیل بن زیاد

رپورٹر:- چھا حال ہے بابا۔۔
غریب ہاری:- سائیں اللہ بھلی کرے اچھی گزر رہی ہے۔
رپورٹر :- بابا کتنے بچے ہیں۔
ہاری:- سائیں چار بچے ہیں۔ ایک اسکول میں پڑہتا ہے، دو بیٹیاں میرے ساتھ وڈیرے کے کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔
رپورٹر:- بابا بیٹیاں کیوں۔
ہاری:- ہماری زمین وڈیرے کے قبضے سے چھڑانی ہے، قرضہ لیا تھا بیوی کی بیماری پر وہ واپس نہیں کرسکا وڈیرے نے زمین گروی رکھ لی ہے۔ اب ہم اسی کے ملازم ہیں۔
رپورٹر:- بابا ووٹ کس کو دیتے ہو۔
ہاری:- سائیں بھٹو کو۔۔
رپورٹر:- بابا کونسا بھٹو۔
ہاری:- سائیں ذوالفقار علی بھٹو کو۔
رپورٹر:- مگر اسکو تو مرے ہوئے بھی 39 سال ہوگئے ہیں۔
ہاری:- سائیں ایسا مت کہو بھٹو زندہ ہے۔ ہم اسی کو ووٹ دیتے ہیں۔
رپورٹر:- اب کس کو ووٹ ڈالو گے۔
ہاری:- سائیں ابھی وڈیرے کے کمدار نے سارے گاؤں کو حکم دیا ہے اس الیکشن میں وڈیرے کے بیٹے کو ووٹ دینا یے۔ وہ بھٹو سائیں کی طرف سے الیکشن لڑے گا۔۔۔
رپورٹر:- بابا میں نے دیکھا ہے، گاؤں کے پرائمری اسکول میں وڈیرے کے جانور بندھے ہوئے ہیں۔ اور اسکول کے بچے یہاں دھوپ میں بیٹھے پڑھ رہے ہیں۔
ہاری:- سائیں میری ذال کہتی ہے بچوں کو پڑہانا ہے، بڑا آدمی بنانا ہے۔ پر میں سوچتا ہوں، وہ بڑا ادمی بن کر کیا کریں گے؟ کام تو یہیں کرنا ہے زمینیں تو وڈیرے کے پاس ہی ہیں۔
رپورٹر:- اچھا یہ بتاؤ گاؤں میں کوئی ڈسپنسری وغیرہ ہے۔
ہاری:- یہاں نہیں ہے سائیں۔۔ یہاں سے بیس میل دور ہے۔
رپورٹر:- تو پھر اگر کوئی بیمار ہو تو کیا کرتے ہو؟
ہاری:- کچھ نہیں سائیں بیل گاڑی پر ڈالتے ہیں اور وہاں لے جاتے ہیں۔ اگر وہاں تک زندہ رہے تو ٹھیک ورنہ اللہ سائیں کی مرضی۔ میری ذال کہتی ہے اس بار بھٹو سائیں کے میلے پر جانا ہے منت مانگنے۔ ہم پچھلے سال بھی گئے تھے۔ میری ذال نے بیٹا مانگا بھٹو سائیں نے بیٹا دیا۔
رپورٹر:- مگر بھٹو تو شرابی تھا، وہ کیسے ولی بن گیا۔
ہاری:- نہیں سائیں ایسا مت کہو اللہ سائیں ناراض ہوتا ہے، میں نے خود اپنی آنکھوں سے لوگوں کو شفا لیتے دیکھا ہے۔
رپورٹر:- یہ بتاؤ تم اپنی اس زندگی سے خوش ہو۔
ہاری دور خلاؤں میں گھورتے ہوئے:- سائیں میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے خود کو اسی حال میں دیکھا ہے۔ لیکن میں چاہتا ہوں میرے بچے یہاں کی زندگی سے چھٹکارا پائیں۔
رپورٹر:- بابا پھر کیسے اس غربت کی زندگی سے چھٹکارا پاؤ گے؟ کیسے اپنی زمین آزاد کراؤ گے؟
ہاری:- سائیں اب سنا ہیں بلاول بھٹو آرہا ہے، وڈیرا سائیں کہتا ہے بلاول ہمارا مقدر بدلے گا۔ اسی لیے تو ہم بھٹو کو ووٹ دے ہے ہیں۔
رپورٹر:- کون بھٹو۔۔۔ بلاول بھٹو۔۔؟
ہاری:- نہیں سائیں، ذوالفقار علی بھٹو کو۔

دور کہیں سے ٹیپ ریکارڈر کی آواز آرہی تھی۔۔”دِلا تیر نشاں الے۔۔اساں دشمناں تے ابھو”۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *