حاجی صاحب کا اسلامی ائیر لائن میں پہلا سفر ۔۔۔ معاذ بن محمود

الحمد للّٰہ۔ ثم الحمد للّٰہ۔ بخدا کبھی سوچا نہ تھا یہ روح پرور ماحول یوں چودہ سو سال بعد اس جدت بھرے زمانے میں واپس آ پائے گا۔ ویسے تو کارپوریشن اپنے فیصلوں میں آزاد ہوا کرتی ہے تاہم پھر بھی اس روح پرور تبدیلی کا سہرا ہم تبدیلیوں کی بانی حکومت ہی کو دیں گے کہ ہر مثبت فیصلے کے پیچھے یہی اور ہر منفی تبدیلی کے پیچھے ان کے سیاسی مخالفین ہوا کرتے ہیں۔ یہ ہمارا ایمان ہے۔ ہمارا ایمان یہ بھی کے کہ ہم ہی اللہ کے فضل و کرم سے اصل اور سچے مسلمان ہیں۔ مزید یہ کہ ہمارے مسلک کی اور کوئی شاخ نہیں۔ 

فلائٹ صبح کو تھی۔ ہوائی اڈے پر پی آئی اے کی انتظامیہ نے جگہ جگہ نماز چاشت کے فضائل لکھ کر لگائے ہوئے تھے۔ انتظار گاہ میں اللہ کے فضل سے ہر قسم کا مخلوط اجتماع ختم ہوچکا تھا۔ پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن کی ہر پرواز میں چیک ان کرتے ہوئے خواتین کو مفت شٹل کاک برقعے دیے جا رہے تھے۔ انتظار گاہ میں خاص صوفی عملہ مسافروں کو جہاز میں بیٹھنے اور موت کے وقت کی دعائیں، مشکل پڑنے پر مانگی جانےوالی دعائیں اور حاجات کے نوافل کے وظائف ازبر کرانے میں محو تھا۔ یہاں ایک جانب کلامِ پاک کی تلاوت اور دوسری جانب نعتیں چلائی جارہی تھیں۔ تبدیلی برحق تھی۔ تبدیلی برحق ہے۔ بیشک تبدیلی آچکی ہے۔ 

بورڈنگ تک پہنچے تو کافور اور کفن کے لٹھے کے سٹال جگہ جگہ لگائے گئے تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ قومی ائیر لائن پچھلے ادوار کی کرپشن کے باعث مخدوش ترین حالات سے گزر رہی ہے۔ بے ساختہ ریاست پاکستان کے پچھلے امراء المومنین کے لیے لعنت بھری مغلظات دل سے نکلیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ کافی دیر تک نکلتی رہیں۔ سپہ سالاران کی بہرحال تخصیص رہی۔ ہم نے اپنے لیے اچھا والا لٹھہ اور بہترین قیمت پر دستیاب کافور بک کروایا۔ بھلا کل کس نے دیکھی۔ ہوائی حادثے میں واقع ہونے والی موت عموماً انسانی بار بی کیو کی انتہاء پر ختم ہوا کرتی ہے۔ اس پر حاجی صاحب کو کفن کا لٹھا اور کافور بھی سستا ملے تو کیا فائدہ۔ 

ایک اور ریٹیل پر تابوتوں پر سیل لگی ہوئی تھی۔ ہم نے مہاگنی مٹیریل کا بہترین تابوت منتخب کیا اور اس پر “ھذا من فضل ربی” سنہرے حروف سے کھدوا کر تیار کروا لیا۔ پیسہ ہاتھ کا میل ہے۔ ہم نے منت مرادوں کے بعد عطاء کی گئی اولاد کو پال پوس کر بڑا کیا۔ تب ہم بریلوی ہوا کرتے تھے۔ بعد ازاں ہم ایک اور سلسلے کو مشرف بہ مسلکِ حق ہوگئے۔ لیکن پرانے گناہوں کی پاداش بہرحال مل کر رہتی ہے۔ ہماری اولاد بریلوی طریق سے مانگی گئی منتوں کے گناہ کے باعث لبرل ہوچکی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے مرنے پر ناہنجار بس واجبی رسوم کے تحت جنازہ نکلوائیں گے جو بہرحال انیس حج کرنے والے حاجی کے شایان شان نہیں۔ موت کی صورت میں بہترین لٹھے، کافور اور تابوت کا پیشگی انتظام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ 

ہمارا سفر کراچی سے لاہور کا تھا۔ سلیم ناگوری ملک شاپ چین ہماری انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ ہماری اہلیہ آپ سب کی بیگمات کی طرح ہمارے زیادہ تر فیصلوں سے اختلاف کرتی ہیں۔ ہم بھی آپ سب کی طرح زیادہ چوں چراں کرنے سے معذور رہا کرتے ہیں۔ گناہ بر حاجن صاحبہ، پانی میں دودھ ملانے کا حکم پہلی بار انہی کی جانب سے صادر ہوا تھا۔ اللہ درگزر کا معاملہ فرمائے۔ ہماری اساس البتہ خالص اسلامی ہے لہذا ہم اپنی بھینسوں کو پلائے جانے والے پانی میں شروع دن سے آبِ زمزم کے چند قطرے ضرور ملاتے ہیں۔ یوں جس دن سے ہم نے پانی میں دودھ ملانا شروع کیا اللہ پاک ہمارے کاروبار میں روز بروز برکت کا معاملہ فرماتا گیا۔ یوں بھی خالص دودھ دور حاضر میں بنی نوع پاکستانیوں کے معدے میں تبخیر کا سبب بنتا ہے۔ ایسے میں دودھ ملا پانی اور دودھ بھی وہ جس میں آبِ زمزم کی آمیزش ہو، الحمد للّٰہ تمام گاہکوں کے رزق میں برکت بن جایا کرتا ہے۔ لاہور روانگی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ ہم نے اپنے کاروبار میں وسعت کا قصد فرمایا تھا۔ چونکہ ہماری نیت پاک تھی لہذا اللہ پاک نے تمام مشکلات خود بخود حل کر دیں۔ گنجے حکمرانوں کے دور میں رنگیلے مرحوم کی دختر آئے دن ہر جا چھاپے مارا کرتی تھی۔ لبرل عورت کو خوب سمجھایا کہ آبِ زمزم کی تاثیر والا دودھ بنی نوع پنجابیوں کو بھی اہلیانِ کراچی کی طرح راس آئے گا مگر وہ ملحد کہاں مانتی تھی۔ سیدی مشرف نے ہمیں کراچی میں سیٹ کروایا۔ رب باری تعالی کا کرم کے تبدیلی کی ہوا کا آغاز ہوا اور اس حکومت میں ہمیں اپنے بابرکت کاروبار کو پنجاب میں شروع کرنے کی اجازت ملی۔ 

دورانِ سفر قصیدہ بردہ شریف کے پر کیف الفاظ ہمیں ریاست مدینہ اوّل میں لے گئے تھے۔ اس پر مزید بہتری یوں ہوئی کہ سفر کے دوران کھانے میں دو عجوہ کھجوریں اور نصف کپ اونٹنی کا دودھ ملا۔ واللہ سفر کا مزہ دوبالا ہوا۔ مزید بھوک محسوس ہوئی تو ہم نے جیب سے کے ایف سی کا بچا ہوا زنگر نکال کر پیٹ کے تین حصے بھرے۔ ایک حصہ خالی چھوڑنا ضروری تھا لہذا جہاز کے استنجا خانے میں جا کر مارلبرو کی بیڑی پھونکی کہ خالی حصے میں کچھ ہوا بھر جائے تاکہ تین حصے کھانا اس حصے پر قابض ہونے سے باز رہے۔ بخدا بندے کی نیت صاف ہو تو اللہ تبارک و تعالی دماغ میں کوئی نہ کوئی راستہ سجھا ہی دیتا ہے۔ 

سفر کے آغاز میں ایمرجینسی لینڈنگ کی صورت میں کیے جانے والے اقدامات کی بجائے توکل علی اللہ پر پندرہ منٹ کا درس دیا گیا۔ درس کے دوران جہاز میں اچھا خاصہ ارتعاش شروع ہوا تو عبائے میں چھپی خواتین نے پردہ ہٹا کر آکسیجن ماسک اپنے چہرے پر لگا ڈالا۔ انہوں نے بتایا کہ آکسیجن چونکہ اللہ پاک کا پیدا کردہ عنصر ہے لہذا کچھ دیر اس پر توکل کرنا بھی عین حلال عمل ہے۔ انہوں نے اس بابت ایک مشہور دار العلوم کا فتوی مسافروں کی سیٹ کے پیچھے پہلے سے رکھا ہوا تھا۔ دوران سفر ہم موت کا منظر اور قبر کا عذاب نامی انمول کتب کا مطالعہ کرتے رہے۔ جہاز میں لگی سکرین اس دوران یہود و نصاری کے چالبازیوں پر حضرت زید زمان حامد ایک مستند ترین ڈاکیومنٹری دکھاتے رہے۔

ہمارے ذہن میں ہر کچھ دیر بعد دف کے ساتھ “روک سکو تو روک کو تبدیلی آئی رے” چلتا رہا۔ 

لینڈنگ کے دوران کپتان نے جہاز کے پرسکون طریقے سے اترنے کے لیے اجتماعی دعا کروائی۔ اللہ پاک سننے والا ہے لہذا چند جھٹکوں کے ساتھ لینڈنگ ہوگئی۔ اس دوران حاجن صاحبہ متواتر ہمارے خیالات کا محور بنی رہیں۔ جوانی میں نہایت ہی گداز، خوبصورت، نازک اور نرم ہوا کرتی تھیں۔ آج کل تو ہلکی پھلکی شرارت پر بھی پسلیوں میں کہنی مار دیا کرتی ہیں کہ فجر کے وقت غسل کے لیے پانی ٹھنڈا ہوا کرتا ہے۔ 

سفر کا اختتام مسافروں کی عجلت پسندی کی صورت میں ہوا۔ ہم باریش بزرگ اگر جلدی کر بھی لیں تو بھلا کیا، لیکن تف ہے کہ پہیے زمین سے لگتے ہی باقی کے تمام لوگ بھی ہماری دیکھا دیکھی سامان اتارنا شروع ہوگئے۔ بیشک پاکستان خسارے میں ہے۔ 

بہرحال سفر تمام ہوا اور ہم اپنی منزلِ مقصود کی جانب نئے فارم ہاؤس کا فیتہ کاٹنے کی اچھی بدعت پر عمل پیرا ہونے نکل پڑے۔

ہمارے دماغ میں اب تک عرب موسیقی اور دف کی تال پر یہی نغمہ جاری تھا۔۔۔

“تبدیلی آئی رے۔۔۔ تبدیلی آئی رے”

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *