سیاستدان کیا کریں۔۔۔طارق احمد

اس ملک کے تین وزرائے اعظم قتل کر دیے گئے۔ لیاقت علی خان کو بھرے جلسے میں مارا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ھوا۔ اور بے نظیر بھٹو کو چلتی سڑک پر شہید کر دیا گیا۔ ان وزرائے اعظم کے علاوہ نواب اکبر خان بگٹی کو اس جگہ شہید کیا گیا۔ بقول جنرل مشرف انہیں خبر بھی نہ ھو سکی۔ پوری اے این پی کو دہشت گردوں کے ھاتھوں مروا دیا گیا۔ اس ملک کے اٹھارا وزرائے اعظم کو برطرف کیا گیا۔ اور ایک بھی وزیراعظم اپنی آئینی مدت مکمل نہیں کر سکا۔ اس ملک کے وزرائے اعظم کو پابند صلاصل کیا گیا۔ انہیں کال کوٹھڑیوں میں پھینکا گیا۔ انہیں مقدمات میں رسوا کیا گیا۔ انہیں چور اور ڈاکو کہا گیا۔ انہیں نااھل کیا گیا۔ انہیں جلاوطن کیا گیا۔ آصف زرداری مللک کے صدر منتخب ھو گئے۔ لیکن زندگی کے قیمتی سال جیل کی نذر ھو گئے۔ جاوید ھاشمی کو ناحق سات سال سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا۔ وزیراعظم نوازشریف چوتھی بار جیل میں ھیں ۔ کیونکہ وہ ڈکٹیشن لینے سے انکاری ھیں۔ ان کی بیٹی مریم جیل جا چکی اور اب مقدمے بگھت رھی۔ شہبازشریف جیل میں ھیں۔ نواز شریف اپنی کینسر میں مبتلا بیوی کو چھوڑ کر اپنی بیٹی کو لے کر ملک واپس چلے ائے۔ اور انہیں معلوم تھا۔ وہ جیل میں پھینک دیے جائیں گے۔ اور ایسا ھی ھوا۔ لیکن ایک شخص بھی ایئر پورٹ نہیں پہنچ سکا۔ وہ اج بھی جیل میں ھیں لیکن کتنے لوگ ان کی خاطر باھر نکلتے ھیں۔ مال روڈ پر کتنی بار احتجاج ھوا۔ لیکن اعتراض یہ ھے۔ نوازشریف خاموش کیوں ھیں ؟ جو شخص انتہائ استقامت سے ووٹ کے احترام کے لیے اپنا کردار ادا کر رھا ھے۔ اس پر این آر او کے الزامات لگتے ہیں ۔ اس کا مزاق اڑایا گیا۔ وہ اپنی بیوی کی بیماری کا بہانہ کر رھا ھے۔ اسے ذہنی ٹارچر دیا گیا۔ کہ اس کی بیوی مر چکی ھے۔ لیکن یہ لوگ اعلان نہیں کر رھے۔ مردہ چھپا کر بیٹھے ھیں ۔ ھم سمجھتے ھیں ۔ اس ملک کے سیاستدانوں نے قربانی اور جدوجہد کی جو مثالیں قائم کی ھیں ۔ وہ دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ملیں گی۔ لیکن اب بھی شکوہ یہ ھے۔ نوازشریف خاموش کیوں ھے۔ قوم کو کفارہ ادا کرنا چاھیے۔ کیونکہ ھم بنیادی طور پر مولا جٹ اور نوری نت کلچر کے لوگ ھیں ۔ مار دھاڑ اور خون خرابہ پسند کرتے ھیں ۔ بڑک بازی اور اوئے میں وخت پا دیاں گا، ھمارا ماٹو ھے۔ ھم خاموش اھتجاج اور خالی جیل جانے کو پسند نہیں کرتے۔ بھٹو مر گیا تھا۔ تو نواز شریف کیوں زندہ ھے ؟ بھٹو کے مرنے کا گلٹ نوازشریف کو بھی مرتے دیکھنا چاھتا ھے۔ ورنہ نوازشریف ھیرو نہیں۔ بزدل ھے۔ عجیب خونخوار مثالیت پسندی ھے۔ اپنے ھی راہنماؤں کو مروانا چاھتی ھے۔ بھئی قائداعظم کتنی بار جیل گئے تھے۔ کتنی مار کھائی تھی۔ کتنا احتجاج کیا تھا۔ صرف مزاکرات سے ملک حاصل کر لیا۔ لیکن ھم بنیادی طور پر تماشبین ھیں۔ خود گھروں میں آرام سے بیٹھے ھیں ۔ سوشل میڈیا پر مصروف ھیں۔ اور شکایت یہ ھے۔ اکیلا نوازشریف ھماری جنگ کھل کر کیوں نہیں لڑ رھا۔ خاموش کیوں ھے۔ اگر سیاست کرتا ھے۔ تو پھر مرتا کیوں نہیں۔ یار وہ بڑے ظالم لوگ ھیں ۔ اتنے ھی احمق ھیں ۔ بندہ مارنا ان کے لیے معمولی بات ھے۔ زندگی ھے تو سیاست بھی ھے۔ لوگ پہلے بھی کہتے تھے۔ نواز شریف باھر چلا گیا۔ میں تب بھی کہتا تھا۔ اچھا کیا۔ ظالموں سے بچنا چاھیے۔ تیسری بار وزیراعظم بن گیا۔ پھر بن جائے گا۔ بس مزاحمت کا یہ عمل چلتے رھنا چاھیے۔ جب بالا دست قوتیں ھر قسم کی پالیسی پر عمل پیرا ھوں تو پھر سیاستدانوں کو بھی اپنی سٹریٹیجی بنانی چاھیے۔ راستہ نکالنا چاھیے۔ طاقت سے ٹکرا کر تباہ ھو جانا کافی نہیں۔ اس سے مزاحمتی عمل سست پڑ جاتا ھے۔ مایوسی پھیل جاتی ھے۔ راستہ نکالنا چاھیے۔ اور سیاستدان کا کام راستہ نکالنا ھی ھے۔ اور میں اپنے اگلے کالم میں یہ ثابت کروں گا۔ باوجود انتہائ ناموافق حالات اور ظلم و ستم کے، اس ملک کے سیاستدانوں نے اگے بڑھنے میں کامیابی حاصل کی ھے۔ ملک کو آگے لے کر گئے ہیں ۔ورنہ بالا دست قوتوں کا دائرے کا سفر کبھی ختم نہ ھوتا۔ یہ بالا دست قوتیں اج بھی پچاس کی دھائی  میں کھڑی ھیں۔

طارق احمد
طارق احمد
طارق احمد ماہر تعلیم اور سینیئر کالم نویس ہیں۔ آپ آجکل برطانیہ میں مقیم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *