ریاست، سیاست اور خباثت ۔۔۔ معاذ بن محمود

ریاست کا ذکر جس قدر عام ہے اس کے تصور اور بنیاد پر غور کرنے والے اسی قدر کم ملتے ہیں۔ عموماً ریاست کے بنیادی تصور سے پانچ سات درجے اوپر جا کر آئین، غداری، بغاوت وغیرہ کی بات کی جاتی ہے۔ رٹا لگانے والے طوطوں سے اور امید بھی کیا رکھی جا سکتی ہے؟ اپنی اصل میں ریاست ایک بنیادی تصور ہے جس سے آئین، قانون، اقتدار وغیرہ جیسے ذیلی تصورات جنم لیا کرتے ہیں۔

سادہ ترین الفاظ میں ریاست وہ اکائی ہے جو ایک جغرافیائی قطعے کے باسیوں کو اس خطے میں ایک ضابطے کے تحت جینے کا موقع دیتی ہے، اور اس ضابطے کے اطلاق کی خاطر چند افراد کو باقیوں پر اقتدار کا حق دیتی ہے۔ اکائی ایسے کہ عالمی سطح پر قومی تشخص کے لیے ریاست ہی کو بنیادی یونٹ سمجھا جاتا ہے۔ جمہوری ریاست میں اقتدار کا حق عام آدمی کی مرضی سے منتخب ہونے والے نمائیندوں کو دیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ جس معاہدے کے تحت ہوتا ہے اسے آئین کہا جاتا ہے۔ ریاست کے عدم میں ایک شخص نسبتاً زیادہ آزادی مگر اتنے ہی زیادہ خطرات سے بھی دوچار ہوتا ہے۔ انہی خطرات سے آزاد ہونے کے لیے فرد ریاست کے قیام کی تائید کرتا ہے۔ ریاست نظام کے تحت ان خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وسائل پیدا کرنے کی یقین دہانی فراہم کرتی ہے اور بدلے میں ہر شخص پر کچھ ذمہ داریاں یا فرائض عائد کرتی ہے۔ ان فرائض کے بدلے میں فرد کو آزادی یا حقوق ملا کرتے ہیں۔ فرد اور ریاست کے درمیان حقوق و فرائض کا یہ توازن بھی آئین ہی متعین کرتا ہے۔ کسی ایک فریق کی حق تلفی پر سزا و جزا کا تعین بھی آئین ہی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری نظام میں آئین کو سپریم مانا جاتا ہے۔

سیاست دراصل اقتدار کی خاطر کی جانے والی سرگرمیوں، عوامل اور حکمت عملی کا نام ہے۔ اقتدار کی چاہ میں آئینی طریقہ کار سے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانا اور انہیں اپنے انتخاب کے لیے آمادہ کرنا سیاست ہے۔ سیاسی سرگرمیوں کو منفی نگاہ سے دیکھا جانا ایک عالمی حقیقت ہے تاہم اس کی وجہ بھی یہی بنیادی تعریف ہے جس میں اقتدار کا حصول معنی خیز ہے۔ معصومیت کا درجہ اختیار کیا جائے تو دستیاب دلیل یہی ہے کہ اقتدار کا حصول عوام کی فلاح کے لیے درکار ہے۔ حقیقت البتہ یہ ہے کہ منتخب افراد عموماً دنیا کے ہر خطے میں اور خصوصاً مملکت خداداد میں اپنے انتخاب کے بعد “خصوصی” محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ سیاسی عمل میں بار بار حصہ لینے کے بعد یہ احساس ان کی طبیعت کا حصہ بن جایا کرتا ہے۔ اس احساس تفاخر کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ عوام میں شعور کی وہ کمی بھی ہے جو کسی حد تک قدرتی امر ہے۔ یعنی اصولاً گلشن کے اس تمام کاروبار کا مقصد خواص کی جانب سے عوام کی خدمت ہی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ جس طرح خواص یعنی سیاست دان ایک احساس برتری اختیار کر بیٹھتے ہیں بالکل ویسے ہی عوام شعوری یا لاشعوری طور پر سیاست دانوں کے اس احساس برتری کے عادی ہوکر احساس کمتری اختیار کر لیا کرتے ہیں۔

ریاست میں بحیثیت سیاستدان منتخب ہونے  کا عمل کئی وسائل کا متقاضی ہوا کرتا ہے جس میں وقت اور دولت سرفہرست ہیں۔ اب عین ممکن ہے جس شخص کو آپ اپنے علاقے کا منتخب نمائیندہ چننا چاہتے ہیں وہ خلوص اور عقل سے مالا مال ہو تاہم اللہ تعالی کی دوسری دونوں نعمتوں (وقت اور دولت) سے محروم ہو۔ ایسی صورت میں انتخاب کی سو فیصد آزادی کا تصور ویسے ہی ختم ہوجاتا ہے۔ بقول جون ایلیا،

جو رعنائی نگاہوں کے لیے فردوس جلوہ ہے
لباسِ مفلسی میں کتنی بے قیمت نظر آتی
یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پروردہ
یہ لڑکی فاقہ کش ہوتی تو بدصورت نظر آتی

سمجھ لیجیے بعینہ یہی معاملہ خلوص، نیک نیتی اور عقل کا بھی ہے۔ غریب کے پاس ہو تو کوئی پوچھتا نہیں، امیر کے پاس ہو تو سیاست دان تخلیق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

سیاست دان منتخب ہوکر مقتدر حلقے تک پہنچ جائے تو حکومت کا حصہ بنتا ہے اور منتخب ہوجائے مگر حکومتی دائرے میں نہ آ سکے تو حزب اختلاف کا جزو بنتا ہے۔ ایک صحت مند ریاست جہاں جمہوریت باقاعدگی سے پنپتی رہی ہو کا حسن دراصل حکومت اور حزب اختلاف کی ابحاث اور ریاستی معاملات چلانے کے لیے حکمت عملی وضع کرنا ہی ہوتا ہے۔

حکومتی معاملات خارجی بھی ہو سکتے ہیں اور داخلی بھی۔ خارجی معاملات یعنی دوسری ریاستوں کے ساتھ تعلقات اور ان کی ذیلی تفاصیل وضع کرنا جبکہ داخلی معاملات یعنی ریاست کے اندر اندرونی طور پر آئین میں دیے گئے قوانین کا اطلاق، ان میں تغیر، بہتری وغیرہ۔ خارجی معاملات کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں جیسے دفاع، دیگر ریاستوں کے ساتھ مالیاتی لین دین وغیرہ۔

خارجی معاملات کا بالواسطہ اثر داخلی حالات پر ہوا کرتا ہے۔ ظاہر ہے اگر آپ کی بین الاقوامی تجارت پراثر ہے تو ریاست کے اندر مزید پیسہ آئے گا، عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، لوگوں کی فلاح کے ذرائع بڑھیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح دفاعی معاملات کا سیدھا اثر بھی اندرونی حالات پر پڑا کرتا ہے۔ دنیا امپیریل دور سے باہر نکل چکی ہے۔ اب اخراجات پورے کرنے کے لیے دوسری ریاست پر چڑھائی ممکن نہیں رہی ماسوائے اس حالت کہ جس میں ریاست امریکہ بہادر نہ ہو۔ یہ عمومیات سے ہٹ کر الگ معاملہ ہے اور الگ مضمون کا تقاضہ کرتا ہے۔ دوسری جانب ریاستوں کے مابین منفی تاریخ اور خنس بھی ایک تلخ حقیقت ہے جس کے لیے دفاع پر تکیہ کرنا پڑتا ہے۔ دفاع مضبوط کرنے کے لیے وسائل چاہئیں۔ افرادی قوت اور مالیاتی وسائل، دونوں جو اندرون خانہ ٹیکس اور بین الاقوامی تجارت (خاص کر برآمدات) کے ذریعے پورے کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب داخلی معاملات ریاست کے اندرونی نظام کو قائم و دائم رکھنے پر مرتکز ہوا کرتے ہیں۔ ریاست کے تمام قوانین کا آئین کے مطابق نفاذ، خلاف ورزیوں پر سرزنش و پوچھ گچھ، بدعنوانیوں کا احتساب، اندرونی وسائل کا انتظام، مالیاتی وسائل کی ریاست کے اندر کھپت، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا استعمال، کسی قسم کی اندرونی شورش پر ریاستی جواب، ریاستی سربراہ کا چناؤ، بدلاؤ وغیرہ وغیرہ۔ فہرست طویل ہے تاہم مذکورہ بالا تمام معاملات داخلی امور میں آتے ہیں۔

سیاست دان کا انتخاب دراصل ان تمام خارجی و داخلی معاملات کا نظم و نسق سنبھالنے اور ان سے متعلقہ تمام امور پر حکمت عملی وضع کرنے اور پھر اس کا اطلاق کرنے کے لیے ہوا کرتا ہے۔ اس اطلاق کے لیے سیاست دان خود عمل پیرا نہیں ہوتا بلکہ آئین میں درج طریقہ کار کے تحت بیوروکریسی کے ذریعے ریاستی مشینری مستعمل ہوا کرتی ہے۔ سیاست دان یا اس مشینری کو چلانے پر مامور ہوتے ہیں یا پھر اس کے چلائے جانے پر تنقید کرنے یا اس کی بہتری کے لیے کام کیا کرتے ہیں۔ بظاہر ان تمام فرائض و اختیارات کا محور عوام کی فلاح ہی ہے اور اصولاً ہونا بھی یہی چاہئے مگر ایسا ہوتا نہیں۔

اور ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ اس کی وجہ ریاست اور سیاست کے لازم و ملزوم رشتے میں خباثت کا عنصر ہے۔ ریاست اور سیاست کی تفصیلات لکھنے کا بنیادی خیال یہ تھا کہ ریاست اور سیاست کی روح عوام کی فلاح ہونا کم از کم کتابوں اور نظریات کی حد تک ثابت رہے۔ اب ہم کچھ روشنی خباثت کی وجہ سے پیدا ہونے والے حقیقی حالات پر ڈالتے ہیں۔

جیسا کہ پہلے عندیہ دیا گیا کہ ریاست افراد کے درمیان باہمی سمجھوتے سے پیدا ہونے والی وہ اکائی ہے جس کا اندرونی آپریشنل مآخذ عوام کی جانب سے خواص کو خارجی و داخلی امور چلانے کا اختیار ہے۔ لیکن تصور ریاست کی یہ اساس اور اس کی روح خواص کی خباثت کے باعث ایسی دب کر رہ جاتی ہے کہ یہ بنیادی تصور معدوم ہوجاتا ہے۔ ریاست آئین کے تحت اپنی آئینی رٹ کے نفاذ کی خاطر ڈنڈا استعمال کرنے کا استحقاق رکھتی ہے۔ یہ ڈنڈا آئین نامی سمجھوتے کے نتیجے میں ریاست میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حقیقی سرحدوں کے محافظ ہی رکھ سکتے ہیں۔ ان دونوں طرح کے اداروں کا اصولاً بے انتہا منظم ہونا لازمی ہے تاکہ یہ اپنے اپنے کام کر سکیں۔ خباثت ان دونوں اداروں کو یہی ڈنڈا عوام کی فلاح کی بجائے اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ ابلیس سے جیتنا بھلا اتنا آسان کہاں؟ نہتے نظریات اور ڈنڈا بردار اداروں کا ٹکراؤ جہاں جہاں ہوگا جیت ڈنڈے ہی کی ہوا کرتی ہے تاوقتیکہ ڈنڈا بردار خود اپنے آپ کو یا اپنے ادارے کو نظریے کے تابع نہ کر ڈالے۔ ادارہ انتہائی منظم ہو تو ایسا ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔

خباثت ڈنڈا برداروں کو اپنے ڈنڈے کا استعمال کرتے ہوئے آئین نامی معاہدے کو قدموں تلے روند کر طاقت کا سرچشمہ بننے پر آمادہ کرتی ہے۔ زن، زر، زمین کے علاوہ کرسی وہ لالچ ہے جو ناصرف پچھلی تینوں خواہشات کا حصول سہل کرتی ہے بلکہ ان کو پا لینے کا شارٹ کٹ بھی فراہم کرتی ہے۔ طاقت کی خواہش ڈنڈا برداروں کو اس بات پر اکساتی ہے کہ اسی آئین کو پھاڑ پھینکا جائے جس کے تحت ڈنڈا انہیں تھمایا گیا تھا۔ بنیادی طور پر یہ ناصرف حرام خوری ہے بلکہ کم ظرفی، غداری بھی ہے۔

یہ خباثت دو طرح سے اثرانداز ہو سکتی ہے۔ ماضی میں یہ کمال بے شرمی کے ساتھ “میرے عزیز ہم وطنوں” سے انگڑائی لیا کرتی تھی اور پھر کسی نہ کسی ریاستی سانحے پر اختتام پذیر ہوا کرتی تھی۔ کبھی ملک کو دولخت کر کے تو کبھی “ڈز” کی آواز کے ساتھ آم کی پیٹی میں دھماکہ کر کے، اور کبھی وکلاء تحریک کی شکل میں ریاستی نظام پر فالج حملہ کر کے۔ گویا ہر بار اس خباثت کو نکیل ڈالنے کے لیے قوم کو انگاروں پر سے گزرنا پڑا۔ تاریخ کے آسیب زدہ جھروکوں سے گزرنا مضمون کا مرکزی خیال نہیں لہذا ہم یہ نوحے پھر کبھی کے لیے رکھتے ہیں۔ فی الوقت ہم خباثت کے مروجہ طریقوں پر واپسی اختیار کرتے ہیں۔

خباثت کے اثر انداز ہونے کا دوسرا راستہ وہ پتلی تماشہ ہے جو شاید مملکت کی نوزائیدگی سے رائج ہے اور شاید اگلی کچھ دہائیاں مزید اپنایا جاتا رہے۔ نوجوان ذہن کو “پٹانا” نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اسی لیے اکثر عمر رسیدہ خبیث بابے عموماً اس پتلی تماشے کی پتلیوں پر لفظی ہتھیار استعمال کرتے ہوئے حملہ آور دکھائی دیتے ہیں۔ ڈنڈے کے زور پر آئین کا روندا جانا بہرحال خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔ یا تو آمر ڈنڈے کا نفاذ کرنے کے بعد اعلان کر دے کہ آج سے ریاست میں بادشاہت چلے گی، تب تو ٹھیک ہے۔ لیکن خباثت میں منافقت کا تڑکہ لگ جائے تو آمر اپنی آمریت کو بھی جمہوریت کی کھال چڑھانے کو کوشش کرتا ہے۔ یوں ایک ڈمی پارلیمان، ٹشو پیپر کابینہ اور چھڑی سے چلنے والی خچر حکومت و اپوزیشن وجود میں آتی ہے۔ سیاست دان پھر چاہے جمہوریت سے کتنا ہی مخلص کیوں نہ ہو، اسی آمریت زدہ نظام کے ذریعے لنگڑی لولی جمہوریت کو مضبوط کرنا اس کی مجبوری بن جایا کرتا ہے۔ ایک کمزور جمہوریت میں ڈنڈا بردار آمر کی اثر اندازی سے چھٹکارا ممکن نہیں البتہ ڈنڈے کے زور پر گھنگرو باندھ کر ناچنے والے سیاست دانوں کا ایک طبقہ بھی بدقسمتی سے اس پیکج کا حصہ ہوا کرتا ہے۔ خباثت یہ ہے کہ یہ سیاست دان ہر جمہوری دور میں حاکم کے یمین و شمال کھڑے پائے جاتے ہیں۔

خباثت یہ ہے کہ بین الاقوامی تجارت کو یکسر بھلا دیا جاتا ہے جو دراصل طاقت ور مالی مقام پانے کا اصل وسیلہ ہے۔ خباثت یہ ہے کہ اس بین الاقوامی تجارت جو دراصل برآمدات پر مبنی ہوا کرتی ہے، کو نظر انداز کر کے ریاستی مشینری کو عوام پر ٹیکس لگا کر چلائے جانے کی کوشش شروع ہوجاتی ہے۔ خباثت یہ ہے کہ عوام کی فلاح پر مامور یہ خواص اپنی مشاہیر میں ڈرامائی اضافہ کرنے لگتے ہیں جبکہ عوام کے کیے مہنگائی کا طوفان “قومی مجبوری” کے نام پر پیش کرتے ہیں۔ خباثت یہ ہے کہ فرد اور ریاست کے درمیان ہونے والے معاہدے کو حکومت کے حق میں آسمانی صحیفے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاہم فرد یا عوام کے حقوق کی بات کو پیر تلے روندنے کے لیے قانون کے نام پر ڈنڈے کا سہارا لیا جاتا ہے۔ خباثت یہ ہے کہ دیگر ریاستوں کے ساتھ نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے نام پر ایسے تعلقات رکھے جائیں کہ دفاع کی مد میں ریاستی وسائل کا بے دریغ استعمال ہوتا رہے اور دفاعی اداروں کی اہمیت مسلمہ اور سپریم رہے۔ خباثت یہ ہے کہ آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گارڈ آف آنر دے کر ملک سے باہر بھیجا جائے اور یوں نرم گوشہ اختیار کرتے ہوئے مستقبل میں اس غداری کی راہ ہموار کی جائے۔ خباثت یہ ہے کہ بدعنوانی پر سرزنش و سزا کی بجائے ایک سیاسی لانڈری بنا لی جائے جس سے گزار کر تمام بدعنوان افراد کو پاکیزہ بزرگوں کا درجہ دے دیا جائے۔ خباثت یہ ہے کہ ریاست میں وسائل کی پیداوار کی بجائے ٹیکس کے ذریعے عوام کا جوس نکالا جائے۔ خباثت یہ ہے کہ اس ٹیکس سے بنائے جانے والے خزانے کو بیرونی کمپنیوں کے ساتھ عالمی سطح پر مقدمات میں ہار کر اڑایا جائے۔ خباثت یہ ہے کہ فرد و ریاست کے درمیان معاہدے کو پھاڑ کر چند افراد کی جانب سے ایک فرد کو عوام کے سر تھوپ دیا جائے۔

یہ اس جملہ خباثت کی ہلکی سی جھلک ہے جو ریاست اور سیاست کے نام پر عوام کی جانب سے چند مخصوص افراد و ادارے جانے کب سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور جانے کب تک جاری رکھے رہیں۔

ریاست، سیاست اور اس خباثت کو سمجھنے کے بعد میں یہ سوال اٹھاتا ہوں کہ کیا آپ اور میں آزاد پیدا نہ ہوئے؟ اور اگر ہم آزاد ہیں تو ریاست کے ساتھ سیاست کے نام پر کی جانے والی اس خباثت سے برات کے اظہار کا طریقہ کار کیا ہے؟ کیا طاقت کا خباثت بھرا یہ جانبدارانہ استعمال فرد کو آئین میں لکھے ریاستی رشتے سے آزاد ہونے کا جواز فراہم نہیں کرتا؟ سوال یہ ہے کہ ریاست اور سیاست کے اس خباثت بھرے جال میں کیوں اور کب تک پھنسا رہا جائے؟

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *