کتھارسس یا قانون کی حکمرانی؟ ۔۔۔۔۔۔آصف محمود

دو خواتین کے لاشے سڑک پر پڑے ہیں ۔ ایک بوڑھی ماں ہے اس کا لاشہ اوندھے منہ پڑا ہے ، دوسری شاید اس کی بیٹی ہے ۔ ہجوم جمع ہے ۔ ایک صاحب کے ہاتھ میں موبائل ہے ، وہ غالبا تصویر کھینچنے یا ویڈیو بنانے میں مصروف ہیں ۔ بیمار سماج کے لیے المیہ بھی محض ایک تفریح ہوتا ہے ۔ سواشل میڈیا پر ایک شور اٹھتا ہے، اس ظالمانہ قتل پر نوٹس لے لیا جائے ۔ پھر ایک آواز آتی ہے ، جناب چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا ، شور تھم سا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قانون کی حکمرانی اسی کو کہتے ہیں ؟

فرض کریں سوشل میڈیا پر شور نہ اٹھتا اور فرض کریں کہ جناب چیف جسٹس کو اس کا علم ہی نہ ہو پاتا اور وہ اس کا نوٹس نہ لیتے، پھر کیا ہوتا ؟ وہ تمام ادارے کہاں ہیں جنہیں کسی کے نوٹس لینے کا انتظار کیے بغیر بروئے کار آنا چاہیے تھا ؟ کیا اس ملک میں انصاف لینے کے لیے اب ضروری ہو چکا ہے کہ پہلے سوشل میڈیا پر نوحے بلند کیجیے جائیں اور سینہ کوبی کی جائے تا کہ کوئی اس ظلم کا نوٹس لے اور کارروائی شروع ہو؟

ملک میں ہر روز کتنے ہی جرائم ہوتے ہیں اور کتنی ہی مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں ظلم ، درندگی اور وحشت کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہر ظلم سوشل میڈیا کا موضوع بن جائے ، ہر ظلم پر سماج چیخے اور چلائے اور جناب چیف جسٹس اس کا نوٹس لے لیں ؟ یہ ممکن نہیں ۔ نہ ہی حصول انصاف کا یہ کوئی صائب طریقہ ہے ۔ چاہیے تو یہ کہ جہاں کہیں قانون شکنی ہو وہاں کسی کے نوٹس لیے بغیر قانون از خود بروئے کار آ جائے۔ اسی کو قانون کی حکمرانی کہتے ہیں ۔ اس کے سوا جتنی بھی صورتیں ہیں وہ اضطراری طور پر اصلاح احوال کی ایک صورت تو ہو سکتی ہیں لیکن اسے قانون کی حکمرانی کہنا مشکل ہے۔

روز ہم سنتے ہیں فلاں جگہ فلاں پر ظلم ہو گیا ۔ ساتھ ہی اقوال زریں کی مالا گویا ٹوٹ سی جاتی ہے ۔ شہباز شریف صاحب کا دور تھا تو عصمت دری کے ہر دوسرے واقعے کے بعد خبر آتی تھی خادم اعلی نے نوٹس لے لیا ہے ، کیمرہ مینوں اور شرافت کی صحافت کے پیادوں کے ہمراہ وہ مظلوم لڑکی کے گھر دھاوا بول دیتے ہیں . ان دوروں کا حاصل پانچ دس اقوال زریں ، تین چار بڑھکیں اور ای دو معطلیاں ہوا کرتی تھیں ۔ بیسیوں ایسے واقعات ہیں جہاں کسی ظلم اور درندگی پرخادم اعلی گرجتے برستے مظلوموں کے گھر پہنچے اور فوٹو شوٹ کی شکل میں کارروائی ڈال کر لوٹ گئے لیکن زینب قتل کیس کی واحد استثناء کے ساتھ ایسا کوئی ایک واقعہ بھی ہمارے علم میں نہیں کہ ایسے کسی فوٹو شوٹ کے نتیجے میں کسی ظالم کو اس کے منطقی انجام تک بھی پہنچایا گیا ہو۔

قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ کسی جگہ جرم ہونے کے بعد جب تک نوٹس نہیں لیا جائے گا مقامی تھانے کا ایس ایچ او کارروائی نہیں کرے گا ۔ قانون یہ کہتا ہے کہ جب جرم کی بابت پولیس کو علم ہوتا ہے تو پولیس کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ تعزیرات پاکستان یا مجموعہ ضابطہ فوجداری میں کہیں نہیں لکھا کہ پولیس اس وقت کارروائی شروع کرے گی جب نوٹس لیا جائے گا ۔ ہمارے ہاں خود کش دھماکہ بھی ہو جائے تو یہ خبر ساتھ نشر ہوتی ہے کہ وزیر اعلی اور وزیر اعظم نے واقعے کا نوٹس لے لیا ۔ راز کی یہ بات قوم کو آج تک معلوم نہیں ہو سکی کہ نوٹس لینے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت صرف لوگوں کے کتھارسس کے لیے ایک سطری رسمی بیان جاری کروا دیتی ہے کہ نوٹس لے لیا گیا۔

سپریم کورٹ کے نوٹس کا معاملہ البتہ الگ ہے۔ وہ انصاف کی فراہمی کی آخری امید ہے اور اعظم سواتی کے کیس میں ہمارے سامنے ہے کہ اگر جناب چیف جسٹس اس معاملے کو خود نہ دیکھتے تو تمام ادارے اعظم سواتی کی بندگی میں مصروف تھے ۔ غریب خاندان گرفتار بھی ہو گیا اور عورتوں سمیت جیل بھی چلا گیا ۔ لیکن سوال وہی ہے کہ سپریم کورٹ کس کس ظلم کا نوٹس لے گی؟ ریاست نے اتنے وسائل جھونک کر نچلی سطح پر جو ادارے بنا رکھے ہیں وہ از خود متحرک کیوں نہیں ہوتے؟

تھانوں اورماتحت عدالتوں سے غریب کی داد رسی اسی طرح کیوں نہیں ہوتی جیسے سپریم کورٹ نوٹس لے تو ہوتی ہے؟ اعظم سواتی جیسے کرداروں کے ساتھ جو کچھ سپریم کورٹ میں ہوتا ہے ویسا ہی ماتحت عدالتوں اور تھانوں میں کیوں نہیں ہوتا ؟ یہ لوگ جس طرح سپریم کورٹ کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں یہ ویسا ہی رویہ ماتحت عدالتوں کے سامنے کیوں نہیں اختیار کرتے؟ جس بانکپن سے قانون جناب چیف جسٹس کی عدالت میں جرائم پیشہ لوگوں پر لاگو ہوتا ہے اسی بانکپن سے یہ نچلی سطح پر کیوں لاگو نہیں ہوتا ؟ جب تک ہر عدالت میں قانون اسی بانکپن سے نافذ نہیں ہو گا قانون کی حکمرانی ایک خواب ہی رہے گی۔

ایک ایپیلٹ کورٹ ہوتے ہوئے سپریم کورٹ کے لیے ممکن ہی نہیں وہ ہر ظلم پر ازخود نوٹس لے ۔ وہ اگر کچھ معاملات میں نوٹس لے بھی لے تو چونکہ وہ ٹرائل کورٹ نہیں ہے، اسے مقدمہ پھر بھی ماتحت عدالتوں ہی کو بھیجنا ہوتا ہے ۔ تفتیش پھر بھی اسی پولیس ہی نے کرنا ہوتی ہے اور مقدمہ پھر بھی نچلی عدالتوں ہی میں سنا جاتا ہے۔ قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہے تو اپنے اداروں کو نچلی سطح پر معتبر اور طاقتور بنانا ہو گا ۔ یہ ادارے جتنے فعال اور مضبوط ہوتے جائیں گے قانون کی حکمرانی کے نقوش اتنے ہی واضح ہوتے چلے جائیں گے۔ بات گھوم پھر کر جن اداروں کی طرف آتی ہے ان اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کے پاس کیا کوئی لائحہ عمل ہے؟

قانون کی حکمرانی یہ ہے کہ جرم میڈیا کی زینت بنے یا نہ بنے قانون ہر دو صورتوں میں بروئے کار آئے ۔ قانون کو اس بات سے بے نیاز ہو نا چاہیے کہ ملزم کتنا طاقتورہے۔ یہاں صورت حال یہ ہے کہ جیل میں نواز شریف کا واش روم صاف نہ ہو تو شور مچ جاتا ہے اور احتجاجی مراسلے روانہ کیے جاتے ہیں ، ٹاک شوز ہوتے ہیں اور کالم لکھے جاتے ہیں لیکن ایک نوے سالہ بزرگ عالم دین جیل میں دم توڑ جائیں تو کوئی سوال نہیں اٹھتا کہ جیل میں انہیں طبی سہولیات کیوں نہیں دی جا سکیں ، داکٹر کہاں تھا ، ہسپتال کی حالت کیسی تھی اور وہاں کوئی دوا موجود بھی تھی کہ نہیں ۔

ہمیں سوچنا ہو گا ہم چاہتے کیا ہیں، کتھارسس یا قانون کی حکمرانی؟ فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے۔

Avatar
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *