“تاریخ ابنِ خلدون” اور عنایت اللہ کی دو جلدوں پر مبنی کتاب “فردوسِ ابلیس” میں ایک شخص کا تذکرہ ہے جس کا نام حسن بن صباح تھا حسن بن صباح کا مذہب و فرقہ کیا تھا یہ ہمارا موضوع نہیں← مزید پڑھیے
ایک حادثہ تھا جو گزر گیا اور کچھ پر گزر رہا ہے ۔ یہ الگ بحث ہے کیسے ہوا ، کیوں ہوا ، کس نے کیا ، کون کون ملوث تھا ، کس کو کس کی حمایت حاصل تھی ۔؟← مزید پڑھیے
انہوں نے مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کے نوجوانوں کو استعمال کیا۔ وہاں جماعت اسلامی کی ’البدر‘ نامی ذیلی تنظیم نے دل و جان سے ان کو حمایت فراہم کی لیکن اس کے باوجود بنگلہ دیش الگ ہو گیا۔ بنگلہ← مزید پڑھیے
میشیل فوکو Michel Foucault کی کتاب “جنسیت کی تاریخ The History of Sexuality” کا موضوع مغربی معاشرت میں جنسیت کی تشکیل دینے کے طریقوں کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ یہ کتاب فوکو کی مشہور تین جلدوں کے سلسلے پر مبنی← مزید پڑھیے
چترال کا ٹور کب سے لٹکا ہوا تھا، سوچا اس بار عید پہ چلا جاؤں مگر شومئی قسمت کہ عید ڈیوٹی اور دیگر کچھ وجوہات کی بِنا پہ نہ جا سکا۔ڈیوٹی تو ایک ساتھی ڈاکٹر سے کروا کہ سکون کا ← مزید پڑھیے
مجھ سے سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جاتا ہے کہ میں کونسی کتابیں پڑھتی ہوں، یا پھر کتابوں کا ریویو لکھنے کے لیے کس طرح سے کتابوں کا مطالعہ کرتی ہوں؟ اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ اتنی زیادہ← مزید پڑھیے
مشتاق علی شان صاحب “مکالمہ بلاگ” پر ایک آرٹیکل میں مزدک کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ 528ءعیسوی کا کوئی دن ہے ۔ایران کے ساسانی فرماں رواں قباد کا دربار لگا ہوا ہے اور شہنشاہِ معظم تخت پر جلوہ← مزید پڑھیے
کچھ دنوں پہلے دہلی پولیس نے یہ حکم صادر کیا تھا کہ ایف آئی آر درج کرتے وقت ان الفاظ کا استعمال نہ کیا جائے، جو فریادی کی زبان پہ نہ ہوں ۔ اس بابت اپریل کی اا تاریخ کو← مزید پڑھیے
اپریل 28 کوامریکی سفیر اچانک آدھی رات کوفواد چودھری کے گھرآئے جبکہ فواد چودھری کوبھی اس کاپیشگی علم نہیں تھا۔ پاکستان میں ایک سرکاری ایس او پی ہے جس کے تحت کوئی بھی ڈپلومیٹ اگر کسی سے ملنے جاتا ہے← مزید پڑھیے
ہر کوئی اپنے آئینی حقوق کی بات تو کرتا ہے مگر جب آئینی ذمہ داریوں کی بات آتی ہے تو آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ ہمارے سیاستدان آئین و قانون کی پاسداری میں ناکامی پر دوسروں کی نشاندہی تو کرتے← مزید پڑھیے
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کردے تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر (محسن نقوی) میں تو گم نام تھا ایک گوشہِ تنہائی میں دل جو بیچا ہے تو اب سُرخی ِ اخبار میں ہوں (سراجی← مزید پڑھیے
ایسے انسان کی آپ بیتی جنہوں نے باوجود صدمات کو جھیلنے کے اپنی زندگی کے ان واقعات کو دہرانے کی خواہش ظاہر کی جس کے وہ عینی شاہد تھے تاکہ تاریخ کے صفحات پہ انکے سچ کا اضافہ ہوسکے۔یہ داستان← مزید پڑھیے
میری پیدائش میانوالی کے ایک دور افتادہ گاؤں کی ہے 4مئی 1992 کو میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی ابتداء کے لئے پاک فضائیہ کو چنا اور ابتدائی تربیت کے بعد میری پہلی تقرری میانوالی فضائی بیس پر ہوئی← مزید پڑھیے
فرقانِ حمید میں متعدد بار عدل وانصاف کا حکم دیا گیا ہے۔ سورة النساءآیت 58 میں ارشاد ہوا “اور جب لوگوں کا تصفیہ کیا کرو تو عدل سے تصفیہ کیا کرو”۔ اِس آیت میں ربِ لم یزل نے یہ نہیں← مزید پڑھیے
“کیا یہ حقیقت آشکارا نہیں کہ یہ قوم اور مذہب سراب نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے ۔” جو مذکورہ عبارت ابھی آپ نے پڑھی ہے یہ بھی سعادت حسن منٹو کی لکھی ہوئی ہے ۔ وہی منٹو جس کے← مزید پڑھیے
65 کی جنگ کے دوران ہماری والدہ محترمہ اور دادی محترمہ نے اپنے طلائی و نقرئی زیورات ایوب خان صاحب کی اپیل پر فوج کی امداد کے لیے چندے میں دے دئیے تھے۔ گھر کے برآمدے کے سامنے پلاٹ میں← مزید پڑھیے
ہم سے ساری دنیا ناراض ہی رہتی ہے ۔معتدل لکھنے والے سے کبھی کوئی خوش نہیں ہوتا ۔ کبھی ایک فریق ناراض تو کبھی دوسرا شاکی۔ آج کل ناراض ہونے کی باری ہے ن لیگ اور پی پی پی کے← مزید پڑھیے
تجزیے کرتے کرتے دل اُوب گیا ہے، سیاسی مباحث کر کے اعصاب شل ہو چکے ہیں۔ امید کی ڈوری سے بندھے ہاتھوں پہ زخموں کےنشان ثبت ہو چکے ہیں۔ شعور اور اصول ناپید ہو چکے ہیں۔ تاویل نے منطق کا گلا← مزید پڑھیے
ازل سے ہم یہی سنتے آئے ہیں کہ ”ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔“ واقعی خدا نے ماں کے پاؤں کے نیچے جنت رکھی ہوئی ہے۔ مگرکیا آپ نے کبھی سوچا کہ ” مشرقی“ بچوں کو یہ جنت حاصل کرنے← مزید پڑھیے
حصہ اوّل میں ہم نے “صحرا” کے بارے جانا تھا اور وہاں پر موسموں کے اتار چڑھاؤ کے متعلق پڑھا تھا۔ اس پوسٹ میں ہم بات کریں گے سمندر کی، جہاں موسم بنتے اور ختم ہوتے رہتے ہیں۔ زمین کے← مزید پڑھیے