انگریزی میں ایک لفظ ہوتا ہے جسے skepticism کہتے ہیں جس کا آسان مطلب “ڈاؤٹنگ ایٹی ٹیوڈ”بنتا ہے ۔یہ ایک ایسے رویے اور رجحان کا نام ہے جس میں ایک سوچنے والا بڑا دماغ کسی بھی قائم شدہ اور بڑے← مزید پڑھیے
سیسے والا پٹرول محفوظ ہے۔ اس کے موجد کو اس بات کا یہ یقین تھا۔ تھامس مجلے نے اس کو دکھانے کے لئے ایک برتن اٹھایا اور اس میں سے مائع انڈیل کر سب کے سامنے اس سے ہاتھ دھوئے۔← مزید پڑھیے
مسئلہ کشمیر پر دوسروں کو سننے اور سمجھنے کے حوالے سے تین پروگرام ہوچکے ہیں۔ سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور صدائے کشمیر فورم کے پہلے آنلائن سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلیمن کے سیکرٹری برائے امورِ خارجہ ڈاکٹر← مزید پڑھیے
انسان کو اللہ نے جو صلاحیتیں اس کی فطرت میں ودیعت کی ہیں ان کا تقاضا یہ ہے کہ فہم و ادراک کے ذریعے انھیں بروئے کار لایا جائے ، غور و فکر کو اپنی عادت بلکہ فطرتِ ثانیہ بنا← مزید پڑھیے
بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع سعودی عرب کا قدیم ترین مغربی شہر جدہ ہے۔ جدہ کے عوامی بازار ماضی قدیم سے اپنی شہرت اور اپنی تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب میں جدید ترین تبدیلیوں کے باوجود جدہ کے← مزید پڑھیے
کیسی علمی اور فکری منافقت اور بزدلی ہے کہ ہم انڈیا میں تو اقلیتوں کی آبرو ریزی اور ٹارگٹ کلنگ کی پُر زور مزمت کر سکتے ہیں ، تقریریں کر سکتے ہیں ، اپنی اور دوسروں کی ٹائم لائن پہ ← مزید پڑھیے
ہم سب جانتے ہیں صفر جمع صفر ایک نہیں ہوتا۔ مگر ہم سب یہ نہیں جانتے کے سازشی نظریات جھوٹ ہوتے ہیں اور پروپیگنڈا ایسی ٹیکنیک ہے جس میں جھوٹ کو اتنی بار دہرایا جاتا ہے کہ وہ سچ لگنے← مزید پڑھیے
مارکو پولو نے 750 سال پہلے اپنی کتاب “دنیا کے عجائب” میں چین کے سفر کے بارے میں لکھا ہے۔ اس میں بہت سی چیزیں لکھی گئیں جو مارکوپولو کو غیرمعمولی لگیں لیکن ایک تو اتنی زیادہ کہ نوجوان مارکو← مزید پڑھیے
دنیائے عالم میں کم ہی ایسی قومیں آباد ہیں جہاں کلاسوں کی بلیم گیم ہو تی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں کلاسوں کا طوطی بولتا ہے۔ ہمارے ہاں بچپن سے ہی بچوں کو دو اہم ترین تعویزوں کا رس گھو← مزید پڑھیے
لفٹ کے دروازے کھڑاک سے کھل گئے۔ اپنا بے ڈھب سوٹ کیس اٹھائے اندھیری راہداری میں چلتے ہوئے میں آخر کار دروازے تک پہنچا اور گھنٹی بجائی۔کوئی جواب نہیں آیاْ۔ میں نے اپنا کان دروازے کے برفیلے فولاد سے لگاتے← مزید پڑھیے
پہلا تعارف اردو ڈائجسٹ سے 1962میں ہوا۔ریڈرز ڈائجسٹ سے بچپن کی شناسائی تھی کہ بڑے ماموں اور منجھلے ماموں جب بھی چھٹیوں پر گھر آتے اُن کے ساتھ یہ رسالہ ضرور ہوتا۔دسمبر جنوری کی میٹھی سی دھوپ میں چھت پر← مزید پڑھیے
دل حسرت زدہ تھا مائدہ لذتِ درد کام یاروں کا بقدر لب و دنداں نکلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طالبعلم ایک دیکھیں حسرت زدہ ” آزردہ “کے معنی میں اگر اور پھر “مائدہ” ۔۔۔۔”آمادہ” یا” راضی” سمجھیں “لذت ِ در د” کو لیں← مزید پڑھیے
علامہ خادم حسین رضوی مرحوم اب ہم میں نہیں رہے۔ مولانا فضل الرحمان صاحب سے پوچھا گیا کہ بے نظیر صاحبہ دنیا سے رخصت ہو گئی ہیں, لہذا وہ کیا کہیں گے۔ مولانا صاحب نے کہا کہ وہ کیا کہہ← مزید پڑھیے
اس سے زیادہ گلا سڑا اور تعفن زدہ سماج اور کیا ہو گا جو کسی خونی ڈائن کی طرح اپنے ہی بچے کھانے لگے ۔جہاں ڈرے سہمے لوگ اپنے بچوں کو چھاتیوں سے لگائے سٹپٹائے ہوئے پھرنے لگیں۔ جہاں آسمان← مزید پڑھیے
ہم نماز مغرب سے کچھ قبل مسجد نبویﷺ میں داخل ہوئے تھے، اہلیہ اور بیٹی کو خواتین کے حصے میں بٹھا کر جب نماز عشاء کے بعد اہلیہ کے پاس پہنچا اور جب مسجد سے نکلنے لگے تو دیکھا بیٹی← مزید پڑھیے
کیا آپ نے آج اپنا جوتا چیک کیا؟ یاد رکھیں آپ کا مقابلہ پہاڑ کی بلندی سے نہیں، ایک چھوٹے سے کنکر سے ہے، بندے کو سفر کی بلندی نہیں مارتی، اس کے جوتوں کے اندر گھسا ہوا کنکر مارتا← مزید پڑھیے
منٹو سب کے دوست تھے،وہ دست بننے اور بنانے میں چنداں تلف نہ برتتے،پہلے تعارف میں ہی یارِ غار نظر آتے۔ پاکستان بنا تو ابتدائی دنوں میں وہ ساحر لدھیانوی کے ہمراہ دفتر آزاد میں تشریف لائے۔میں ان دنوں آزادکا← مزید پڑھیے
زندگی منظروں پر مشتمل ہے۔ ہر منظر ایک نئے منظر کو جنم دیتا ہے۔ ایک منظر سے آنکھیں بھر نہیں پاتیں تو دوسرا منظر اپنے جلوؤں کے ساتھ چشم ِ بے تاب کا منتظر ہوتا ہے۔ ایک منظر سے دوسرے← مزید پڑھیے
مئی کے آخری دنوں کی بات ہے جب مجھے پہلی بار اپنی بیوی کے جسم پر خراشیں نظر آئیں۔ ڈیوڑھی بان کے کمرے کے باہر کیاریوں میں گُلِ یاس کی ارغوانی پتیاں یوں نظر آتی تھیں جیسے باہر نکلی زخمی← مزید پڑھیے
“اگر میں غلط نہیں تو میری ایجاد مستقبل میں بہت اہم ثابت ہو گی” گیارہ جولائی 1907 کو لیو بیک لینڈ نے اپنی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے۔ وہ خوشگوار موڈ میں تھے اور کیوں نہ ہوتے۔ تینتالیس سالہ بیک← مزید پڑھیے