غالب کمرہء جماعت میں (سیریز۔6)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

SHOPPING

​دل حسرت زدہ تھا مائدہ لذتِ درد
کام یاروں کا بقدر لب و دنداں نکلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طالبعلم ایک
دیکھیں حسرت زدہ ” آزردہ “کے معنی میں اگر
اور پھر “مائدہ” ۔۔۔۔”آمادہ” یا” راضی” سمجھیں
“لذت ِ در د” کو لیں “راحت ِ حسی” ۔۔۔یعنی
درد کا لطف، اذیت کا مزہ، کرب کا کیف!
پھر تو مصرع اولیٰ ہے صریح الفہم

طالبعلم دو
ہاں ! نہیں !دونوں جوابات ہیں صادق ، لیکن
روح الاصل مقید ہے اگلے مصرعے میں
مصرع ِ اولیٰ تو تمہید ہے اس جھگڑے کی

طالبعلم ایک
آپ اتنا تو بتا ئیں کہ یہ جھگڑا کیا ہے

طالبعلم دو
دیکھیں غالب کے ہی الفاظ میں اس قصے کو
دل ِ آزردہ سے وافر نہ تھی لذت کی کشید
یوں سناتے ہیں کہانی یہ، جناب غالب
خوان تھا درد کی نعمت کا بچھا میرے لیے
اور سرگشہ، زبوں حال تھا میں مدت سے
درد ِ جانکاہ سے دل پھر بھی تھا لذت اندوز
ماندگی میں بھی تھا احساس اس دستر خواں کا
نا خوشی خود میں تھی آرام کی اک وجہ ، مگر

طالبعلم ایک
چلیے، اب میں ہی سناتا ہوں یہ قصہ، بھائی
(قصہ خوانی مری غالب کی زبانی سمجھو)
یار تو یار ہیں ، ان کو ہے فقط طنز سے کام
ریشخندی ہو کہ دشنام ۔۔ کوئی فرق نہیں
لب تو مطعون ہیں، بس کھِلی اُڑا دیتے ہیں
لب و دنداں میں اگر سازش ِ بد گوئی ہو
کون بچ سکتا ہے سُبکی سے، بے توقیری سے
(میں تو اک شاعر ِ ناچیز ہوں، میرا کیا ہے)

طالبعلم دو
درد میں ڈوبی ہوئی بات کہی غالب نے
“کام یاروں کا بقدر لب و دنداں نکلا”
لب تو مصروف تھے بد گوئی میں، اتہام میں، اور
دانت ہنسنے میں، شرارت میں ، حرف گیری میں
بد نہادی تھی یہ یاروں کی، نا انصافی تھی

استاد ستیہ پال آنند
خوب، بچو، بہت اعلیٰ  ہے یہ ٭پیرا فریز
لازمی طور پر غالب نے یہ سوچا ہو گا
یار تو یارہیں ، میں ان سے بھلا کیسے کہوں
کچھ ذرا صبر کریں، دیکھیں زمانے کا چلن
افترا میں لب و دنداں کو چھپائے رکھیں
اور مستقبل ِِ امکاں پہ ذرا غور کریں
بطن ِ فردا میں فقط “غالب ِ خستہ” ہو گا

SHOPPING

٭paraphrase

SHOPPING

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا