ایک منظر کی تلاش۔۔رؤف الحسن

SHOPPING

زندگی منظروں پر مشتمل ہے۔ ہر منظر ایک نئے منظر کو جنم دیتا ہے۔ ایک منظر سے آنکھیں بھر نہیں پاتیں  تو دوسرا منظر اپنے جلوؤں کے ساتھ چشم ِ بے تاب کا منتظر ہوتا ہے۔ ایک منظر سے دوسرے منظر تک کا یہ سفر کتنا مختصر ہے، اور ان منظروں کو قید کرنے والی آنکھوں کی یہ مسافت کتنی طویل۔ غور کیجیے تو ایک سفر جس کے لیے چند لمحات پر مشتمل ہے، وہی سفر دوسرے کے لیے دراز ہو گیا ہے۔ زندگی کا بھی بعینہ یہی حال ہے۔
شوق سفر بے سبب اور سفر بے طلب
اس کی طرف چل دیے جس نے پکارا نہ تھا

ابوالکلام آزاد صاحب سے خیال مستعار لوں تو جتنے منظر زندگی میں دیکھے ان کا حسن و لطف اپنی جگہ، لیکن جو منظر بند آنکھوں کی وجہ سے نہ دیکھ سکے ان کا مداوا کیا ہے؟ کیا معلوم جس منظر کی تلاش میں اب نگاہیں سرگرداں ہیں، وہ گزر بھی چکا ہو۔ جن آوارہ بادلوں کو نگاہیں ڈھونڈتی ہیں، کیا وہ اب بھی موجود ہیں یا برس کر گزر چکے ہیں؟ جن قدموں کی خاک راہ کی چاہت میں دل بھٹکتا ہے، کسے خبر اس خاک کو صبا کہاں سے کہاں لے گئی ہو؟ محبت کی جس گلی سے ہم نے گزرنے کا قصد کیا، شاید وہ آباد ہو کے اجڑ بھی چکی ہو۔

سچ ہے کہ داخلی کیفیات ہر شخص کے لیے مخصوص ہیں۔ صبح کی روشنی کو دیکھ کر سانس لینے والوں کے احساسات ہرگز وہ نہیں ہو سکتے جو چاند کی خاموش اداؤں کو دیکھنے والوں کے ہوتے ہیں۔ چمن زیست میں گلوں کو دور سے دیکھنے والے اور ان کو چننے کے لیے کانٹوں سے الجھنے والوں کے جذبات ایک سے ہو سکتے ہیں؟ خواب دیکھنے والے اور نہ دیکھنے والے کیا یکساں ہو سکتے؟ اور کیا راہ محبت کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنے والے اور راہ وفا پر ڈگمگا جانے والے ترازو کے دونوں پلڑوں کو برابر کر سکتے ہیں؟

کیا فکر و نظر کی جستجو کا یہ سفر بے ثمر ہی گزرتا ہے؟ کہیں پوشیدہ اور انجان منظروں کی تلاش میں ہم ان رنگ بدلتے مناظر سے بھی محروم نہ ہو جائیں جو سامنے برپا ہو رہے ہیں۔ شاید نہیں، کہ سب کا زندگی کو دیکھنے کا ایک الگ زاویہ ہے۔ کسی کے لیے حاضر و موجود ہی سب کچھ ہے تو کچھ کے لیے جستجو ہی زیست کا مقصد ٹھہرا۔ دیکھیے راہ جستجو کے مسافر ناصر کاظمی بھی کس وقت یاد آئے،
جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں

SHOPPING

انسانی زندگی کی تہہ در تہہ پرتیں ہیں۔ سفر کے ہر مقام پر ایک پرت کھلتی ہے اور ہم ایک نئی حقیقت سے آشنا ہو جاتے ہیں۔ زندگی کی ان حقیقتوں کو جو جتنا کھوجتا ہے، حقیقتیں اسے اتنا ہی آشنائے راز بناتی ہیں۔

SHOPPING

Rauf Ul Hassan
Rauf Ul Hassan
I do not consider myself a writer. Instead, I am a player. As one of my friend s said: "You play with words. " He was right. I play, and play it beautifully.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *