کسی بھی سماجی مظہر کی طرح فحاشی کی بھی کوئی ایسی تعریف متعین کرنا ممکن نہیں جس پر دنیا کی جملہ اقوام کا اتفاق ہوسکے۔ بلکہ ایک ہی علاقے یا ملک میں مختلف طبقات اور ثقافتی گروہوں کے نزدیک بھی← مزید پڑھیے
سلطنت دست بدست آئی ہے جام ِ مئے خاتم ِ جمشید نہیں ———- نوٹ۔مر زا غالب کے شعرکی تقطیع “فاعلاتن فعلاتن فعلن”سے ممکن ہے۔ میں نے اپنی جد ت طراز طبعیت کی تسکین کے لیے اس مکالمے میں بحرخفیف مسدس← مزید پڑھیے
یہ تحریر لکھنے کے دوران ایک ذہنی کشمکش میں ہوں کہ کس کے حق پہ لکھوں،ان 114 اساتذہ کے خلاف اور محکمہ تعلیم کے حق میں لکھوں جو مسلسل غیر حاضری کی بنا پر انہیں برطرف کیا تھا یا ان← مزید پڑھیے
اسلام آباد میں ہندو برادری کے لیے ایک مندر بنانے کے مقصد سے کچھ زمین حکومت کی طرف سے دی گئی جہاں سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ اس پر متضاد آراء سے سوشل میڈیا پر ایک بحث شروع ہے جس← مزید پڑھیے
“آنٹی جی، ماما کہہ رہی ہیں تھوڑا سالن دے دیں”۔ باورچی خانے میں رات کے کھانے کی باقیات سمیٹتے کئی بار کی سنی آواز پھر سنائی دی۔میں نے گھوم کر دیکھا تو ساتھ والی حاجن کا بارہ سال کا حسن← مزید پڑھیے
اپنے سرپھرے جنون کے ہاتھوں ایک دن وہ بدن کی تنگ گھپّا سے باہر نکل پڑا اندھے غار سے نکلتے ہی آنکھیں چندھیاں گئیں روشنی کا سیلاب آوازوں کا ہجوم سروں کا سمندر بھاگتے قدم مرتے تڑپتے انسان روندتے پیر← مزید پڑھیے
ہمارے بچپن میں ہم نے پاکستان میں پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کا زوال اور انڈین ڈرامہ انڈسٹری کا عروج دیکھا۔ اس زوال کی وجہ ایکتا کپور کے ڈرامے تھے۔سٹار پلس کی وہ کہانیاں جن کو دس دس سال بہت آرام← مزید پڑھیے
سوشانت سنگھ راجپوت کو میں نے پہلی مرتبہ ایک ڈرامے میں دیکھا ۔جس میں انہوں نے ایک غریب گھرانے کے نوجوان کا کردار ادا کیا، جو کہ اپنی بد مزاج ماں کے ساتھ رہتا تھا، یہ شاید 2009/10 کی بات← مزید پڑھیے
”میں چاہتا ہوں تم میرے ساتھ ایک پوری رات گزارو۔“ اُس وقت وہ باہر نظاروں میں گُم تھی۔ تاحدّ نظر دھان کے سر سبز کھیتوں کے پھیلاؤ نے دھرتی پر گہر ے سبزے کے جیسے قالین بچھا رکھے تھے۔ اِن← مزید پڑھیے
جب آپ کسی سسٹم کا حصہ ہوتے ہیں تو آپ دراصل اس سسٹم کے بہترین شاہد ہوتے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کر کے ایک سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے بعد کچھ واقعات نے← مزید پڑھیے
کیا آپ ماضی میں کسی ایسی چیز پر یقین رکھتے تھے جس کا بعد میں پتا لگا کہ یہ نری لغویات کے سوا کچھ نہ تھی؟ اور کچھ نہیں تو اس بارے میں گمان رہا تھا کہ شاید ٹھیک ہو؟← مزید پڑھیے
پاکستان کی ڈرامہ اندسٹری پہ بار ہا تنقید سننے کو ملتی ہے۔ اکثر یہی گِلہ سننے کو ملتا ہے کہ یہ ڈرامے معاشرے میں نفرت پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں اور انکے پاس تخلیقی موضوعات نہ ہونے کے برابر← مزید پڑھیے
اسّی کی دہائی تھی اور گھر سُنیوں کا تھا۔ لیکن ابھی ضیائیت کے بچھائے بیج کی فصل پک کر تیار نہ ہوئی تھی۔ سو شاید آخری نسل پروان چڑھی جہاں اہل بیت اطہار سلام اللہ علیھم اجمعین کسی چونکہ اگرچہ← مزید پڑھیے
یورپ میں جب نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کی تحریک اٹھی تو اس وقت جدید گروہ نے عیسائیت کے عقائد پر شدید تنقید کی، جن عقائد پر ان کی جانب سے تنقید کی گئی، ان میں سے ایک عقیدہ یہ تھا کہ← مزید پڑھیے
وہ جنوبی پنجاب کے ایک پس ماندہ علاقے کا نوجوان ہے۔ والد مزدور تھے، چنانچہ گھر چلانے کے لیے اس کی والدہ کو بھی چھوٹی موٹی گھریلو دستکاری پر کام کرنا پڑتا تھا۔ نوجوان کو پڑھنے کا شوق تھا۔ ٹیوشنز← مزید پڑھیے
میرا کمرہ۔۔۔کتنی سسکیوں کا رازدار۔ کتنی مسکراہٹوں کا گواہ، کتنی سرگوشیوں کا امین، اس کمرے نے میرے تسلط میں آنے تک اور میں نے اس کی آغوش میں پناہ لینے تک ارتقاء کی کئی منازل طے کی ہیں۔ جانے میں← مزید پڑھیے
لکھا کرے کوئی احکام ِ طالع ِ مولود کسے خبر ہے کہ واں جُنبش ِ قلم کیا ہے (غالب) —————— ستیہ پال آنند “لکھا کرے کوئی احکام ِ طالع ِ مولود” حضور، “کوئی” سے آخر مر اد کیا ہے یہاں؟← مزید پڑھیے
سوچ و فکر کے دائرے تنگ ہوں تو وسعت قلب و ذہن کی توقع بھی حسرت کا کفن اوڑھ لیتی ہے کہ اخلاقی لحاظ سے روبہ تنزل افرادحسد ، بغض، تعصب اور لالچ کی آگ میں مسلسل جل کر ہر← مزید پڑھیے
اعجاز چوہدری،چار بچوں کا باپ، جس کی عمر۲۶ سال تھی اور وہ شیز وفرینیا کا مریض تھا۔ ایک تعارف یہ ہے اور ایک تعارف یہ بھی ہے ایک مہاجر، ایک دماغی مریض اور ایک براؤن۔۔اور ایک مسلمان! یہ دو طریقے← مزید پڑھیے
باوجود اس بات کے کہ میں ذاتی طور پر لاک ڈائون کا حامی تھا اور وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے لاک ڈائون ختم کرنے کے حق میں نہیں تھا، اب مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں رتی برابر← مزید پڑھیے