نسبت کی غلطی(Fundamental Attribution Error) ۔۔وہارا امباکر

کیا آپ ماضی میں کسی ایسی چیز پر یقین رکھتے تھے جس کا بعد میں پتا لگا کہ یہ نری لغویات کے سوا کچھ نہ تھی؟ اور کچھ نہیں تو اس بارے میں گمان رہا تھا کہ شاید ٹھیک ہو؟ برمودا مثلث؟ آسیب زدہ گھر؟ نجومی؟ اڑن طشتریاں؟ روشنیوں سے علاج؟ قدیم ترقی یافتہ تہذیبیں؟ قبرستان میں چڑیل؟ چھٹی حس؟ بنگالی بابے کے قابو کئے ہوئے جن؟ زائچے؟ ٹیلی پیتھی؟ مچھلی کے بعد دودھ پینے سے بچنا؟ کالی بلی کا سامنے سے گزرنا؟

ہم سب زندگی میں مختلف تجربات سے گزرتے ہیں۔ کیونکہ ہم سب کے پاس اپنی زندگی کے آغاز میں انفارمیشن صفر ہوتی ہے۔ مثلاً، کسی نے بتایا کہ چاند پر گئے مشن غلط ہیں اور ساتھ چار چھ “ثبوت” دے دئے۔ اس بارے میں زیادہ انفارمیشن نہیں تھی، اس لئے ان پر یقین کر لیا۔ کئی بار ایسے جھوٹے یقین بہت عرصہ رہ بھی جاتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ کو اپنے ماضی کے ایسے چند خیالات آئے ہوں گے۔ ایسا کیوں تھا؟

اس کے پیچھے کئی فیکٹر ہو سکتے ہیں۔ یہ ہمارے کلچر اور سوشل دائرے میں عام ہو سکتے ہیں۔ یہ سمجھنے کے لئے کہ یہ کیوں غلط ہیں، ایسے علم کی ضرورت ہو سکتی ہے جو ہمارے عام تجربے سے باہر ہو۔ کسی صحافی کی غلط رپورٹنگ یا مس انفارمیشن پھیلانے والوں کی اچھی کہانی اس میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ یا یہ ہمارے زندگی کے تجربات کا ایک رینڈم خلا ہو سکتا ہے۔

جبکہ اگر آپ کو پتا لگے کہ اس قسم کی کسی لغویات پر یقین اس وقت کسی اور کا ہے؟ ہم اس سے جلد یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ وہ شخص یا تو بھولا ہے یا جاہل یا پھر اس کا یہ یقین رکھنا اس کو کوئی ولن بنا دیتا ہے۔ وہ بندہ کچھ ٹھیک نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب ان دونوں وضاحتوں میں فرق دیکھیں۔ ہم خود اس وقت حالات کا شکار تھے اور اس یقین کی وجہ بیرونی عوامل تھے۔ جبکہ دوسرے کے اس یقین کی وجہ اس کے اندرونی عوامل تھے جو اس معاملے میں اس شخص کی خاصیت ہے۔ اس کو بنیادی نسبت کی غلطی (fundamental attribution error) کہا جاتا ہے۔

اس تعصب کی ایک وجہ انفارمیشن کی کمی ہے۔ آپ خود اپنے پر بیتے حالیہ واقعات اور عوامل سے آگاہ ہیں جبکہ دوسرے سے نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بازار میں آپ نے دیکھا کہ کسی شخص نے اپنے بچے کو درشتی سے جھڑک دیا۔ اس کے بارے میں رائے قائم کرنا آسان ہے کہ یا تو اس میں برداشت کی کمی ہے یا وہ برے والدین ہیں۔

پھر کسی روز بازار میں آپ اپنے بچے کے ساتھ ہیں۔ وقت کی کمی ہے۔ تین کام ہیں جو مکمل کرنے ہیں۔ صبح شریکِ حیات سے کچھ کھٹ پٹ بھی ہوئی تھی۔ دفتر میں کام کا دباوٗ زیادہ ہے۔ حال میں ہی آپ کے قریبی عزیز کا انتقال ہوا تھا۔ آپ کے بچے نے چھوٹی سی شرارت کی اور آپ نے اپنے عام سٹائل سے ہٹ کر اسے بڑی درشتی سے جھڑک دیا۔ دیکھنے والے راہگیروں نے اندازہ لگا لیا کہ آپ ایسے ہی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افسانے اور ڈرامے لکھنے والے سکرین رائٹر اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ کہانی میں آپ کو ڈرامے کے مرکزی کردار کی نظر سے دنیا کو دکھاتے ہیں۔ وہ کردار ایک عام سچوئشن میں نہیں ہے۔ وہ ایسی حرکت کرتا ہے جو نارمل نہیں۔ اس پر پڑنے والی نگاہیں سوالیہ ہیں یا حقارت والی۔ آپ کو اس کردار سے ہمدردی ہے کیونکہ آپ کو پتا ہے کہ وہ کس صورتحال سے گزر رہا ہے۔ آپ ان حقارت بھری نظروں کو ناپسند کرتے ہیں۔ “یہ لوگ کیسے پہلے سے رائے قائم کر بیٹھے ہیں۔ اس کی نظر سے کیوں نہیں دیکھتے”۔

اپنی روزمرہ زندگی میں ہم راہگیر ہیں۔ ہم کسی کے رویے کے عوامل سے آگاہ نہیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنے اس تعصب سے واقف ہوں لیکن بہت بار اس کا شکار ہوتا ہوں۔

کوئی اپنی جادوئی پھکی اس لئے بیچ رہا ہے کہ وہ لالچی ہے؟ یہ رائے بنانے سے پہلے ٹھہر جائیں۔ (مذہبی لٹریچر میں اس کو توقف کہا جاتا ہے یعنی اپنی رائے کو سنبھال لیں)۔ ہو سکتا ہے کہ اسے کوئی ایسا طاقتور تجربہ ہوا ہو جس سے اس نے غلط نتیجہ نکالا ہو؟ ہو سکتا ہے کہ اسے اپنے قریبی اور قابلِ اعتماد شخص کی بات پر بھروسہ ہو؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کریٹیکل سوچ، اپنی ناقابلِ اعتبار یادداشت، ذہنی تعصبات، منطقی مغالطوں وغیرہ کے بارے میں پڑھنے میں ہمیشہ یہ asymmetry ملتی ہے۔ ان اصولوں کو ہم دوسروں پر تو استعمال کرتے ہیں، خود پر نہیں۔ اس کو ہم کریٹیکل سوچ کے علم کی ٹریجڈی کہتے ہیں۔ دوسروں کی یادداشت ناقابلِ اعتبار ہے؟ میری بھی ہے۔ دوسرے اپنے علم کے بارے میں زیادہ گمان رکھتے ہیں؟ میں بھی یہی کرتا ہوں۔

ہم خود کو شک کا فائدہ دیتے رہتے ہیں۔ تصور کریں کہ اگر ہم عادتاً یہی کام دوسروں کے ساتھ بھی کر سکیں۔ ان کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے پوچھ لیں کہ جو انہوں نے کیا تھا، وہ کیوں کیا تھا؟ جو کہا تھا، وہ کیوں کہا تھا؟ اور اگر کوئی اندازہ لگانا ہی ہے تو شک کا فائدہ دے کر لگا لیں۔ (مذہبی لٹریچر میں آپ حسنِ ظن کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں)۔ رائے کو روک لینا ایک اچھی حکمتِ عملی ہے۔ (ایسا ضرور ہے کہ یہ کرنے سے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر آراء کا سرکس کچھ ماند پڑ جائے گا)۔

خبروں میں آنے والے لوگوں کے بارے میں فوری رائے قائم کرنے میں ہم چیمپئین ہیں۔ اور اس رائے کے لئے معمولی ترین انفارمیشن بھی کافی ہوتی ہے۔ جب مکمل کہانی ابھرتی ہے تو وہ عام طور پر اس سے مختلف ہوتی ہے جو لوگوں نے فرض کی ہوتی ہے۔ (اور بہت سے لوگ اسے بھول کر اگلی معمولی ترین انفارمیشن کی بنیاد پر کہانیاں بنا کر دھڑا دھڑ آگے بڑھانے کے مشغلے میں مصروف ہو چکے ہوتے ہیں)۔

اگر آپ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو بنیادی نسبت کی یہ غلطی ہر وقت دیکھتے رہتے ہوں گے۔ نہ صرف دوسرے کے ارادے کو پہلے سے فرض کر لیا جاتا ہے بلکہ ان کے آرگومنٹ اور پوزیشن کو بھی۔ دوسرے کی بات کو سنے بغیر، اس کی پوزیشن کو سمجھے بغیر، اسے وضاحت کا موقع دئے بغیر، اس کی پوزیشن کی بہترین توجیہہ کئے بغیر بھوسے کے پتلوں کو لوہے کے ڈنڈوں سے پیٹنے والے اتنے زیادہ کیوں ہیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ فنڈامنٹل ایٹریبیوشن ایرر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سازشی تھیوریوں میں اس ایرر کا استعمال بکثرت نظر آئے گا۔ اس کی حرکتیں کچھ عجیب کیوں تھیں؟ فلاں الفاظ کیوں استعمال کئے؟ جب آپ باہر سے دیکھ رہے ہیں تو ہر عجیب چیز میں کسی کی بدنیتی نظر آئے گی۔ اسے لوگوں کے اندرونی ارادوں کو جانچا جائے گا۔ مثلاً، ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت گرنے سے پہلے فائر مارشل نے pull it کیوں کہا؟ یہ یقیناً عمارت اڑانے کا آرڈر تھا!! (نہیں، عمارت سے باہر نکلنے کے لئے یہی کہا جاتا ہے)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے اس تعصب سے چوکس رہنے کی ضرورت ہے لیکن اسے ٹھیک کرنا آسان ہے۔ سب سے پہلے یہ تسلیم کریں کہ آپ کے پاس تمام انفارمیشن نہیں ہے۔ دوسرا، توقف۔ تیسرا حسنِ ظن۔ (ان اصولوں کو ہم گھریلو جھگڑوں کی شدت میں کمی کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں)۔

تصور کریں کہ دوسرا شخص اپنی فلم کا کردار ہے۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اس کی فلم کی کہانی کیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *