یہ کہانی ہے کمرے کی۔۔کنزیٰ خالق

میرا کمرہ۔۔۔کتنی سسکیوں کا رازدار۔ کتنی مسکراہٹوں کا گواہ، کتنی سرگوشیوں کا امین، اس کمرے نے میرے تسلط میں آنے تک اور میں نے اس کی آغوش میں پناہ لینے تک ارتقاء کی کئی منازل طے کی ہیں۔ جانے میں کمروں سے بھاگتی، کھلی ہوا کی متلاشی رہی یا کمرے مجھ سے گریزاں رہے۔

مشرق کے روایتی مخلوط خاندانی نظام میں کمرہ، ذاتی کمرہ۔ ایک بہت بڑی عیاشی تصور کیا جاتا ہے۔ بہت چنیدہ لوگ ہی اس عیاشی کے متحمل ہوسکتے ہیں اور جانے خوش قسمتی سے یا بدقسمتی سے، ہم  ان لوگوں میں شامل نہیں ہیں۔ زندگی کے ہر موڑ پر کمرہ بانٹناپڑا۔ ہاسٹل کے دو سال بھی کمرے کی محبت میرے دل میں جگانے میں ناکام رہے۔ ڈپارٹمنٹ اور ادبی فورم کی دو کشتیوں کی تھکادینے والی مسافت کے بعد کمرے کی بجائے ایک آرام دہ بستر کی حاجت زیادہ شدت سے محسوس ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ دو سال کے مختصر عرصے میں تین کمرے بدلے۔ اور ان کمروں کے ساتھ نظر کے زاویے بھی۔ ہر کمرے کی کھڑکی نے سوچ کے نئے در وا کیے’ تو کمرے کے مکینوں نے رنگ رنگ کے رویے برتنے سِکھائے۔

کمرہ در کمرہ ہجرتوں اور تجربوں کابارِ گراں اٹھائے میں گھر لوٹی تو وہ منتظر تھا۔ گویا میری ہی راہ تک رہا ہو۔میرا موجودہ کمرہ۔۔۔ کمرہ کیا ہے، ایک بستر،اس کے قرب و جوار میں سجی میری مختصر سی دنیا اور دنیاکو سینت کر رکھنے کی کوششوں میں ہلکان ہوتی   میں۔دن بھر کی تھکن چُنتا تکیہ خوابوں کی سہولت دیتا ہے۔کوئی خواب تکیے سے سِرک کر سرہانے جاٹکتا ہے اور ہر صبح اپنی تکمیل کی یاددہانی کراتا ہے تو کوئی آنکھوں کے زینے اترتا دل میں جاپناہ لیتا ہے۔ سب کی نظروں سے اوجھل، دل کے کسی کونے میں پڑا میٹھی سی کسک سے اپنے ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ایک کونے میں دھرا رنگوں کا جہاں اور اس میں مقید دھنک رنگ دنیا ۔جو للچاتی ہے، ترغیب دیتی ہے اور فرصت کا تقاضا کرتی ہے۔ دوسری طرف کتابوں کا ایک طویل اور قدیم شیلف جس پر دھری نصاب اور مطالعے کی کتابوں کے آس پاس آج بھی داداجان کی  کتابوں کی مہک سانس لیتی ہے۔ وہ کتابیں جو ان کی وفات کے بعد نشانی کے طور پر بانٹ لی گئیں اور ہمارے حصے میں آیا ان کا مختصر   لیکن پُرسکون سا کمرہ۔بستر کی دائیں جانب جانے کس رو میں بہہ کر سجایا گیا  دنیا کا نقشہ، جو تکیے سے فرار پاتے خوابوں کو پنکھ لگادیتا ہے۔ اس کے پہلو میں چسپاں کچھ یاددہانیاں،جو نفسیات کے نصاب سے متاثر ہوکر کمرے کی زینت بنائی گئی ہیں۔کمرے کے بیچوں بیچ مطالعے کی میز ۔۔ اس پر دھرا ٹیبل لیمپ، بائیں ہاتھ پر بک شیلف اس میں ترتیب وار سجی شائع شدہ تخلیقات کی نشانیاں اور منتخب کتب کا قیمتی ذخیرہ۔۔ انہی کے بیچ خاموشی سے دھری ڈائری!

میری چھوٹی ہمشیرہ جنہیں میری موجودہ روم میٹ ہونے کا شرف حاصل ہے ان سے کمرے کی بتی بجھانے کے مسئلے پر ایک طویل بحث ہوتی ہے۔پرائیویسی کا یہ عالم ہے کہ چھوٹے بھائی گزرتے گزرتے بھی کمرے کا دروازہ کھول کر جھانکنا اور تفتیش کرنا فرضِ عین گردانتے ہیں۔صحن کی قربت کے باعث جہاں بارشیں دعوتِ نظارہ دیتی ہیں وہیں آندھیاں ہولاتی ہیں۔ اور کرکٹ کے متوالوں کے شوق کا تاوان ہمیں کمرے میں نظر بند ہونے کی صورت ادا کرنا پڑتا ہے۔بصورتِ دیگر وقت بے وقت بیدار ہونے والی شاہد آفریدی کی روح گیند سے کسی کے چودہ طبق روشن کرکے ہی دم لیتی ہے۔

صبح بستر سمیٹ کر کمرے سے نکلنا اور چند منٹ بعد ہونے والی واپسی پہ قدم بوسی پہ آمادہ بستر کی چادر اور سرہانوں کی بدلی ہئیت، بیرونی حملے کا عندیہ دیتی، منہ چڑاتی ہے۔

کمروں سے اس قوم کی محبت کا یہ عالم ہے  کہ ڈرائنگ روم، بیڈ روم کی بجائے سونے والا کمرہ، ٹی وی والا کمرہ، قالین والا کمرہ، اے سی والا کمرہ، مہمانوں والا کمرہ کہنے میں دلی خوشی محسوس کرتے ہیں۔اور اس قوم کی فخریہ پیشکش ہونے کے ناطتے ہم بھی اس تابندہ روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔کیونکہ ہمارے گھروں میں ایک کا بیڈ روم دوسرے کا ڈرائنگ روم ہوتا ہے۔۔ اور ٹی وی کے سامنے گاؤ تکیے سے ٹیک لگائےٹانگیں دراز کرکے بیٹھے بغیر نہ تو چیختی چنگھاڑتی خبروں کا سِرا ہاتھ آتا ہے اور نہ ڈرامے سے کوئی جذباتی وابستگی محسوس ہوتی ہے۔

خیر اب تو اپنے کمرے میں لیپ ٹاپ ٹانگوں یا میز پر دھر کر ذاتی سینما سے محظوظ ہونے کا دور ہے۔

میرے کمرے میں انسانی بقا کے لئے ضروری تصور کیے جانے والے تمام لوازمات موجود ہیں۔ سٹیشنری کا کوئی سامان درکار ہو تو ٹیبل پر دھرا پنسل باکس اور اس کے قرب و جوار میں موجود اشیاء کے استعمال کے لئے کسی کو میری اجازت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔۔ سٹیپلر،ناخن تراش، کنگھی، بال پوائنٹ، پیپر، فائلز، مہندی، چوڑیاں، ناخن پالش،سکاش ٹیپ، گوند، قینچی۔۔غرض چھوٹے بڑے۔۔ ہر ایک کی دلچسپی اور ضرورت کی ہر چیز اس چھوٹی سی پٹاری میں دستیاب ہے۔۔ یہ اور بات کہ جب مجھے کسی شے کی ضرورت پیش آئے تو اپنی چیز کی تلاش میں پورے گھر کی تلاشی لینی پڑتی ہے۔

غرض میرا کمرہ محض میرا کمرہ نہیں بلکہ رفاہِ عامہ کا ایک ادارہ ہے جس سے ہر ایک اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق فیض پاتا ہے۔ ایک غیر معروف عالمی سروے کے مطابق ضرورت کے وقت بڑا شاپر اورجمعے کے دن ناخن تراش ہمیشہ آنکھ مچولی کھیلتے ہیں۔ لیکن میرے کمرے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس  در سے کوئی  خالی ہاتھ نہیں جاتا۔۔

ناخن تراش کی تلاش ہو یا چارجر کا تقاضا، ڈھونڈنے والے کی منزل یہی کمرہ ٹھہرتا ہے۔

بات میرے کمرے سے شروع ہوکر یہیں آکر ختم ہوتی ہے۔۔ کہ میں اپنے کمرے سے نکلوں تو کچھ اور سوچوں۔

اس کمرے کا اپنا آسمان ہے اور اپنی زمین۔۔تاحال اس سے زیادہ کی حاجت محسوس نہیں ہوتی۔۔

ایک شعر میرے کمرے کی نذر۔۔ (راحت اندوری سے معذرت اور اس میں حسبِ ضرورت بے ضرر سی ترمیم کے ساتھ)

میرے “کمرے” میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو،

آسماں لائے ہو؟ لے آؤ۔۔۔ زمیں پر رکھ دو!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *