خامہ بدست غالب۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

سلطنت دست بدست آئی ہے
جام ِ مئے خاتم ِ جمشید نہیں
———-
نوٹ۔مر زا غالب کے شعرکی تقطیع “فاعلاتن فعلاتن فعلن”سے ممکن ہے۔ میں نے اپنی جد ت طراز طبعیت کی تسکین کے لیے اس مکالمے میں بحرخفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع (فاعلاتن مفاعلن فعلن)کو روا رکھا ہے۔ (س۔پ۔آ )

ستیہ پال آنند
سلطنت سے ہے کیا مراد، حضور؟

مرزا غالب
ملک، اقلیم، منظقہ، کشور
کسی سلطان، آ مر و حا کم
کی قلمرو ، نظامت و دولت
سلطنت خسروی ہے نسل بہ نسل

ستیہ پال آنند
گویا میراث ہے، یہ ورثہ ہے؟

مرزا غالب
ہاں، یقیناً ! درست سمجھے تم
پھر، بھلا، اس پہ اعتراض ہے کیا؟

ستیہ پال آنند
کچھ نہیں، بات صرف اتنی ہے
سیدھا نسخہ ہےشعر کہنے کا

پہلےکرلو محاورہ اک نظم
کام کی بات اس کے بعد کہو
من وعن، جوں کا توں ، مشار الیہ
اور پھر اس کے ساتھ فی الجملہ
ٹانک دیں اپنا مقصد و مقصود
“جام ِ مئے خاتم ِ جمشید نہیں
“سلطنت دست بدست آئی ہے”

مرزا غالب
اس الٹ پھیر میں، عزیز ِمن
خون ہو جائے گا معانی کا
مصرعے دونوں ہی بول کر دیکھو
اور خود ہی سنو توغل سے

ستیہ پال آنند
بندہ پرور! سمجھ گیا یہ بات
ایسے اشعار میں ضروری ہے
پہلے نفس الامر کہا جائے
اور پھر، بعد میں، دلیل و ثبوت

مرزا غالب
خوب سمجھے، عزیز ِ من یہ بات
اب کہو، کوئی اور رد و قدح؟

ستیہ پال آنند
“جام مئے خاتم ِ جمشید نہیں
جام مے، ایک خاص الخاص
جام ِ جمشید جس کو کہتے ہیں
اس کا ہے تذکرہ ، تو عرض کروں؟

مرزا غالب
ہاں، اسی کا ہے تذکرہ، آنند
اپنے سب جام تو ہیں جامِ سفال
وہی اک جام تھا کہ دونوں جہاں
عکس در عکس اس میں تھے پنہاں

ستیہ پال آنند
آپ کے قول کے مطابق تو
اس کو بھی ہاتھوں ہاتھ آنا تھا
(سلطنت کی طرح ہی ، بندہ نواز)
سلطنت اور جامِ جم دونوں
بادشاہت کا ترکہ و میراث
ایک جیسے ہیں اپنی فطرت میں
اس حوالےسے زیربحث یہ شعر
اک تبدل میں بٹ گیا ہے،حضور
آپ کو کہنا چاہیئے تھا، جناب
“جام ِ مے خاتم ِ جمشید بھی ہے”

مرزا غالب
اغلباً تم درست کہتے ہو
پھر بھی یہ شعر صاف، واضح ہے
اپنے مطلب میں بین و شفاف

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *