• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سوشانت سنگھ راجپوت: ایک شخص کو کامیاب ہوتے دیکھا اور پھر۔۔۔اسرار احمد

سوشانت سنگھ راجپوت: ایک شخص کو کامیاب ہوتے دیکھا اور پھر۔۔۔اسرار احمد

سوشانت سنگھ راجپوت کو میں نے پہلی مرتبہ ایک ڈرامے میں دیکھا ۔جس میں انہوں نے ایک غریب گھرانے کے نوجوان کا کردار ادا کیا، جو کہ اپنی بد مزاج ماں کے ساتھ رہتا تھا، یہ شاید 2009/10 کی بات ہے ۔سکول کے دن تھے۔اکثر ٹی وی دیکھتے ہوئے زی ٹی وی پر وہ ڈرامہ آرہا ہوتا تھا۔بہت سے لوگوں کی طرح مجھے بھی انڈین ڈراموں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں لیکن یہ شاید اس کی جاندار اداکاری کا اثر تھا کہ میں کچھ دیر کے لیے دیکھنے لگ جاتا اب جانے اس ڈرامے کی کیا کہانی تھی لیکن سوشانت کے کام سے متاثر ضرور ہوا تھا۔

پھر کچھ دنوں بعد ایک ایوارڈ شو میں انہیں اسی ڈرامے کی وجہ سے بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی ملا۔ اکشے کمار اس ایوارڈ شو کے خاص مہمان تھے اور انہی کے ہاتھوں سوشانت نے وہ ایوارڈ حاصل کیا۔مجھے یاد ہے کہ وہ ایوارڈ شو دیکھتے ہوئے میں نے ایک بات نوٹ کی کہ ٹی وی کے سب اداکار اکشے کمار سے بہت متاثر نظر آرہے تھے ان کے کام کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کیونکہ وہ ایک فلمی اداکار تھے اور انڈیا میں جتنا نام اور عزت ایک فلمی اداکار کے ہاتھ آتی ہے اتنی  ٹی وی ایکٹر کو نہیں ملتی، اور فلم میں کام کرنا ایک ٹی وی اداکار کا خواب ہوتا ہے۔یہ دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ کتنا اچھا اداکار ہے اسے تو فلموں میں بھی ہونا چاہیے۔لیکن زیادہ تر یہ دیکھا گیا ہے کہ ٹی وی کے ایکٹرز کو ہمیشہ چھوٹے کرداروں میں ہی لیا جاتا ہے۔آپ بھلے جتنے اچھے اداکار ہوں اگر آپ کا تعلق کسی بڑے فلمی گھرانے سے نہیں تو آپ کو مرکزی کردار ملنا بہت مشکل ہے۔

خیر اس کے ایک دو سال بعد جب سوشانت سنگھ کی پہلی فلم کائی پوچی کا ٹریلر دیکھا تو بہت خوشی ہوئی اور میرے ذہن میں وہ ایوارڈ شو گھوم گیا۔اور یقین ہو گیا کہ یہ بندہ ضرور کامیاب ہوگا۔اور وہ کامیاب ہوا بھی۔۔ایم ایس دھونی کا کردار ہو یا پی کے میں سرفراز کا کردار۔۔۔سب فلموں میں ہی بھرپور اداکاری کرکے ثابت کیا کہ کامیابی پر اسکا بھی حق ہے لیکن میں اس سے صرف اسکی فلموں یا اداکاری سے متاثر نہیں  ہوا تھا میں نے اسکی صرف پہلی فلم مکمل دیکھی اور آخری فلم چچھورے آدھی دیکھ کر چھوڑ دی تھی،میں تو اس لیے متاثر ہوا تھا کہ اس نے ایک مثال قائم کی تھی کہ  کسی بڑے اداکار،پروڈیوسر یا ڈائریکٹر کی اولاد نہ ہونے کہ باوجود بھی صرف اپنی قابلیت اور محنت سے کامیاب ہوا جاسکتا ہے۔میں نے تو اپنی آنکھوں کے سامنے اسے کامیاب ہوتے ہوئے دیکھا تھا،شعبہ چاہے جو بھی ہو  کامیابی صرف محنت اور لگن سے ملتی ہے۔

چند روز پہلے  جب اس کے مرنے کی خبر سنی تو سب کچھ یاد آنے لگا ،اس کی خود کشی کی خبر سن کر بہت سے لوگوں کی طرح مجھے بھی حیرانی ہوئی کہ ایک شخص جس کی آخری فلم تھی ہی اس موضوع پر کہ خودکشی نہیں کرنی چاہیے اور وہ خود ہی۔۔۔خیر اس سے یہ بات تو واضح طور پر عیاں ہوگئی کہ یہ سب چکا چوند   جعلی ہے،بظاہر پردے پر خوشحال نظر آنے والے اور لاکھوں مداحوں کے باوجود بھی یہ لوگ کتنے  کمزور، کتنے  اکیلے ہوتے ہیں۔شہرت خوشیوں کی ضمانت نہیں ہوتی۔کوئی صرف چند چاہنے والوں کے ساتھ بھی خوش رہتا ہے اور کوئی لاکھوں کے باوجود بھی نہیں رہ پاتا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *