روایت کی موت ۔۔انعام رانا

اسّی کی دہائی تھی اور گھر سُنیوں کا تھا۔ لیکن ابھی ضیائیت کے بچھائے بیج کی فصل پک کر تیار نہ ہوئی تھی۔ سو شاید آخری نسل پروان چڑھی جہاں اہل بیت اطہار سلام اللہ علیھم اجمعین کسی چونکہ اگرچہ چنانچہ کے بنا مشترکہ تھے۔ نہ تو شیعوں نے ان پہ حق ملکیت مکمل کیا تھا کہ شخصی اختلاف پر بھی دشمن اہل بیت ع کا نعرہ لگا دیں اور نہ  ہی سُنی ان کا ٹھیکہ شیعوں کو دے کر دس محرم کو کرکٹ کھیلنے نکل پڑے تھے۔ محرم کا احترام کسی آرڈیننس سے نہیں بلکہ صدیوں سے موجود روایات سے قائم تھا۔ منبر پہ بیٹھے ذاکر مذہب اور تاریخ کے ساتھ زبان و ادب کے بھی ماہر تھے اور سامعین بھی رونے کیلئے فقط غم حسین علیہ سلام پہ قانع تھے۔ منبر سے ذو معنی گفتگو تب بھی ہو جاتی تھی، کوئی نعرہ سامعین سے بھی لگ جاتا تھا مگر خود اہل تشیع میں اسے خاص پذیرائی نہ  تھی۔ رہے سنی، تو محرم کی سبیلیں لگاتے اور نیاز کھاتے اور ختم دلاتے تھے اور جو شخص محرم کے غم میں مبتلا نہ دکھے اسے “وہابی لگدا اے” پکار لیتے تھے۔

اسی دور کی، جسے گزرے تاریخ کی کتاب کا پیرا بھی مکمل نہیں ہوا مگر اثرات نسلوں پر ڈال گیا، ایک بچہ اپنے باپ کی گود میں بیٹھا واحد ٹی وی چینل پی ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ بچے کو کیا معلوم کہ شام غریباں کیا ہے یا سامنے یہ اونچے بیٹھے صاحب کے گرد آہ و بکا کیوں برپا ہے۔ وہ تو دیکھتا تھا کہ ہمیشہ ہی سنجیدہ رہنے والے باپ کا چہرہ مزید سنجیدہ ہے اور ماں کے آنسو نہیں رکتے۔ طالب جوہری کا نام جانتے تو بچے کو کچھ اور شام غریباں لگیں ،مگر انکا چہرہ اس کے بچپن کی یاد بن گیا۔ زمانے بیت گئے، وقت اور روئیے بدل گئے، بچے کو گود میں اٹھانے والا باپ گور جا پہنچا، بچہ چالیس کی عمر کو آن لگا مگر آج بھی طالب جوہری اپنے مخصوص انداز میں مجلس شروع کرتے تھے تو وہ فوراً سے اپنے باپ کی گود میں جا بیٹھتا تھا۔ طالب جوہری اس کیلئے اسکے باپ کے قرب، اسکی گود کی گرمائش کا استعارہ تھا، اسکے بچپن کی حسین یاد تھے۔

کچھ عمر بڑھی، کچھ کتب کو چاٹا اور اہل علم کے قدموں میں بیٹھے تو اندازہ ہوا کہ طالب جوہری کیا ہیں۔ ہر سال فقط ایک گھنٹے میں فصاحت و بلاغت، علم، فلسفہ، تاریخ، عقیدہ اور حسن و معنی قرآن کی ایک آبشار پھوٹتی تھی اور سامع دنگ ہو کر جملے جوڑتا جوڑتا ان آخری پانچ سات منٹ تک آ جاتا تھا جہاں اسلامی تاریخ کے عظیم ترین ظلم پہ خود آبشار شدت غم سے بھیگتے بھیگتے سوکھ جاتی تھی۔ کون تھا جو اپنا مسلک و عقائد اس ایک گھنٹے کیلئے طاق پہ رکھ کر مجلس جوہری میں فرش پہ نہ بیٹھ جاتا تھا۔ اور ہائے کس قدر بدنصیب ہو گا جو نہ  بیٹھا۔ اور خود طالب صاحب بھی کب شیعہ ذاکر بنے بیٹھے ہوتے تھے۔ وہ تو مفسر قرآن، ماہر علم الکلام، تاریخ دان اور فلسفی بنے علم کے موتی لٹائے جاتے تھے۔ آخری دس منٹ نا ہوتے تو شاید کوئی مانتا ہی نہ  کہ ایک شیعہ ذاکر مجلس پڑھنے بیٹھے ہیں۔

دلچسپ بات یاد آئی، اک بار جوہری صاحب کا ذکر چھڑا تو میرے ایک اہلحدیث دوست ہنستے ہوئے بتانے لگے کہ یار میرے سخت گیر والد کٹر وہابی ہیں مگر طالب جوہری کی شام غریباں کبھی نہیں چھوڑتے۔ بلکہ اک سال سنتے سنتے رو پڑے تھے تو اب اندھیرے میں سنتے ہیں۔ خود میرا یہ حال تھا کہ کئی سال اپنے اہل تشیع دوستوں کے ساتھ شب عاشور اندرون لاہور پھرتا رہتا تھا اور صبح اذان علی اکبر رض سن کر گھر آتا تھا۔ اک بار محسن شاہ نے شکوہ کیا کہ یار تو ہمارے ساتھ شام غریباں سننے کبھی نہیں گیا تو صاف جواب دیا کہ “نہ  بھائی جلوس کے چکر میں مَیں جوہری صاحب کی شام غریباں نہیں چھوڑ سکتا”۔

طالب جوہری صاحب کی یہ عام پسندیدگی بلاوجہ نہ  تھی۔ وہ روایت کے امین ہی نہیں بلکہ خود ایک روایت تھے۔ ایسی روایت جہاں علم محبت و اتفاق کے شیرے میں گوندھ کر نیاز کی مانند تقسیم ہوتا تھا۔ ہاں وہ ایک شیعہ تھے، شیعہ ذاکر تھے۔ مگر منبر پہ بلند ہو کر وہ کوئی ایسا جملہ نہیں کہتے تھے جو منبر کی شان سے نیچے ہو۔ وہ سامعین کو فقط رلانے نہیں آتے تھے بلکہ انکی تعلیم کرتے تھے۔ چودہ سو سال سے موجود اختلافی امور انکی تقریر میں کبھی آئے بھی تو وہ گزرتے گزرتے ان پہ   اپنا عقیدہ و موقف مہذب زبان سے بیان کرتے ہوئے گزر جاتے تھے، اسے منزل نہیں بنا لیتے تھے۔ سامعین کی واہ واہ کیلئے نہ  تبرا کی ضرورت ،نہ  نصیریت زدہ جملے۔ انکی تقریر کی منزل قرآن کا پیغام اور محبت و غمِ اہل بیت اطہار سلام اللہ علیھم اجمعین تھی۔ سامع خواہ کسی مذہب کسی مسلک کا ہو، وہ اسے بے چین کیے بِنا قرآن کے باغ سے  گزارتے گزارتے اس گھر تک لے آتے تھے جو عظیم تر ہے، جو میرے آقا و مولا صلی اللہ علیہ و آل وسلم کا گھر ہے اور جن کے گھر اور گھر والوں کی محبت ہم سب کا مشترکہ اثاثہ ہے۔

طالب جوہری چلے گئے کہ اک دن سب کو جانا ہے۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ مگر مجھے یوں لگا جیسے بچپن مر گیا، جیسے باپ کی گود چھن گئی، جیسے حسین یاد کھو گئی۔ کہیں پڑھا کہ جوہری صاحب کی موت مکتبہ تشیع کا بڑا نقصان ہے تو میں ہنس پڑا کہ انکی موت تو تمام مسلمانوں کا ہی نقصان ہے۔ مگر پھر سوچا کہ نہیں یہ واقعی مکتبہ تشیع کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔وسعت اللہ خاں نے درست لکھا کہ جوہری صاحب کا خلا کیا پُر ہو گا کہ وہ خلا ہی اپنے ساتھ لے گئے۔ کون باقی ہے کہ جسکی مجلس میں سنی شیعہ سر جھکائے تعلیم قرآن، حب اہل بیت اطہار ع اور غم کربلا کی آبشار میں اکٹھے بھیگیں، کون باقی ہے کہ جو اس دور پُرفتن میں سُنی اور شیعہ کو جوڑتی ہوئی آخری کڑی کہلائے، کون باقی ہے کہ جو منبر پہ چڑھتے اور اترتے وقت اپنا ایک سا احترام قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ طالب جوہری نہیں مرے صاحب، روایت مر گئی ہے۔ آپ نے گریہ کیا، اجرکم للّٰہ۔

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”روایت کی موت ۔۔انعام رانا

  1. درست تجزیہ فرمایا ہے. طالب جوہری ایک عظیم انسان، اسلامی مفکر اور زاکر اہلبیت رسول ص تھے، اللہ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *