• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا پولیس کو بھی شیز و فرینیا ہے یا کینیڈین پولیس متعصب ہے؟۔۔روبینہ فیصل

کیا پولیس کو بھی شیز و فرینیا ہے یا کینیڈین پولیس متعصب ہے؟۔۔روبینہ فیصل

اعجاز چوہدری،چار بچوں کا باپ، جس کی عمر۲۶ سال تھی اور وہ شیز وفرینیا کا مریض تھا۔ ایک تعارف یہ ہے اور ایک تعارف یہ بھی ہے
ایک مہاجر، ایک دماغی مریض اور ایک براؤن۔۔اور ایک مسلمان!

یہ دو طریقے ہیں اس انسان کے تعارف کے، جو  ا ب ا س دنیا میں نہیں رہا ہے۔ اس کو پولیس نے ہفتے کی رات آٹھ بجے گولیوں سے بھون دیا، جب اگلے دن اس کے بچوں کو اپنے باپ کے ساتھ فادرز ڈے منانا تھا۔۔ بچے سوچ رہے ہو نگے اپنے باپ کو اس فادرز ڈے پر  کیا سرپرائز دیں؟ ان کے منصوبے ابھی راستے میں ہی تھے کہ اعجاز چوہدری، جو کہ ایک ایسے دماغی مر ض میں مبتلا ہے جسے شاید تمام دماغی بیماریوں کا سردار کہا جا ئے تو بے جا نہیں ہو گا کہ اس میں مریض اپنے تصور کے زور سے ایسی ایسی دنیا بنا لیتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہو تا ہے۔ وہ آوازیں اور وہ تصویریں جو حقیقت میں کہیں نہیں ہوتیں، انہیں سنائی اور دکھائی دیتی ہیں۔۔کبھی ان کو لگتا ہے ہمیں کوئی مار دے گا اور وہ ایک انجانے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔۔ یہ ایک ایسا مرض ہے جس کی تفصیلات پڑھیں تو انسان اللہ سے دعا مانگتا ہے کہ خدایا ہمیں یا ہمارے پیاروں کو کبھی اس کرب میں مبتلا نہ کرنا۔ یہ تو ہے ایک باقاعدہ مرض جس کاباقاعدہ دوائیوں کے ساتھ علاج کیا جا تا ہے۔

اس باسٹھ سالہ اعجاز چوہدری کے ساتھ ایک اور کرب جڑا ہوا تھا جو ہم سب کا مشترکہ کرب ہے، جسے ہجرت کا کرب کہا جا تا ہے۔ اتنی بڑی بیماری کے نیچے یہ کر ب بھی دب جاتا اگر ان کو اردو اور پنجابی کے ساتھ ساتھ انگلش بھی آتی ہو تی۔ مگر انہوں نے شاید جب یہاں ہجرت کی ہو وہ عمر کے اس حصے میں ہو نگے جب سیکھنے سکھانے کے مر حلے گزر چکے ہو تے ہیں اور وقت انسان پر ٹھہر چکا ہوتا ہے۔ اس کا تعلق حقیقی عمر سے زیادہ ذہنی عمر پر ہو تا ہے۔ اور ان کی تصویر دیکھ کر خاص کر ان کی تصویر میں ٹھہری ہو ئی آنکھیں دیکھ کر صاف لگتا ہے وقت ان پر رک گیا تھا بہت پہلے سے۔۔

کوئی جینا چھوڑ بھی دے یا چھوڑنا چاہتا ہو تو اپنوں کا پیار زندہ رکھتا ہے۔ ان کے چار بچوں کو اپنے باپ کی ضرورت تھی، ان کے سائے کی ضرورت تھی۔۔ اس سائے کو ختم کرنے کا فیصلہ آر سی ایم پی نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔کس قانون کے تحت؟ اس کے جواب کی تلاش ہے یا قانون کی اس کمزوری کو ختم کر نے کی ضرورت ہے یا اس میں ترمیم کی ضرورت ہے جس کے تحت یہ سب کر دیا گیا۔

اعجاز چوہدری کی پو لیس کے ہاتھوں ایسی بے بس موت نے ہمیں جارج فلائیڈ کی موت کے   دکھ سے بھی زیادہ  دکھ  میں اس لئے مبتلا کر دیا کہ یہ انسانی فطرت ہے کہ آگ جب اپنے گھر کو لگتی ہے تو تب ہی دل جلتا ہے ورنہ دوسری کمیونٹی، دوسرے مذاہب یا دوسرے رنگ کے لوگوں کو جلتا دیکھ کر انگلیاں تک ہی سلگتی ہیں۔۔۔۔ اعجاز چوہدری، ہم جیسا تھا، اس کا رنگ،  اس کا بیک گراؤنڈ، اس کا مزاج اورہجرت کے مراحل۔۔ اس لئے، ہر مسلمان، ہر براؤن سکن والے کو لگا یہ پو لیس، صرف اعجاز چوہدری کے اپارٹمنٹ میں سیڑھی لگا کر نہیں کودی بلکہ ان کے اپارٹمنٹ، ٹاؤن ہوم، سیمی یا ڈی ٹیچڈ میں گھس آئی ہے اور یہ صرف مالٹن پولیس نہیں یہ ملٹن، برامپٹن، ٹورنٹو، سکاربرویا مسسز گا پو لیس ہے۔۔ اس معصوم صورت، شرافت اور محبت سے بھری تصویر، جو، ان کی موت کی خبر کے ساتھ ہر جگہ پبلش ہو رہی ہے،میں ہر ساؤتھ ایشئین، مسلمان مہاجر کو اپنا ہی عکس نظر آیا۔اس لئے اس ظالمانہ قتل پر ہر کو ئی چیخ اٹھا، اور ہر ایک کے سینے میں درد کی لہر اٹھی۔

پیرا میڈیکس کے ساتھ پو لیس کو کیوں بلایا گیا اور پولیس اگر آئی تو وہ ایک ذہنی بیمار سے کیسے خوفز دہ ہو گئی کہ وہ ان پر یا خود پر حملہ کر دے گا؟ جیسا کہ ایسے مریض کچھ بھی کر سکتے ہیں تو کیا ایسا پیرا میڈیکس یا پولیس کو نہیں پتہ تھا؟ یا صرف اس کے چہرے پر داڑھی اور آنکھوں میں وحشت دیکھ کر پولیس نے خود ہی سب اندازے لگا لئے یا اندازے بھی نہیں لگائے بلکہ نتیجے پر پہنچ گئے اور اس کو ایک خطرناک انسان تصور کر کے جان سے ہی مار دیا۔۔ کیا پولیس کو بھی شیز و فرینیا ہے؟
کہ وہ داڑھی سے، خاموشی سے، نہ رکنے سے نہ سننے سے ڈر جا تے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ یہ سب کر نے والا ایک انتہائی خطرناک مجرم ہے۔۔۔ اتنا کہ اس کی جان بھی لی جا سکتی ہے؟

کیا پو لیس متعصب ہے؟ یہ ہے دوسرا سوال ہے۔۔
یہاں کینیڈا میں، ہمیں جو ڈھکی چھپی، اور کبھی کبھار تعصب کی لہریں  محسوس ہو تی ہیں یہ اس کا اظہار تھا؟ اگر یہاں کا سسٹم مضبوط اور انسانوں کی برابری اور مساوات کا نہ ہو تو یقین مانئے، تعصب میں یہ مغربی ممالک ہمیں بھی کہیں پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔۔ مگر چونکہ یہاں کے نظام اور ان پر عمل مضبوط ہے اس لئے، ہم جیسوں کی بچت ہو جاتی ہے مگر جہاں اظہار کا موقع ملتا ہے یہ پوشیدہ جن اپنا آپ ضرور ظاہر کرتاہے جیسا کہ اس کیس میں بھی ہم نے دیکھا۔

اور اگر خدا نخواستہ شیز وفرینیا کا مریض ہو نے کی وجہ سے اعجاز چوہدری سے پولیس والوں پر گولیاں چل جاتیں تو کسی اخبار کی یہ سر خی نہ بنتی کہ “ایک ذہنی مریض نے گولیاں چلا دیں۔۔”
بلکہ ان کی رنگت اور داڑھی کو دیکھ کر خبر یہ بننی تھی کہ۔۔
” ایک دہشت گرد یا شدت پسند مسلمان نے پو لیس پر حملہ کر دیا۔”

اب تو ان کے ذہنی مرض کے سرٹیکفیٹ ڈھونڈے جا رہے  ہیں تب ان کے القاعدہ سے رابطے ڈھونڈے جا رہے ہو تے۔۔
اب ان کے غم زدہ لواحقین چیخ چیخ کر انصاف کے لئے دہائی دے رہے ہیں تب وہ چیخ چیخ کر اپنے باپ کی معصومیت، بے گناہی اور اپنے پاک دامن کی گواہیاں دے رہے ہو تے۔۔ شاید یہ جو ہوا، یہ گھاٹے کا سودا نہیں تھا، نفرتوں کے ایسے موسموں میں اعجاز چوہدری، خود مر کر اپنے خاندان کو ایک بہتر پوزیشن میں چھوڑ گئے ہیں ورنہ تو یہ زمین لواحقین پر تنگ ہو جاتی۔ میڈیا پروپیگنڈاکی زد میں آکر یہی” اپنی کمیونٹی” جو ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہو کر احتجاج کر رہی ہے،تب ان کے سائے سے بھی دور بھاگتی۔۔

اس ساری بدترین صورتحال میں، میں مرحوم کے خاندان کو ایک یہی مثبت رخ دکھا سکتی ہوں۔ یہ بات صرف ان کے دل کے قرار کے لئے ہے ورنہ اعجاز چوہدری کے لئے انصاف کا مطالبہ وہیں کا وہیں ہے۔۔ سالوں پرانے پو لیس قوانین میں اصلاحات کا مطالبہ اپنی جگہ ہے۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *