کرکٹ ورلڈکپ 2019 کا اختتام ہوا اور کیا خوب ہوا۔ فائنل میچ صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ اس ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی پاکستانی شائقین کی نظریں سیمی فائنلز پر مرکوز تھیں۔ اگرچہ پہلے میچ سے ہی پاکستانیوں کی← مزید پڑھیے
جب تک ریاست کوئی پوچھ گچھ نہیں کرتی تاجر کبھی یہ نہیں سوچے گا کہ وہ اتنا منافع تو ضرور لے جس میں سے ٹیکس بھی ادا کیا جاسکے۔ ریاست اگر اسے مجبور کرے گی کہ وہ پورا ٹیکس ادا کرے تو وہ اپنے اس ٹیکس کو صارف کی طرف منتقل کردے گا حتیٰ کہ وہ براہ راست ٹیکس جو کہ اس کی ذاتی آمدنی پر ہونا تھا وہ بھی صارف کی طرف منتقل کرنے سے باز نہیں آئے گا، اور ہر ٹیکس کو اپنی لاگت میں شامل کر کے صارف سے وصول کرلے گا۔← مزید پڑھیے
بھارت کے نامور صحافی وی ٹی راج شیکھر کا یہ مضمون بینگلور کے پندرہ روزہ جریدے ’’دلِت وا ئس‘‘ میں بیس سال قبل 16 مئی 1999 کو شائع ہوا تھا۔ ہم اس کا ترجمہ خاص طور پراُن پاکستانیوں کیلئے پیش← مزید پڑھیے
ظفر عمران کی افسانے کی پہلی کتاب آئی ہے اور میری کوشش ہے کہ اس کتاب پر بھرپور تبصرہ کروں مگر اس سے پہلے میں ظفر عمران سے اپنے تعلق کے حوالے سے کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ کہنے کو ظفر← مزید پڑھیے
یہ بات عام کہی جاتی ہے کہ انسان بولنا تو بچپن میں سیکھتا ہے۔ لیکن کب کیا بولنا ہے ، یہ سیکھنا عمر بھر کی مشق ہے۔ انسان کی پہلی تربیت گاہ گھر ہے پھر اساتذہ اور معاشرہ انسان کو← مزید پڑھیے
ہاڑ کے آخری دن ہیں۔جھلسے ہوئے دن،اِن دِنوں میں لُو لگ جاتی ہے۔فصلیں،پتے اَور سبزیاں مُرجھا جاتی ہیں۔سبزے کا پسینہ خشک ہو جاتا ہے۔نباتاتی زندگی کاحسن مُرجھاہٹ کاشکار ہے۔گھنے پیڑوں کو لُولگنے سے پتے پیلے پڑ گئے ہیں۔زیر زمین پانی← مزید پڑھیے
عمران سیریز کی تازہ ترین قسط کی کہانی کچھ یوں بن رہی ہے کہ خان صاحب نے اس تازہ پھڈے میں دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے نہ صرف گیند عدلیہ کے کورٹ میں پھینک← مزید پڑھیے
فیروز خاں نون پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم تھے وہ 1920 میں سیاسی میدان میں داخل ہوئے تھے اس لیے وزیر اعظم بننے سے پہلے بہت گہرا سیاسی تجربہ رکھتے تھے اور چونکہ وہ ملک غلام محمد اور سکندر مرزا← مزید پڑھیے
جانوروں اور انسانوں کا تعلق صدیوں پرانا ہے۔ گزرے زمانے میں دیہی طرز ِ زندگی کچھ ایسا تھا کہ ہر انسان کا جانوروں کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میل جول رہتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ لوگوں← مزید پڑھیے
بھول جانا اور صبر آ جانا رب کی بہترین نعمتیں ہیں۔ ہر انسان کی زندگی میں کئی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ کسی کا وفات پا جانا، کسی کا دور چلے جانا ، چھوڑ← مزید پڑھیے
تاریخی شعور کی کمی کے باعث ہمارے ہاں اب تک حملہ آور اور ہیرو کے درمیان فرق نہیں کیا جا سکا ہے۔ تاریخ کے عمل کو دلیل اور عقل کے بجائے جب جذبات کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے تو← مزید پڑھیے
جو کہا سب نے وہی ہم بھی کہا کرتے ہیں اُس پہ یہ زعم سُخن سب سے جدا کرتے ہیں وہ جو ,اُس دن نہیں برسا تھا ترے جانے سے لے کے آنکھوں میں وہی ابر پھِرا کرتے ہیں یاد← مزید پڑھیے
پاکستانی کرکٹ کے حوالے سے ہمیں یکڑوس اوّل کی مثال لینا ہو گی۔ یکڑوس اوّل محض سترہ سال دو مہینے چودہ دن نو گھنٹے پانچ منٹ سترہ سیکنڈ کی عمر میں اپنے باپ دبڑوس چہارم کی وفات کے بعد ریاست← مزید پڑھیے
’’تم ایک لڑکی ہو‘‘ ’’پڑھ لیا، اب گھر سنبھالو‘‘ ’’گھر میں رہو‘‘ ’’چار دیواری میں رہو‘‘ اور آخر میں یہ پیغام۔۔ ’’یہ جملے نہیں، داغ ہیں، یہ داغ ہمیں کیا روکیں گے‘‘ کنزیومر پروڈکٹس بنانے والی ایک ملٹی نیشنل کمپنی← مزید پڑھیے
پاکستان میں جو جمہوریت یا پارلیمانی نظام رائج چلا آ رہا ہے، اس میں یہ توقع خام خیالی ہے کہ کوئی ایسا عبقری وزیراعظم بن جائے جسے اندرونی سیاست، خارجہ امور اور معیشت پر یکساں دسترس حاصل ہو اور وہ← مزید پڑھیے
کہیں کچھ نہیں ہے کوئی نقش و پیکر ، کوئی شکل و تیور نہیں ہے نہ رخسار و لب ہیں ، نہ اُن کی دمک نہ قامت قیامت ، نہ رُت میں کشش ۔ ۔ ۔ نہیں کچھ نہیں ہے← مزید پڑھیے
“اک تارا اک چاند اور میں” جناب دانش عزیز کا پہلا مجموعہ کلام جس کا پہلا ایڈیشن 2013 میں شائع ہوا اور اس نے ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل کی، یہی وجہ ہے کہ اب 2019 میں اس مجموعہ ← مزید پڑھیے
واقعہ تازہ ہے مگر اپنی نوعیت کے اعتبار سے ہرگز نیا نہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شہری ہونے کی حیثیت سے ایسی درجنوں وارداتیں اپنے اردگرد اور خاندان میں دیکھ سن چکا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ آپ سب← مزید پڑھیے
معروف بلاگر اور معاصر سائیٹ “ہم سب” کے ایڈیٹر عدنان خان کاکڑ کو علیم خان گروپ سے تعلق رکھنے والے بدمعاشوں نے حبس بیجا کا نشانہ بنایا۔ کاکڑ صاحب کے مطابق کرایہ داری کے معاملے میں ان کو، ان کے← مزید پڑھیے
عالمی ادب کی تاریخ میں خواتین لکھنے والیوں کا ذکر, اٹھاویں صدی عیسویں سے قبل خال خال ہی ملتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ ایک بہت لمبی اور پیچیدہ داستان ہے۔ امرِ واقعہ یہی ہے کہ یونان کی سیفو, ہندوستان← مزید پڑھیے