کسی صدمے سے باہر کیسے نکلیں؟۔۔۔۔۔میاں جمشید

بھول جانا اور صبر آ جانا رب کی بہترین نعمتیں ہیں۔ ہر انسان کی زندگی میں کئی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ کسی کا وفات پا جانا، کسی کا دور چلے جانا ، چھوڑ جانا، حادثہ ہو جانا وغیرہ سمیت بہت سی باتیں ایسی ہیں جس سے ہر انسان کو واسطہ پڑتا ہے۔

جو تکالیف اچانک ملتی یا جن کے ہونے کا تصور بھی نہیں ہوتا ، ان میں واقعی بہت درد ہوتا ہے ۔ عجیب سی بے یقینی کی کفیت ہوتی  ہے ، بار بار ٹوٹنا و تڑپنا پڑتا ہے۔ خود پر بس نہیں چل رہا ہوتا، دلی جذبات و احساسات پر قابو نہیں ہو  پا رہا ہوتا ۔ تبھی پھر رونا، خاموشی ، اداسی، الگ تھلگ رہنا، دل نہ لگنا والی حالتیں ہمارے اندر بسیرا کر لیتی ہیں ۔

tripako tours pakistan

اس صورت میں بھرپور کوشش کریں کہ اپنے آپ کو شعوری طور پر تین بنیادی باتوں کا بار بار “احساس” دلوائیں۔ چاہے خود کلامی کرتے ہوئے  یا کسی اپنے قریبی سے سنیں۔

پہلی بات : کہ سنبھلنے میں اگرچہ تھوڑا وقت لگتا ہی ہے مگر” وقت گزر ہی جائے گا” اور آہستہ آہستہ دلی و ذہنی کیفیت میں مضبوطی آتی جائے گی ۔

دوسری بات: کہ ” صرف آپ خود ہی اپنے آپ کو دوبارہ  بہتر حالت میں   لا سکتے ہیں نہ  کہ کوئی اور۔ آپ کے آس پاس کے لوگ آپ کو اپنی باتوں سے حوصلہ و سہارا تو دے سکتے ہیں مگر اس حالت سے خود آپ نے ہی نکلنا ہے۔

تیسری بات : کہ اس میں ضرور رب کی کوئی مصلحت ہے ۔ بحیثیت مسلمان ہمارا یقین ہے کہ جو ہوتا  ہے رب کی طرف سے ہوتا ہے تو پھر موجودہ صدمے  کا اللہ تعالیٰ  بہترین بدل بھی عطا فرمائے گا ۔

Advertisements
merkit.pk

حرفِ آخر یہ ہے دوستو، کہ آپ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے  خود کو تیار رکھا کریں ۔ اپنے دل کی مضبوطی کو بڑھائیں۔ جیسے ہم روزانہ یا ماہانہ تھوڑی تھوڑی بچت کرتے  ہیں کہ کہیں مستقبل میں کام آ جائے ،اسی طرح اپنے مضبوط جذبوں و احساسات کو بھی حوصلے کے سیونگ باکس  میں جمع کرتے رہیں۔ روزانہ رب سے ہمت و حوصلہ کی دعا مانگا کریں کہ بعض دکھ و حادثات ہمیں مضبوط بنانے اور ایسا سبق سکھانے آتے  ہیں جو آگے زندگی میں کام آنے والے  ہوتے ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

میاں جمشید
میاں جمشید
میاں جمشید مثبت طرزِ زندگی کے مختلف موضوعات پر آگاہی ، رہنمائی اور حوصلہ افزائی فراہم کرتے ہیں ۔ ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply