• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • نیلم احمد بشیر کی کتاب “وحشت ہی سہی” کے بارے۔۔۔۔امجد اسلام امجد

نیلم احمد بشیر کی کتاب “وحشت ہی سہی” کے بارے۔۔۔۔امجد اسلام امجد

عالمی ادب کی تاریخ میں خواتین لکھنے والیوں کا ذکر, اٹھاویں صدی عیسویں سے قبل خال خال ہی ملتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

یہ ایک بہت لمبی اور پیچیدہ داستان ہے۔ امرِ واقعہ یہی ہے کہ یونان کی سیفو, ہندوستان کی میرا اور عرب کے  دورِ جہالت کی کچھ شاعر خواتین کے علاوہ ایسے نام مشکل سے ہی ملیں گے جو قدامت کے ساتھ ساتھ اپنے ادبی قد کی وجہ سے بھی معتبر اور قابلِ شناخت ہوں, اور تو اور تحریکِ احیائے علوم اور نشاۃ ثانیہ سے براہِ راست مستفید ہونے والے یورپ اور امریکہ میں بھی مختلف النوع سماجی حدود و قیود کی وجہ سے بہت عرصے تک خواتین کو مردوں کے قلمی نام سے لکھنا پڑتا تھا۔ اس سے باقی دنیا کی صورت حال کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

اردو زبان و ادب میں بھی بیسویں صدی سے قبل جو چند ایک نام ملتے ہیں ان کی حیثیت محض تاریخی ہے۔ اگرچہ مولانا حالی اور محمد حسین آزاد کی سرپرستی میں چلائی جانے والی جدید ادب کی تحریک میں کچھ خواتین لکھنے والیوں کے نام اور رسائل سامنے آئے مگر عملی طور پر ان کی نمایاں شمولیت کا آغاز 1920 کے لگ بھگ پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر ہوا۔ یہاں بھی شروع شروع میں قلمی یا کنیت آمیز ناموں کا رواج رہا کہ بالخصوص مسلمان معاشروں کا ماحول اس وقت اس کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ ان کی بہو بیٹیاں اپنے نام سے لکھیں۔ ایسے میں حجاب امتیاز علی, لیڈی سر عبدالقادر اور کچھ مزید خواتین آگے آئیں اور پھر ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر اس دور کا آغاز ہوا  جب خواتین لکھنے والیوں نے نہ صرف مردوں کے دوش بدوش اس میدان میں قدم رکھا بلکہ بعض صورتوں میں ان سے آگے بھی نکل گئیں۔مثال کے طور پر عصمت چغتائی, قراۃ العین حیدر, حاجرہ مسرور, خدیجہ مستور, جیلانی بانو, بانو قدسیہ, واجدہ تبسم, ادا جعفری, زہرہ نگاہ, کشور ناہید اور ان کے ہم عصر کچھ اور ناموں پر ایک نظر ڈالی جا سکتی ہے۔ 1960 سے 1990 کے درمیانی تین برسوں میں یہ فصل خاصی شاداب رہی اور بے شمار نام آئے جن میں سے کچھ نے غیر معمولی شہرت بھی حاصل کی مثلا ً پروین شاکر, فہمیدہ ریاض, بشری رحمٰن, خالدہ حسین, نورالہدی شاہ, حسینہ معین, تب سے 2015 تک کا زمانہ بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی کہا جا سکتا ہے کہ ان دنوں خواتین بالخصوص فکشن رائٹرز کمال کا لکھ رہی ہیں۔ جن میں سے نیلوفر اقبال, طاہرہ اقبال, فرحت پروین اور نیلم احمد بشیر تو اب اپنے دور کی پہچان کا مرتبہ حاصل کر چکی ہیں۔

نیلم احمد بشیر کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جسے “ہمہ آفتاب” یا “گنی” کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہو گا کہ مرحوم احمد بشیر نہ صرف خود ایک منفردقلم کار تھے بلکہ ان کی چاروں بیٹیوں نیلم, سنبل, بشری اور اسماء نے بھی فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبوں میں بے حد نام کمایا۔ اگرچہ اب بشریٰ  انصاری بھی فن کارہ کے ساتھ ساتھ ایک ڈرامہ نگار کی حیثیت میں اپنے آپ کو منوا چکی ہیں لیکن ادبی حوالے سے نیلم احمد بشیر کا نام ان میں سب سے معتبر اور نمایاں ہے۔

نیلم نے شادی کے بعد ایک طویل عرصہ امریکہ میں گزارا اور اب بھی ہر سال چند مہینے وہاں اپنے بچوں کے ساتھ گزارتی ہیں ۔ ان کا تازہ ترین افسانوی مجموعہ “وحشت ہی سہی” بھی اس سفر کا ایک اگلا پڑاؤ قرار دیا جا سکتا ہے۔ 232 صفحات پر مشتمل اس مجموعے میں 26 کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔
میں نیلم کی کہانیوں کا پرانا اور مستقل قاری ہوں۔ جس رواں دواں, سادہ مگر پُرکار اسلوب میں وہ بہت ادق, پیچیدہ اور قدرے ممنوعہ موضوعات پر کھل کر لکھتی اور اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کرتی ہے وہ اگر نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔

بیشتر اچھے افسانہ نگاروں کی طرح اس کی کہانیوں کے مرکزی کردار بھی اس کے مشاہدے اور تجربے دونوں کا مجموعہ ہوتے ہیں, اس لیے ان میں حقیقت اور مثالیت کا ایک ایسا انوکھا امتزاج نظر آتا ہے کہ یہ کردار کہانی ختم ہونے کے مدتوں بعد بھی نہ صرف آپ کو یاد رہتے ہیں بلکہ بعض اوقات عام زندگی میں دکھائی بھی دے جاتے ہیں۔ یوں وہ فکشن میں Reality کو اس طرح سے ساتھ لے کر چلتی ہے کہ اس کی کہانیاں اور کردار اپنے اپنے سے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ کہیں کہیں وہ کہانی کو افسانہ نگاروں کے مخصوص اور آزمودہ طریقے یعنی ایک Shocking Climax سے ہٹ کر ایسی جگہ پر ختم کر دیتی ہے جہاں بہت کچھ قاری کی فہم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

نیلم کے بیانیے کی اصل قوت اس کا مشاہدہ اور بے تکلّف اندازِ بیان تو ہے ہی مگر کردار نگاری میں بھی ان کا ایک اپنا انداز ہے۔اس کی کہانیوں میں سکرین پلے کے بعض عناصر بھی کہیں کہیں دَر آتے ہیں۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر وہ ان کہانیوں کو ڈرامے کی شکل میں لکھے تو وہ ایک اچھی اور کامیاب ڈرامہ نگار بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

ممتاز مفتی نے بہت برس پہلے اس کے بارے میں لکھا تھا۔
نیلم،احمد بشیر کی سب سے ٹیلنٹڈ بیٹی ہے،اور مجھے یقین ہے وہ ایک دن دنیائے ادب میں اپنی جگہ ضرور بنائے گی۔

سواِن کی پیش گوئی تو پوری ہوگئی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نیلم اپنی اس حاصل کردہ جگہ کو کس قدر پھیلاتی اور مستحکم کرتی ہے کہ کسی بلند مقام تک پہنچنا اپنی جگہ پر ایک مشکل عمل ہے،مگر اس جگہ پر اپنے قیام کو مستقل بنانا اس سے بھی مشکل تَر کام ہے۔سو اب اس کو پہلے سے زیادہ محتاط اور مشّاق ہونا پڑے گاکہ تخلیقی لکھاریوں کی ہر نئی تحریر ان کے اور ان کے قارئین کے لیے ایک نیا امتحان ہوتی ہے،کیونکہ فن کی دیوی بھی احمد ندیم قاسمی کے اس شعر جیسی ہوتی ہے کہ۔۔
جب بھی دیکھا تجھے عالمِ نو دیکھا ہے
مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *