• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ورلڈ کپ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی مایوس کُن کارکردگی۔۔۔۔۔سجاد حیدر

ورلڈ کپ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی مایوس کُن کارکردگی۔۔۔۔۔سجاد حیدر

کرکٹ ورلڈکپ 2019 کا اختتام ہوا اور کیا خوب ہوا۔ فائنل میچ صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ اس ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی پاکستانی شائقین کی نظریں سیمی فائنلز پر مرکوز تھیں۔ اگرچہ پہلے میچ سے ہی پاکستانیوں کی امیدوں پر پانی پھرنے کا سلسلہ  شروع ہو گیا لیکن اس کو 92 کے ورلڈکپ سے منسلک کر کے دلوں کو تسلی دی جاتی رہی ۔ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی بارشوں نے ایک عامل کا کردار سنبھال لیا اور لگتا تھا کہ یہ ٹورنامنٹ شاید ایک پھس پھسا ایونٹ بن جائے  گا،جس میں صرف بارش ہی فیصلہ کُن عامل ہو گی لیکن پھر موسم بہتر ہوتا گیا۔ پاکستانی شائقین کی امیدوں کا چراغ اگرچہ ٹمٹماتا رہا لیکن بجھا نہیں۔ پاکستان چند اچھے میچ کھیل کر بھی سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکا۔

دنیا کی تمام ٹیموں نے کئی سال پہلے سے 2019 کو سامنے رکھ کر پلاننگ شروع کر دی تھی لیکن پاکستان شاید واحد ملک تھا جس نے آخری سیریز کے بعد بھی ٹیم میں تبدیلی کا عمل جاری رکھا عامر اور وہاب ابتدائی اعلان کردہ سکواڈ میں شامل ہی نہیں تھے۔

سلیکشن کمیٹی کی کارکردگی پر اور بھی بہت سے سوالات ہیں لیکن اس وقت میرا موضوع کچھ اور ہے۔۔۔
کسی بھی کھیل میں ملک کی نمائندگی کرنے کے لیے کھلاڑی ڈومیسٹک ٹورنامنٹس میں پرفارم کرنے والوں میں سے چنُے جاتے ہیں پھر ان کھلاڑیوں کو سپورٹس اکیڈمیز میں تربیت دی جاتی ہے اور ان میں سے فائنل پندرہ یا سولہ کھلاڑی ملک کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن ہمارا ڈومیسٹک کھیلوں کا ڈھانچہ جس زبوں حالی کا شکار ہے، اسکا ذکر کرنا قارئین کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ بے شمار ایسی مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ ڈومیسٹک میں رنز کا ڈھیر لگانے والے بیٹسمین جب انٹر نیشنل میچز میں آزمائے جاتے ہیں تو چند میچز کے بعد ہی اس طرح سے ایکسپوز ہوتے ہیں کہ مخالف باؤلر کے لیے ترنوالہ بن جاتے ہیں۔ کیا ٹیکنیک میں کوئی خرابی ہے ،سٹیمنا کا مسئلہ ہے یا نفسیاتی طور پر مسائل کا شکار ہیں۔ میرے خیال میں ہمارے بیٹسمین ان تمام مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ پاکستان میں پہلے سیمیٹیڈ پچز انکی ٹیکنیک کو بگاڑتی ہیں تو بعد میں سلو پچز انکی ٹائمنگ خراب کرتی ہیں۔ چند ہی کھلاڑی ایسے ہوتے ہیں جو تیز گراسی پچز پر پرفارم کر سکیں۔ کئی کھلاڑی مواقع ملنے کے باوجود بین الاقوامی فورمز پر آئے اور چلے گئے کی مثال ہیں۔ ہماری باؤلنگ اگرچہ اچھی سمجھی جاتی ہے لیکن اسکے باوجود کئی بہت اچھی سپیڈ سے گیند کروانے والے اپنے غلط ایکشن کی وجہ سے پابندیوں کا شکار ہو کر اپنا کیریئر تباہ کر بیٹھے۔ ہم اچھی شہرت کے بین الاقوامی کوچز کو ہائر کرنے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔ ہمارے پاس یونس خان جیسے بہترین کھلاڑی موجود ہیں لیکن ہمارے سیاست زدہ بورڈ کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ انکی صلاحیتوں سے کماحقہ فائدہ اٹھا سکیں۔

دنیا بھر میں سکول ہی ہر کھیل کی پہلی نرسری ہوتی ہے۔ لیکن نہاہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے ہمارے سکول لیول پر نہ تو کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور نہ ا ن کو اچھی تربیت دی جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب پاکستان میں ہاکی کا سنہری دور تھا، وکٹری سٹینڈ پر پاکستان کی موجودگی لازمی ہوتی تھی تب ہر ٹیم میں گوجرہ کی نمائندگی لازمی ہوتی تھی اور واقفانِ  حال بتاتے ہیں کہ اس وقت کے گورنمنٹ ہائی سکول گوجرہ میں ایک کوچ تھے جن کی تربیت ان ہیروں کو تراش کر اس قابل بناتی تھی کہ دنیا کے ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑتے تھے۔ اب وہ لوگ کہاں گئے۔ انڈیا کی کرکٹ کے اپنے وقت کے سٹار بیٹسمین راہول ڈریوڈ کی خدمات جب بورڈ نے حاصل کیں تو ڈریوڈ کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ مجھے ینگ اکیڈیمی کی کوچنگ دی جائے۔ کہنے کی حد تک ہمارے ملک میں بھی ینگ اکیڈیمی موجود ہے لیکن اس کی آوٹ پُٹ ابھی تک نظر نہیں آئی۔

آپ بھلے بہترین غیر ملکی کوچز کی خدمات حاصل کریں لیکن کھیل کے ابتدائی دور میں جو خامیاں کھلاڑیوں کی ٹیکنیک میں رہ جاتی ہیں وہ بڑے سے بڑے کوچ بھی دور نہیں کر سکتے ۔ ڈومیسٹک میں چونکہ جدید  ذرائع کا استعمال نہیں ہوتا اور نہ ہماری ڈومیسٹک ٹیمز کے ذمہ داران اس طرح سے مخالف کھلاڑیوں پر ریسرچ کرتے ہیں کہ انکی کمزوریوں کو بھانپ کر اپنے کھلاڑیوں کو تیار کریں نتیجہ ہم اندھوں میں کانے راجے ڈھونڈ کر انہی کو بین القوامی درجے کے کھلاڑی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ہاکی میں دوبارہ پہلے والی حیثیت حاصل کرنا تقریباً  خواب بن چکی ہے۔ اور کرکٹ میں بھی ہم اسی ڈگر پر رواں دواں ہیں۔ تو جب راستہ وہی ہے تو خاکم بدہن منزل بھی وہی ہو گی۔

سجاد حیدر
سجاد حیدر
شعبہ تعلیم، یقین کامل کہ میرے لوگوں کے دکھوں کا مداوا صرف تعلیم اور تربیت سے ممکن ہے۔ استحصال سے بچنا ہے تو علم کواپنا ہتھیار بناٗو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *