کیا عوام تھوڑی فکر مند ہو سکتی ہے؟۔۔۔ذوالقرنین ہندل

SHOPPING

زیادہ پرانی بات نہیں،انتخابات کی تیاریاں پورے زور و شور کے ساتھ جاری تھیں۔ہر سیاسی پارٹی بڑے بڑے دعوے کر رہی تھی۔وہیں ایک پارٹی ’نیا پاکستان‘کا نعرہ لیے بہت سے پرانے سیاست دانوں کو ٹکٹ جاری کر چکی تھی۔مگر پھر بھی ملک بھر میں بڑا طبقہ بالخصوص نوجوان ان سے امیدیں وابسطہ کیے ہوئے تھے۔آخر کیوں نہ کرتے؟قبل از انتخابات بڑے بڑے دعوے جو کیے جا رہے تھے۔ریاست مدینہ کی باتیں ہورہی تھیں۔حضرت عمر رضی اللہ کی مثالیں دی جا رہی تھیں کہ’دجلہ و فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مرے تو ذمہ دار حکمران ہوتا ہے‘۔مہنگائی و معیشت میں بہتری کے لیے پریس کانفرنسیں منعقد کی گئیں، اعداد و شمار پیش کے گئے۔عوام کے گرد آلود ذہنوں کو جھنجوڑا گیا۔بے روزگار و مہنگائی سے ستائی عوام ایسے ہی حکمران چاہتی تھی، جو عوام کو آسانیاں مہیا کرتے۔آخر عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے انہیں منتخب کیا۔
حکومت میں آنے کے بعد عوام کو صبر کی تلقین کی جانے لگی۔کرپشن کے بہت سے اہم کیس کھولے گئے۔اگر چہ لوٹی ہوئی دولت کی ریکوری میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔لیکن عوام پُرامید ہے کہ، لوٹی ہوئی رقم جلد ملکی خزانے میں جمع ہوگی۔
بات معیشت کی ہو تو حکومت جب برسر اقتدار آئی تو انہیں خزانوں سے خالی تجوریوں کا سامنا کرنا پڑا۔آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کی ضد کو ختم کرنا پڑا۔سعودی عرب، دبئی اور قطر سے بھی قرض حاصل کیے گئے۔مگر معیشت ہے کہ،آج تک غیر مستحکم ہے۔خیر چھوڑئیے معیشت کو، عام آدمی کو اس کی کیا خبر۔ہاں مہنگائی سے عوام باخوبی واقف ہے۔اور جب مہنگائی کی باز گشت سنائی دیتی ہے، تو عام عوام خاصی متاثر ہوتی ہے۔حکومت قریب اپنے ایک سال میں نہ تو ڈالر کے عوض روپے کی بے قدری کو روک سکی ہے، نہ ہی مہنگائی کو۔بلکہ سارے حالات کی ذمہ داری گزشتہ حکومتوں پر ڈال رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ حکومتوں کی غلط پالیسیاں مشکل حالات کا سبب بن رہی ہیں۔مگر موجودہ حکومت بھی اپنی بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام ہو رہی ہے۔حکومت نے موجودہ حالات سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف کی مدد کے ساتھ ساتھ تجاویز پر عمل بھی شروع کر رکھا ہے۔جس کے ضمن میں آئے روز نت نئی انواع کے ٹیکس متعارف کروائے جا رہے ہیں۔

مصنف:ذوالقرنین ہندل

گزشتہ روز ملک بھر میں تاجروں کی ہڑتال کی چند بڑی وجوہات میرے نزدیک یہ ہیں۔۔پچاس ہزار یا اس سے زائد کے لین دین پر قومی شناختی کارڈ کا حصول لازمی قرار دیا جانا۔ٹیکسٹائل، چمڑے، کارپٹ، اسپورٹس، اور سرجیکل آلات کے لیے زیرو ریٹنگ سہولت ختم کر کے17فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنا۔قابل ٹیکس آمدنی کو چالیس لاکھ سے کم کر کے بارہ لاکھ کرنا۔

مانتے ہیں کہ مشکل حالات میں کچھ اہم فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔مگر تاجر اشرافیہ اور حکومت کی آپسی کشیدگی کے باعث ہونے والی ہڑتال سے نہ صرف قریب 25ارب کا معاشی نقصان ہوا بلکہ لاکھوں مزدور اپنی ایک دن کی اجرت سے محروم ہو گئے۔تاجر حضرات کے پاس تو اپنی نسلوں کے لیے دولت موجود ہوگی۔اور حکومت معاشی نقصان پورا کرنے کیلئے مزید ٹیکس لگا سکتی ہے۔مگر مزدور طبقہ جو پہلے ہی بے روزگاری اور مہنگائی کا ستایا ہوا ہے۔کیسے اپنے خاندان کی کفالت کرے گا؟کپڑے اور جوتے نہ ہی سہی، مگر اپنے بچوں کو کھانا کیسے کھلائے گا؟شاید حکومت کے پاس اس کا کوئی جواب ہو۔
بات اشرافیہ کی ہو تو یہ تو ہر حال میں سُکھی ہیں۔ٹیکس سے بچنے کی عادت پرانی ہے۔یہ ملک میں نا مناسب حالات کو دیکھ کر دوسرے ٹیکس فری ممالک میں سرمایا کاری کرلیں گے۔ٹیکس بچانے کے لیے آف شور کمپنیاں بنالیں گے۔ہمارے موجودہ و گزشتہ وزیراعظم بھی ایسے کام کر چکے ہیں۔اپنے مفادات کی خاطر ملکی معیشت کو داؤ پر لگانا ان کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔

کیا ٹیکس صرف تنخواہ دار طبقے اور عام عوام پر ہی مسلط ہوسکتا ہے؟اشرافیہ اس سے آزاد کیوں ہیں؟
تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتیں براہ راست دیگر اشیاء پر بھی اثر انداز ہورہی ہیں۔ڈالر اور سونے کی روپے کے عوض بے قابو اڑان نے درآمد ہونے والی اشیاء کو مہنگا کردیا ہے۔یہی نہیں بلکہ روٹی اور نان کی قیمتیں بھی بے قابو ہو رہی ہیں۔حکومت کھانے پینے کی اشیاء پر ٹیکس لگانے سے انکاری ہے۔مگر تندور مالکان آٹے اور گیس کی بڑھتی قیمتوں سے تنگ آ چکے ہیں۔آخر ذمہ دار کون ہے؟

SHOPPING

جہاں ہمارے وزیر اعظم عوام کو کہتے نہیں تھکتے کہ، فکر نہ کریں،صبر کریں،انتظار کریں وغیرہ وغیرہ۔وہیں موجودہ پارٹی کے حامی اور حکومت میں موجود وزراء و مشیران یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ، عوام کو قربانی دینا ہوگی،برداشت کرنا ہوگا۔پوچھنا یہ تھا کہ، غریب دیہاڑی دار اپنے روزگار سے محروم ہو کر کیسی قربانی دے؟ کیاخود کو ختم کر کے اپنی پریشانیوں سے نجات حاصل کر لے؟ البتہ!ایسا کرنا ہر گز حرام ہے۔حالات اتنے ہی کٹھن ہیں، تو ہمارے وزراء کی لسٹ کیوں بڑھتی چلی جا رہی ہے؟مشیران میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ اتحادی پارٹیوں کے نمائندوں کو وزراتوں کے پروٹوکول سے کیوں نوازا جا رہا ہے؟ کون سائیکل پر سفر کرتا ہے؟ہیلی کاپٹر کیوں استعمال ہورہا ہے؟ نئی گاڑیاں کیوں خریدی جا رہی ہیں؟ وزیروں و مشیروں کی تنخواہیں عام دیہاڑی دار کے برابر کیوں نہیں؟۔ حکومت چاہے کرپشن کرنے والوں سے ایک ایک پائی وصولے،چاہے جاگیرداروں و صنعتکاروں سے ٹیکس حاصل کرے۔عوام کو اس کی کوئی فکر نہیں۔فکر ہے تو صرف بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری کی۔ جناب وزیر اعظم صاحب! کیا ایسے حالات میں عوام تھوڑا فکر مند ہوسکتی ہے؟ یا میڈیا و سوشل میڈیا کی طرح عوام کی فکروں کو بھی سینسر کیا جائے گا؟
حکومت کی طرف سے بے جا ٹیکس،ڈالر کی اڑان، اور بے یقینی کی کیفیت نے چیزوں کی قیمتوں کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔جہاں سرمایہ دار ذخیرہ اندوزی کر کے منافع بٹور رہے ہیں۔وہیں عام دیہاڑی دار و تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے۔نجی کمپنیوں میں ڈاؤن سائیزنگ کا سلسلہ جاری ہے۔جس کا شکار راقم کے کئی انجینئر دوست بھی ہوچکے ہیں۔بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے۔ملک میں افراتفری   پھیلنے کا خدشہ ہے جو انتشار اور بدعنوانیوں کو پروان چڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔

SHOPPING

ذوالقرنین ہندل
ذوالقرنین ہندل
چوہدری ذوالقرنین ہندل گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،مکینیکل انجینیئر، اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *