ایمانداری اور صاف گوئی ۔۔۔ روبینہ شاہین

وہ کوئی مالدار خاتون نہ تھی، اس کی زندگی کی پونجی اس کی ایمانداری اور صاف گوئی ہی تھی۔ وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں سرخرو ہے، یہ احساس ہی اس کی زندگی کا حاصل تھا۔

اسے وہ وقت بھی یاد تھا جب وہ سکول کالج میں ایک اوسط درجے کی سٹوڈنٹ تھی۔ یہ الگ بات کہ اسے اس کا کبھی کوئی قلق نہ رہا۔ بھلا زندگی میں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ کی کلاس میں پوزیشن آتی ہے، یا آپ اوسط نمبروں سے پاس ہوتے ہیں۔ اصل امتحان تو یہ زندگی ہے، اور بہ فضل ربی اس امتحان میں وہ کامیاب ہی تھی۔۔۔ کہ ایمانداری اور صاف گوئی میں اس کا ثانی نہ تھا۔

اسے وہ وقت بھی یاد تھا، جب اسے محبت ہوئی، اور اس کی صاف گوئی نے اس کے لئے مسائل کھڑے کر دیئے۔ محبت کھونے کا دکھ اپنی جگہ، لیکن اس کے لئے یہ بہت اہم تھا، کہ اس نے نہ صاف گوئی کا دامن ہاتھ سے جانے دیا، نہ ایمانداری کا۔

اسے وہ دن بھی یاد تھے، جب اس کے والدین اس کے لئے بہت پریشان رہنے لگے۔ ایمانداری اور صاف گوئی، جو اس کی زندگی کا حاصل تھے، ان سے ناتا تب بھی نہ ٹوٹ پایا۔۔۔ گو والدین کی سانسوں کی ڈور ٹوٹ گئی۔

اسے وہ دن بھی یاد تھے، جب ایک عزیز کے گھر میں، خاتون خانہ گھر کے افراد سے بہت زیادتی کیا کرتی تھی۔ اس کی ایمانداری اور صاف گوئی کا ہی کرشمہ تھا کہ اس گھر کا بڑا بیٹا اپنی ہی ماں کے ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا، اور بہت شان سے زندگی بسر کرنے والی “ظالم ماں” اپنی زندگی کے آخری حصہ میں در بدر ہوئی۔

اسے وہ دن بھی یاد تھے جب اس کے آفس میں لوگ کام چوریاں اور ہڈ حرامیاں کرتے تھے، اور اس کی ایمانداری اور صاف گوئی کی بدولت ہی باس اس صورت حال پر قابو پانے میں کامیاب ہو پایا۔

زندگی میں قدم قدم پر اس ایمانداری اور صاف گوئی نے جانے کون کون سے کرشمے اس دنیا کو دکھلائے، لیکن اس کے لئیے یہ بات بہت باعث طمانیت تھی کہ نہ ضمیر پر بوجھ، نہ زندگی میں کوئی پچھتاوا۔

کاش وہ زندگی کے کسی لمحے میں جان جائے کہ ایمانداری اور صاف گوئی انسانوں سے ہمدردی بنا کچھ نہیں۔ یہ انسانی ہمدردی ہی ہے جو ایمانداری اور صاف گوئی کو، زحمت سے رحمت اور عیب سے وصف بنا دیتی ہے۔۔۔ کاش وہ جان جائے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *