ہور دَس کِنے موقعے چاہیدے تینوں ؟۔۔۔۔۔۔۔۔محمد اشفاق

پاکستان میں جو جمہوریت یا پارلیمانی نظام رائج چلا آ رہا ہے، اس میں یہ توقع خام خیالی ہے کہ کوئی ایسا عبقری وزیراعظم بن جائے جسے اندرونی سیاست، خارجہ امور اور معیشت پر یکساں دسترس حاصل ہو اور وہ اتنا ذہین و فطین اور معاملہ فہم بھی ہو کہ طاقت کے تمام داخلی و خارجی مراکز کو ساتھ لے کر چل سکے۔ یہاں بڑی حد تک یہ آن دی جاب ٹریننگ ہے، آپ کو حلف اٹھانے کے بعد بہت سی حقیقتوں کا ادراک ہوتا ہے- بعض کو کبھی نہیں ہوتا۔ ایسے میں پارٹی کے سینئر اراکین اور کابینہ پر ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ انہیں اپنے وزیراعظم کو بروقت اور صائب مشورے دینا ہوتے ہیں۔ اسے غلط فیصلے کرنے سے بچانا ہوتا ہے اور اس کے غلط فیصلوں کا نقصان کم سے کم کرنے کی کوشش کرنی  ہوتی  ہے۔

میاں نواز شریف اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید بھی جب پہلی پہلی بار وزارت ِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تو وہ اناڑی تھے۔ بی بی شہید کو اپنے والد کی تربیت، اعلیٰ تعلیم اور بہت سینئر سیاسی راہنماؤں کی رفاقت کا ایڈوانٹیج حاصل تھا۔ اس کے باوجود ان سے کئی غلطیاں سرزد ہوئیں۔ میاں صاحب کو تو ضیاء دور کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں سامنے آنے والے موقع پرست میسر آئے تھے، آپ خود بھی انہی میں سے ایک تھے۔ مسلم لیگ کی چھتری کے نیچے بھان متی کا ایک کنبہ آباد تھا۔ خود میاں صاحب ان دنوں معاملات کے بہت سادہ اور آسان حل پہ یقین رکھا کرتے تھے۔ نتیجہ نوے کی دہائی کی سیاسی چپقلش، خلفشار اور بے یقینی کی صورت قوم کے سامنے آیا۔

لیکن اس سارے عمل کے بعض فوائد بھی ہوئے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ دونوں میں صف ِ دوم کی قیادت سے بعض لوگ ابھر کر سامنے آئے۔ انہوں نے اپنے اپنے پارٹی لیڈر کی مشاورت اور تربیت کی ذمہ داری سنبھالی اور بڑی حد تک اپنی اپنی جماعت کی سیاسی ساکھ اور طاقت بچانے میں کامیاب رہے۔ لیکن ایک بڑا فیکٹر دونوں جماعتوں کے راہنماؤں کی عمر کا بھی تھا۔ جس عمر میں ہم ایسوں نے سیاسی تبصرے شروع کیے ، میاں صاحب اور بی بی شہید اس عمر میں ایک ایک بار وزیراعظم بن چکے تھے۔ ان کے سیکھنے اور تبدیل ہونے کا عمل ابھی سُست نہیں پڑا تھا۔ اپنے نظریات اور تصورات میں وہ شدت پسند نہیں بنے تھے۔ اقتدار کی راہداریوں، اپوزیشن کی سیاست، جلاوطنی اور سزاؤں نے بالآخر دونوں کو سیاستدان سے لیڈر بنا ڈالا۔

خان صاحب کا معاملہ منفرد یوں ہے کہ جس وقت یہ دونوں یکے بعد دیگرے وزیراعظم بن چکے تھے، جناب تب کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ سیاسی جماعت کی داغ بیل ڈالی تو ملک کی دائمی اپوزیشن جماعت ہونے کا اعزاز میسر آیا۔ ربع صدی خان صاحب نے اپوزیشن کی سیاست میں گزار دی، تب کہیں جا کر اقتدار کی دیوی مہربان ہوئی۔ 67 برس کی عمر میں پہلی بار وزارت ِ عظمیٰ سنبھالنا وہ بھی یوں کہ آپ کو چھ ماہ بھی کسی حکومتی عہدے پر کام کرنے کا تجربہ نہ ہو، بہرحال ایک چیلنج ہے- پھر آپ سیکھنے سکھانے کے دور سے بہت دور نکل آئے ہیں۔ غلط یا درست، کچے یا پکے، جناب کے جو بھی نظریات و خیالات ہیں اب ان میں تبدیلی یا لچک کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔معیشت اور امور خارجہ پہ انہیں جتنی دسترس حاصل ہے، اس کا اندازہ پچھلے گیارہ ماہ میں بننے والے لطیفوں سے لگایا جا سکتا ہے- داخلی سیاست پر ان کی رائے سے ہم لوگ برسوں سے واقف ہیں۔ ایسے میں بہت بھاری ذمہ داری جناب کے مشیروں اور کابینہ کے کندھوں پر پڑ جاتی ہے۔ یہ ان خواتین و حضرات کا کام ہے کہ جناب کو معاملات کا صحیح رُخ دکھائیں اور غلط فیصلوں سے روکیں۔ لیکن جہاں جناب نعیم الحق، عون چوہدری، فیصل واڈا، زلفی بخاری جیسے مشیران میسر ہوں وہاں خوش امیدی حماقت ہی کہلاتی ہے۔ جہانگیر ترین قابل ترین اور قریب ترین مشیر ہیں، ان کی موجودگی کچھ ڈھارس بندھاتی ہے۔ مگر جناب آج کل اپنی انویسٹمنٹ پہ ریٹرن کے چکروں میں الجھے ہوئے ہیں۔

ایسے میں غلط فیصلے ہونا تعجب یا حیرانی کی بات ہرگز نہیں۔ رانا ثناء اللہ کے معاملے ہی کو لے لیجیے۔ یہ وفاقی وزیر داخلہ جناب اعجاز شاہ کا کارنامہ ہے۔ ایسے بھونڈے اور بھدے طریقے سے یہ کاروائی ڈالی گئی ہے کہ کسی کے لیے  بھی اس کا دفاع مشکل ہو رہا ہے۔ رائے عامہ کے غالب حصّے نے اس کہانی کو مسترد کر دیا ہے- جبکہ اعجاز شاہ اس پر وزیراعظم سے شاباشی لیے  بیٹھے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ میسر آنا بہت بڑی خوش نصیبی ہوتی ہے مگر خان صاحب کی قسمت کہ انہیں یہاں بھی جنرل باجوہ نصیب ہوئے۔ پوسٹ مشرف جتنے بھی آرمی چیف آئے ہیں جناب ان میں نالائق ترین ثابت ہوئے ہیں۔ کیانی اور راحیل شریف جیسے بھی تھے، اپنے ادارے کی نیک نامی اور ساکھ کو مشرف کے بعد وہ آسمان پر لے گئے تھے۔ باجوہ ڈاکٹرائن ملک کے ساتھ تو جو کر رہی ہم بھگت ہی رہے ہیں، خود ان کے ادارے کی ساکھ اور نیک نامی کا وہ معیار نہیں رہا جو ان سے قبل تھا۔

مجھے لگتا ہے کہ ہمارے اجتماعی گناہ حد سے بڑھ گئے تھے اس لیے  ہم پر خالق ِ کائنات نے چن کر یہ نابغے مسلط کیے  ہیں۔ آج کل میں ثاقب نثار کو بری طرح مِس کر رہا ہوں، کاش وہ بھی ایکسٹنشن لے لیتے تو وطن عزیز نثار، باجوہ اور خان کی تگڈم کی بدولت جانے کہاں پہنچ جاتا۔ سوچ کر ہی ڈر لگتا ہے-

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *