پیہو۔۔۔۔۔فلم ریویو/مریم مجید ڈار

غصہ، شک، جذباتیت اور ان کے دباؤ میں کیے  گئے فیصلے کس قدر بھیانک اثرات رکھتے ہیں اگر ہم جان لیں تو اس چند گھڑی کے ابال کو کسی نہ کسی طور پر جھیل کر اس لمحے کو ٹال دیں جو قتل یا خودکشی جیسے پاگل پن پر لے جاتا ہے۔ اور خصوصا ً اگر آپ ایک خاندان ہیں تو آپ کی اس حرکت کا خمیازہ پوری فیملی کو کس طرح بھگتنا پڑ سکتا ہے ،اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آپ “پیہو” دیکھ سکتے ہیں۔

ونود کاپرے کی لکھی گئی فلم “پیہو” ایک تھرلر ڈرامہ ہے جو 2018 میں ریلیز کی گئی اور بیسٹ فیچر فلم قرار پائی۔ فلم میں بہت کم کردار ہیں جن میں سکرین پہ ہم صرف ایک دو سال کی بچی پیہو کو دیکھتے ہیں جو اس فلم کا واحد متحرک کردار ہے۔

فلم شروع ہوتی ہے ایک ننھی معصوم دو سالہ بچی پیہو کے نیند سے بیدار ہونے پر جو اپنی ماں پوجا کے ساتھ اس کے بیڈ پر لیٹی ہے۔
بچی جاگنے کے بعد اپنی ماں کو جگاتی ہے کیونکہ وہ بھوکی ہے مگر اس کی ماں بے حس و حرکت پڑی رہتی ہے۔ اور کچھ شاٹس کے بعد ہم جان لیتے ہیں کہ پوجا یعنی بچی کی ماں مر چکی ہے۔
یعنی ایک بند گھر میں ایک بچی اپنی مردہ ماں کے ساتھ اکیلی ہے اور پیارا گھر ایک بچے کی جان کے لیے   کیسے کیسے خطرات سے بھرا ہوتا ہے اس کا احساس فلم دیکھتے ہوئے ہر لمحہ ہوتا ہے۔
گھر میں جگہ جگہ آرائشی لائٹس، غبارے اور چمکیلے کاغذ کی لڑیاں لٹک رہی ہیں، فرش پر جابجا گفٹ پیکس پڑے ہیں کیونکہ گزشتہ شب ننھی پیہو کی دوسری سالگرہ تھی اور اس میں دیر سے آنے کے سبب پوجا یعنی پیہو کی ماں اپنے شوہر گورو سے جھگڑا کرتی ہے اور اس پر اپنی دوست اور اسکی کولیگ میرا سے تعلقات کا الزام لگاتی ہے۔ (یہ مناظر فلم میں موجود نہیں ہیں بلکہ یہ ہمیں گورو کے پے در پے آنے والے فونز سے معلوم ہوتا ہے)۔

بھوکی پیہو ماں کو اٹھانے کی ناکام کوششوں کے بعد اپنے طور پر وہ سب کرتی ہے جس کی ہم ایک دو سالہ بچے سے توقع رکھتے ہیں۔ وہ گیزر آن کر دیتی ہے، کچن میں جا کر روٹیاں گرم کرنے کی کوشش میں مائیکرو ویو اور گیس برنر آن کر کے اپنی جان اور ویورز کے اعصاب کا امتحان لیتی ہے۔ کچن کی سنک کا نل کھلا ہے جس سے مسلسل پانی بہہ رہا ہے۔ ایک موقع پر جب پیہو اپنے آپکو فریج میں بند کر لیتی ہے تو دیکھنے والوں کی سانس ایک بار تو اٹک جاتی ہے کہ اب اس معصوم کے ساتھ کیا ہو گا۔

گورو بار بار پوجا کو کال کر رہا ہے کیونکہ وہ استری کا سوئچ آن چھوڑ آیا تھا اور اسے پیہو کی فکر ہے کہ وہ ہاتھ نہ جلا لے مگر فون اونچائی پہ دھرا ہے۔ پیہو اسے اتارنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر الماری کے نیچے گر جاتا ہے تاہم کسی طرح گورو کی کال اٹینڈ ہو جاتی ہے اور وہ خاموشی کو پوجا کی ناراضگی پر محمول کرتے ہوئے اسے سخت سست سناتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ ایک میٹنگ کے سلسلے میں کولکتہ ہے اور کل آئے گا لہذا وہ پیہو کا خیال رکھے۔ پیہو باپ سے لایعنی باتیں کرتی ہے اور بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ ماں اٹھ نہیں رہی مگر گورو صورتحال کا اصل ادراک کرنے میں ناکام رہتا ہے۔

پیہو فریج میں بچے ہوئے کھانے سے اپنا پیٹ بھرتی ہے اور ماں کو جگانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اس کے سینے پر لیٹ کر خود بھی سو جاتی ہے۔ اس دوران بار بار فون بجتا رہتا ہے جسے معصوم بچی ہی اٹینڈ کرتی ہے مگر اس کا باپ صورتحال کی خوفناکی کو سمجھنے سے  قاصر رہتا ہے ۔

فلم میں متعدد سین ایسے ہیں جو ویورز کو بار بار گوز بمپس دیتے ہیں، مثلاً  جلتی ہوئی استری سے پیہو کا الجھنا، سیڑھیوں سے پھسلنا اور خصوصاً تب جب پیہو اپنی بلڈنگ کی بالکونی سے اپنی گڑیا گرا بیٹھتی ہے اور پھر اسے اٹھانے کے لیے  ریلنگ پر جھول رہی ہوتی ہے۔ ایک قدم پھسلا اور معصوم بچی بلندی سے گر کر دردناک موت سے ہمکنار ہو جائے گی۔

فلم میں ایک نہایت دردناک منظر تب دیکھنے کو ملتا ہے جب بچی بار بار اپنی ماں سے دودھ پلانے کا اصرار کرتے ہوئے تھک ہار کر اس کی شرٹ کا گریبان کھول کر دودھ پینے کی کوشش کرتی ہے۔ دیکھنے والا پیہو کے ہر قدم کے ساتھ خود کو بندھا محسوس کرتا ہے۔

ایک موقع پر جب بچی ماں کو زور زور سے جھنجھوڑتی ہے تو اس کے ہاتھ سے نیند کی گولیوں کی بوتل نکل کر فرش پر گر جاتی ہے اور ہر طرف گولیاں بکھر جاتی ہیں۔ اب سانس مزید اٹک جاتی ہے جب بچی ماں سے کہتی ہے ممی میں دوائی کھا لوں؟۔

گورو بار بار فون کرنے پر بھی جب پوجا سے بات نہیں کر پاتا اور پیہو یہی کہتی ہے کہ ممی سو رہی ہے تو اسے کسی گڑبڑ کا احساس ہوتا ہے اور وہ ائیرپورٹ کی طرف بھاگتا ہے تا کہ فلائٹ لے کر بچی کے پاس پہنچ سکے وہ اسے فون بند نہ کرنے کی تاکید کرتا ہے مگر بیٹری ڈیڈ ہو جاتی ہے اور فون بند ہو جاتا ہے۔

بچی ایک بار پھر ماں کے پاس چلی جاتی ہے اور اس بار وہ فرش سے کچھ گولیاں اٹھا کر کھا لیتی ہے۔ آگے کیا ہوا، کیا گورو اپنی بیوی کے ساتھ بیٹی کو بھی کھو دے گا؟؟ کیا ننھی پیہو اپنی ماں کی جذباتیت کے ہاتھوں کیے  گئے فیصلے کا شکار ہو جائے گی یا گورو وقت پر پہنچ پائے گا یا نہیں ؟

یہ جاننے کے لیے  آپکو فلم دیکھنی پڑے گی جو آپ کا انہماک ایک لمحے کے لیے بھی کمزور نہیں ہونے دے گی۔ اگرچہ فلم بینوں کے اعصاب پر یہ خاصی گراں گزرے گی خصوصاً  ان ماؤں کے لیے جن کے بچے پیہو کی عمر کے ہیں مگر پھر بھی میں چاہوں گی کہ وہ اس فلم کو لازماً  دیکھیں اور ان غیر ضروری جذبات اور فوری ردعمل سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں جو ایک ہیپی فیملی کو اتنے ٹریجک انجام تک لے آتے ہیں۔

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *